پیارے اسلامی بھائیو آج کے اس پر فتن اور ہوش ربا ماحول میں جہاں معاشیات کے نئے نئے مسائل پیش آ رہے ہیں وہیں عقائد و نظریات کو تبدیل کرنے کی بھی بہر پور کوشش کی جا رہی ہے اور سادہ لوح حنفی مسلمانوں کو اسلاف کے طرز فکر و عمل سے منحرف کرنے کے لیے حيرت انگیز نت نئی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں احکام شرعیہ سے ناواقفیت کی بنا پر سادہ لوح حنفی مسلمان اصول دین سے منہ پھیر کر فروعی مسائل میں الجھ رہے ہیں اس قسم کے مختلف فیہ فروعی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ اقامت کے وقت کھڑے ہونے کا بھی ہے۔
اہل سنت والجماعت بریلوی حضرات کا نظریہ یہ ہے کہ اقامت بیٹھ کر سننا چاہیے اور "حي علی الصلاۃ "یا "حي علی الفلاح" پر کھڑے ہونا چاہیے ، کھڑے کھڑے سننا مکروہ ہے جس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ اور صاحبین کا یہی مذہب اور معمول ہے اور ہم ان کے مقلد ہیں لہذا ان کے قول پر عمل کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔
اور دیوبندیوں کی اختراعی رائے یہ ہے کہ اقامت کھڑے ہو کر سننا ضروری ہے اس کی دلیل پوچھیے تو عام دیوبندی یہ کہتے ہیں کہ شروع سے مسلمانوں کا یہی طریقہ ہے کہ وہ کھڑے ہو کر تکبیر سنا کرتے تھے اور اس میں نماز کی تعظیم ہے اور اگر ان کے خواص سے اس کا سبب دریافت کیا جائے تو کہتے ہیں کہ اگر حي علی الفلاح پر کھڑا ہوا جائے تو نماز شروع ہونے تک صف سیدھی نہیں ہو پائے گی جبکہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صف سیدھی کرنے کا تاکیدی حکم فرمایا ہے اور یہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔
غالباً حنفی کہلانے والی عوام کا یہ آپسی اختلاف مسئلہ کی حقیقت سے واقف نہ ہونے یا تبلیغی جماعت کے امیروں کی چالبازیوں کی بنا پر ہے جو مکروہ اور خلاف ادب عمل کو سنت بتا کر حنفی مسلمانوں کو شروع تکبیر سے کھڑے ہونے پر امادہ کرتے ہیں۔
یہ مضمون انہی دو آراں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے پیش کیا جاتا ہے لہذا ائیے تعصب و عناد کی عینک اتار کر خلوص و للہیت کے ساتھ مندرجہ ذیل سطور کا بغور مطالعہ کریں پھر نیک نیتی اور منصفانہ مزاج سے اس مسئلے میں حق اور باطل اور کھرے کھوٹے کے درمیان امتیاز کریں ۔
اقامت کے وقت مقتدی کب کھڑے ہوں ؟
اقامت کے وقت مقتدیوں کے کھڑے ہونے کی تین نوعیتیں ہیں اور ہر ایک کا حکم جداگانہ ہے اس لیے مناسب یہ ہے کہ پہلے یہ تینوں صورتیں واضح کر دی جائیں اور ساتھ ہی ساتھ ہر ایک کے احکام اور حوالہ جات بھی پیش کر دیے جائیں ۔
ان تینوں صورتوں کی حقیقت ان فقہاے کرام کے اقوال کی روشنی میں واضح کی جائے گی جنہیں نہ بریلوی کہا جاتا ہے اور نہ دیوبندی بلکہ وہ صرف سنی حنفی کہلاتے ہیں اور ان کے اقوال تمام حنفیوں کے لیے خواہ وہ اہل سنت سے ہوں یا دیوبندی مکتبہ فکر سے یکساں مستند ہیں۔
پہلی صورت
پہلی صورت یہ ہے کہ اگر اقامت کے وقت امام و مقتدی سب مسجد کے اندر موجود ہوں اور امام کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اقامت کہے جیسا کہ ہمارے یہاں عام دستور یہی ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ مقتدی اگر کھڑے ہوں تو بیٹھ جائیں اور جب اقامت کہنے والا حي علی الصلاۃ پر پہنچے تو اٹھنا شروع کریں اور حي علی الفلاح پر سیدھا کھڑے ہو جائیں اس صورت میں اقامت شروع ہوتے ہی مقتدیوں کا کھڑا ہو جانا یا کھڑے ہو کر اقامت سننا مکروہ ہے بلکہ حکم تو یہاں تک ہے کہ اگر کوئی شخص درمیان اقامت حي علی الصلاۃ سے پہلے مسجد میں ایا تو بیٹھ جائے اور حي علی الفلاح پر کھڑا ہو۔
