محرر:
محمد شعبان وارثی
مختصر سیرت خواجہ غریب نواز علیه الرحمه
عرصہ دراز سے ہند و پاک اللہ عز و جل کے نیک بندوں کی توجہ کا مرکز رہا۔ یکے بعد دیگرے اولیائے کرام و صوفیائے عظام رحمہم اللہ السلام تشریف لائے۔ ان عظیم ہستیوں میں سے ایک ہستی تائج الاولیا، سید الاصفیا، وارث النبی، عطاے رسول، سلطان الہند ہیں۔
نام و سلسله نسب شریف
آپ کا نام مبارک حسن ہے۔ آپ نجیب الطرفین (حسنی و حسینی) سید ہیں۔
پدری نسب شریف
سید معین الدین حسن بن سید غیاث الدین حسن بن سید نجم الدین طاہر بن سید عبد العزیز بن سید ابراہیم بن سید اور لیس بن سید امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن حضرت امام حسین بن حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالٰی وجہ الکریم۔
مادری نسب شریف
بی بی ام الورى، الموسوم بی بی ماه نور و بی بی خاص الملكه بنت سید داؤد بن حضرت عبد الله الحنبلی بن سید زاہد بن سید مورث بن سید داؤد بن سید موسیٰ جون بن سید نا عبد الله مخفی بن سید نا حسن مثنی بن سیدنا حضرت امام حسن بن حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم معین الہند حضرت خواجہ معین الدین، ص ۱۸]
ولادت با سعادت
حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ ۵۳۷ھ بمطابق ۱۱۴۲ء میں سجستان یا سیستان کے علاقہ سجزی ” میں پیدا ہوئے۔
مشہور خطابات
ہند النبی ، عطاے رسول، ہند الولی، غریب نواز ، سلطان الہند ، نائب رسول فی الہند۔
مشہور القاب
تاج المقربين والمحققين، سيد العابدين، تائج العاشقین، بربان الواصلين ، سلطان العارفین۔ المرجع السابق، ص ۲۰)
والدین کریمین
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے والد محترم صاحب تقویٰ و پرہیز گار اور صاحب کرامت بزرگ تھے، جب کہ آپ کی والدہ محترمہ اکثر اوقات عبادت و ریاضت میں مشغول رہنے والی نیک و پارسا خاتون تھیں۔
جب حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی عمر مبارک پندرہ (۱۵) سال ہوئی، تو اس وقت آپ کے والد ماجد کا وصال پر ملال ہو گیا۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کو وراثت میں ایک باغ اور ایک پن چکی ملی۔ اُسی کو آپ نے اپنا ذریعہ معاش بنایا، اور باغ کی نگہبانی خود فرماتے اور درختوں کو پانی سے سیراب کرتے۔ ماخذ: خواجہ غریب نواز ، ص [۳
حصول علم دین کے لیے سفر
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے پندرہ (۱۵) سال کی عمر میں حصولِ علم دین کے شوق میں پہلا سفر اختیار فرمایا، اور سمرقند میں حضرت سید نا شرف الدین رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر علم دین حاصل کرنے لگے۔ آپ نے سب سے پہلے قرآن کریم حفظ فرمایا، اور اُس کے بعد دیگر علوم و فنون حاصل کیے۔
جیسے جیسے علم دین سیکھتے گئے ، آپ کا قلب مبارک روشن ہوتا گیا، اور آپ نے مزید حصول علم کے خاطر بخارا کا سفر اختیار کیا، اور شہرہ آفاق عالم دین حضرت سید نا حسام الدین علیہ رحمۃ اللہ الباری سے علم دین حاصل کرنے لگے، یہاں تک کہ انہی کی شفقتوں کے سائے میں حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے تھوڑے ہی عرصے میں تمام علوم دینیہ کی تکمیل کرلی۔ حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے تقریباً پانچ (۵) سال سمرقند و بخارا میں حصولِ علم کے لیے قیام فرمایا۔ [ ماخذ : المرجع السابق، ص۶]
بیعت و خلافت
اسی عرصے میں حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد مرشد کامل کی جستجو میں بخارا سے حجاز کی طرف رخ سفر کیا۔ راستے میں جب نیشاپور (صوبہ خراسان رضوی، ایران) کے علاقے ہارون (۵۵۲ھ) میں پہنچے ، تو وہاں مرشد کامل، مرد قلندر، قطب وقت حضرت سید نا خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک میں بیعت کی اور سلسلہ چشتیہ میں داخل ہو گئے۔
یک درگیر، محکم گیر! حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کئی سال تک اپنے مرشد کامل کی خدمت میں حاضر رہے، اور اسی دوران ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علوم کے بھی مراتب طے کیے۔ حضرت سید نا خواجہ عثمان بارونی رحمۃ اللہ علیہ جہاں بھی تشریف لے جاتے ، آپ ان کے ساتھ جاتے ، ان کا سامان اٹھاتے، نیز آپ رحمۃ اللہ علیہ کو کئی مرتبہ اپنے مرشد کامل کے ساتھ حج کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب میرے پیر و مرشد خواجہ عثمان ہارونی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے میری خدمت اور عقیدت دیکھی، تو ایسی کمال نعمت عطا فرمائی جس کی کوئی انتہا نہیں۔
ازواجی زندگی
حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کا شادی کرنے کا خیال نہ تھا، لیکن نبی آخر الزماں صلی الم کے فرمان کے مطابق آپ کو ازواجی زندگی اختیار کرنا پڑی۔ ایک شب خواجہ غریب نواز خواب میں اللہ تعالیٰ کے آخری نبی صلی الیوم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ سرور عالم صلی الم نے ارشاد فرمایا : اے معین الدین ! تو ہمارے دین کا معین ہے ، تجھے ہماری سنت ترک نہیں کرنی چاہیے۔ ایک راجہ کی لڑکی جس کا نام اُمۃ اللہ رکھا اور ۵۹۰ھ بمطابق ۱۱۹۴