دلائل:
امام الائمہ حضرت علامہ شمس الائمہ محمد بن احمد بن سہل سرخسی علیہ الرحمۃ والرضوان(متوفی ۴۸۳ھ) اپنی کتاب "المبسوط فی شرح الکافی" میں یہ مسئلہ اس عبارت میں بیان فرماتے ہیں:
"فان كان الامام مع القوم في المسجد فاني احب لهم ان يقوموا في الصف اذا قال المؤذن حي على الفلاح فاذا قال قد قامت الصلاه كبر الامام والقوم جميعا في قول ابي حنيفة ومحمد رحمهم الله وان اخروا التكبير حتى يفرغ المؤذن من الاقامة جاز . وقال ابو يوسف رحمه الله لا يكبر حتى يفرغ المؤذن من الاقامة وقال زفر اذا قال المؤذن مرة قد قامت الصلاة قاموا في الصف واذا قال ثانيا كبروا"
ترجمہ: اگر امام مقتدیوں کے ساتھ مسجد کے اندر موجود ہو تو ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ جب مکبر حي علی الفلاح کہے اس وقت سب صف میں کھڑے ہوں پھر جب قد قامت الصلاۃ کہے تو امام اور مقتدی سب تکبیر تحریمہ کہیں یہ امام اعظم اور امام محمد رحمہم اللہ کا موقف ہے اور اگر تکبیر تحریمہ کو مؤخر کریں حتی کہ مکبر اقامت سے فارغ ہو جائے تو یہ بھی جائز ہے
اور امام ابو یوسف نے فرمایا جب تک مکبر اقامت سے فارغ نہ ہو جائے اس وقت تک تکبیر تحریمہ نہ کہیں اور امام زفر نے فرمایا جب مکبر پہلی بار قد قامت الصلاۃ کہے تو صف بندی کریں اور جب دوسری بار کہے تو تکبیر تحریمہ کہہ لیں ۔
(المبسوط فی شرح الکافی ، باب افتتاح الصلاۃ. ج,۱ ، ص ۳۹)
اختصارا یہاں ایک ہی دلیل پر اکتفاء کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ درج ذیل حوالہ جات پر بھی اپ دلائل ملاحظہ فرما سکتے ہیں:
(مؤطا امام محمد للامام محمد الشیبانی ،متوفی ۱۸۹ھ ، باب تسویۃ الصف ، ص ۸۹, مجلس برکات)
( الفتاوی الولواجیۃ للامام ابو الفتح ظہیر الدین عبد الرشید متوفی ۵۴۰ھ ، الفصل الثانی فی الاذان ، ج ۱ ، ص۷۳ ، دار الکتب العلمیہ بیروت)
(فتاویٰ قاضی خان ، ج۱، ص۴۲)
(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع للامام علاء الدین ابو بکر متوفی ۵۸۷ھ ، فصل فی سنن حکم التکبیر ایام التشریق)
( شرحِ وقایہ للعلامہ محمود بن صدر الشریعہ متوفی ۶۷۳ھ ، ج۱ ، ص۱۵۷ ، قبیل باب شروط الصلاۃ ، مجلس برکات)
(شرح النووی للمسلم للعلامہ محي الدین یحيیٰ بن شرف الدین متوفی ۶۷۶ھ ، باب متی یقوم الناس للصلاۃ)
(کنز الدقائق مع تبیین الحقائق للعلامہ ابو البرکات حافظ الدین عبداللہ بن احمد نسفی متوفی ۷۱۰ھ ،ج۱, ص۲۸۳, باب آداب الصلاۃ ، مرکز اہل السنت برکات رضا)
(عمدۃ القاری شرح بخاری للشیخ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ھ ، ج۵, ص۱۵۴،بیروت لبنان)
دوسری صورت
وقت اقامت امام مسجد میں نہ ہو خواہ اپنے حجرہ میں ہو یا کہیں اور ہو ۔
اس صورت میں حکم یہ ہوگا کہ مکبر جب تک امام کو اتا ہوا نہ دیکھیے اقامت نہ کہے لیکن اگر جماعت کا مقررہ وقت ہو گیا اور مکبر نے اقامت شروع کر دی تو مقتدی اس وقت تک کھڑے نہ ہوں جب تک کہ امام مسجد میں داخل نہ ہو جائے اگرچہ اقامت ختم ہو چکی ہو اب اگر امام سامنے سے مسجد میں داخل ہو تو سب دیکھتے ہی کھڑے ہو جائیں اور اگر صفوں کی طرف سے ائے تو جس صف سے گزرے وہ صف والے کھڑے ہو جائیں
دلائل:
بخاری شریف کی روایت ہے" عن عبد الله ابن ابي قتادة عن ابيه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني "
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو کھڑے نہ ہو یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو ۔
(صحيح البخاری ، باب متی یقوم الناس اذا رأوا الامام عند الاقامۃ ۔ حدیث نمبر ۲۲)
یہاں اختصارا ایک ہی دلیل پر اکتفاء کیا جاتا ہے اس کے علاوہ درج ذیل حوالہ جات پر بھی دلائل ملاحظہ فرما سکتے ہیں:
(صحيح مسلم ،باب متی یقوم الناس للصلاۃ ،حدیث نمبر ۳۰)
(مشکوۃ المصابیح ، ص۶۷. مجلس برکات جامعہ اشرفیہ ،)
(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ، فصل فی سنن حکم التکبیر ایام التشریق)
(الفتاوی الھندیۃ, الفصل الثانی فی کلمات الاذان و الاقامۃ و کیفیتھما)
(عمدۃ القاری شرح صحيح البخاری ، باب متی یقوم الناس اذا رأوا الامام عند الاقامۃ)
(الدر المختار ، ج۱، ص۵۱۶، دار الفکر بیروت)
تیسری صورت
امام اور مقتدی مسجد کے اندر موجود ہوں اور امام خود ہی اقامت کہے اس صورت میں حکم یہ ہوگا کہ سب لوگ بیٹھ کر اقامت سنیں اور اس وقت تک کھڑے نہ ہوں جب تک امام اقامت سے فارغ نہ ہو جائے ۔
دلائل:
فتاویٰ عالمگیری میں ہے "وان كان المؤذن والامام واحدا فان اقام في المسجد فالقوم لا يقومون ما لم يفرغ من الاقامة"
ترجمہ: اگر مکبر ہی امام ہو اور مسجد کے اندر اقامت کہے تو مقتدی کھڑے نہ ہوں جب تک کہ وہ اقامت سے فارغ نہ ہو جائے ۔
(الفتاوی الھندیۃ, الفصل الثانی فی کلمات الاذان و الاقامۃ و کیفیتھما)
طوالت سے بچنے کے لئے یہاں ایک ہی دلیل پر اکتفاء کیا جاتا ہے اس کے علاوہ درج زیل حوالہ جات پر بھی دلائل ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں:
(در مختار ، آداب الصلاۃ ، ج۱ ، ص۵۱۶ ، دار الفکر بیروت ، لبنان)
(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ، آداب الصلاۃ)
(مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر ،باب صفۃ الاذان)
(المحيط البرھانی ،باب فی الفصل بین الاذان و الاقامۃ)
پیارے سلام بھائیوں اس مسئلے میں متقدمین فقہاء کی تصریحات اس قدر ہیں جن کو جمع کرنا طول کا باعث ہے بس ہم مقلدوں کے لیے یہ جان لینا ہی کافی ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ اور صاحبین رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مذہب یہی ہے کہ حي علی الصلاۃ پر کھڑا ہونا شروع کیا جائے
مذکورہ حوالہ جات کی عبارتوں کو پڑھنے کے بعد ہر ذی شعور شخص باسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ حي علی الصلاۃ پر کھڑا ہونا ہی اسلاف کا طریقہ رہا ہے جس سے دیوبندیوں نے انحراف کر کے قوم مسلم کے درمیان انتشار پیدا کیا ہے
کیا بیٹھ کر تکبیر سننا بریلویوں نے ایجاد کیا ہے ؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جو مذکورہ حوالہ جات کی عبارتوں کو پڑھ لینے کے بعد بے معنی سا معلوم ہوتا ہے کیونکہ کتابوں کے حوالہ جات اور مصنفین کی تاریخ وفات سے اپ کو معلوم ہو چکا ہوگا کہ یہ مسئلہ نیا نہیں ہے جسے بریلویوں کی ایجاد کہا جائے کیونکہ بیٹھ کر تکبیر سننا اور حي علی الصلاۃ پر کھڑا ہونا تو خیر القرون سے جاری ہے اور یہی امام اعظم ابو حنیفہ کا مذہب بھی ہے۔
ہاں اگر یہ کہا جائے کہ مقلد بننے کے باوجود مذہب امام اعظم کے خلاف کھڑے ہو کر تکبیر سننا دیوبندیوں کا اختراعی عمل ہے تو یقینا بجا اور درست ہوگا اب اپ خود ہی یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ سنی (بریلوی) بدعتی ہیں یا دیوبندی؟
کیا بیٹھ کر تکبیر سننے میں صف سیدھی نہیں ہو سکتی ؟
بیٹھ کر اقامت سننا صفیں درست کرنے سے مانع نہیں ہے حي علی الصلاۃ اور حي علی الفلاح پر کھڑے ہو کر بھی صفیں اچھی طرح درست کی جا سکتی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ دل میں عبادت اور ریاضت کا ذوق اور صحابہ کرام اور تابعین عظام علیہم الرضوان کی زندگی کو عملی نمونہ بنانے کا شوق بھی ہو ۔ شروع تکبیر سے کھڑے ہونا اور اس کی تکبلیغ کرنا سنت پر عمل کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو اسلاف کے طریقے عبادت سے منحرف کرنے کا ایک حسین انداز ہے اگر صف سیدھی کرنے کی سنت کا واقعی اہتمام ہے تو پہلے ہی سے کیوں نہیں صف برابر کر کے بیٹھتے ۔
دیوبندی عالم کی کتاب سے دلیل
مولوی اشرف علی تھانوی (فتاویٰ عالمگیری ، در مختار ، رد المحتار اور وقایہ وغیرہ) کے حوالے سے حي علی الصلاۃ اور حي علی الفلاح پر کھڑے ہونے کو آداب نماز سے مانتے ہیں اور شروع تکبیر سے کھڑے ہونے کو ترک افضل بتاتے ہیں ۔چنانچہ " امداد الفتاوی" میں لکھتے ہیں: "اس کے بعد سمجھنا چاہیے کہ حي علی الصلاۃ اور حي علی الفلاح پر کھڑے ہونے کو "در مختار قبیل فصل الصلاۃ " میں من جملہ آداب کے لکھا ہے ۔ اور آداب کی صفت میں تصریح کی ہے " تركها لا يوجب إساءة ولا عتابا لكن فعله افضل الخ" اس سے معلوم ہوا کہ " یکرہ له الانتظار" میں یکرہ سے مراد ترک افضل ہے ۔
دیوبندی عالم کے اس قول سے واضح ہو گیا کہ جماعتی، تبلیغی اور عام دیوبندی اقامت شروع ہوتے ہی کھڑے ہو کر جہاں متقدمین فقہا کے اقوال سے رو گردانی کرتے ہیں وہیں اپنے علماء کے فتاوی سے بھی انحراف کرتے ہیں ۔
حي علی الصلاۃ پر کھڑے ہونے کی عقلی دلیل
حي علی الصلاۃ پر کھڑے ہونے میں حکمت یہ ہے کہ جب نمازی مسجد میں ہوتے ہیں تو مختلف اعمال مثلا اوراد و وظائف اور تلاوت قران وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں اور مکبر اقامت کے ذریعے انہیں اس بات سے اگاہ کرتا ہے کہ اب جماعت ہونے والی ہے اس کے لیے مکبر پہلے اللہ عزوجل کی کبریائی بیان کرتا ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت دیتا ہے جسے نمازی حضرات غور سے سنتے ہیں اور خوش بھی ہوتے ہیں
پھر مکبر اپنے چہرے کو دائیں طرف کر کے مقتدیوں سے کہتا ہے حي علی الصلاۃ (آؤ نماز کی طرف)اور بائیں جانب کہتا ہے حي علی الفلاح (آؤ کامیابی کی طرف) تو اس کی صدا سن کر جب نمازی کھڑے ہوتے ہیں تو گویا اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور اقامت کا عملی جواب دیتے ہیں جو مکبر کے لیے باعث مسرت ہوتا ہے ۔اگر اقامت کے شروع میں ہی لوگ کھڑے ہو جائیں تو یہ اجابت اور مسرت حاصل نہ ہو لہذا معلوم ہوا کہ اس لحاظ سے بھی اقامت شروع ہوتے ہی مقتدیوں کو کھڑا ہو جانا مناسب نہیں ۔
خلاصۂ کلام
اسلامی بھائیوں اقامت کے وقت امام و مقتدی کب کھڑے ہوں اس تعلق سے ہم نے سنی اور دیوبندی دونوں مکتب فکر کے افکار و نظریات کو واضح کرتے ہوئے اس مضمون میں چند حوالہ جات بھی پیش کیے ہیں ۔
اب یہ فیصلہ اپ کو کرنا ہے کہ اقامت شروع ہوتے ہی کھڑے ہونا چاہیے یا نہیں؟ بیٹھ کر اقامت سننا اور حي علی الصلاۃ و حي علی الفلاح پر کھڑا ہونا سنیوں کی ایجاد اور بدعت ہے یا ان پر بدعت کا جھوٹا الزام ؟ کھڑے ہو کر اقامت سننا متقدمین فقہا کہ اقوال کے موافق ہے یا ان کے خلاف نیا اقدام ؟
اگر اپ نے تعصب اور عناد سے ہٹ کر محض حق جاننے اور حق سمجھنے کی غرض سے یہ مضمون پڑھا تو یقینا اپ حق تک پہنچ جائیں گے اللہ کریم اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں حق سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم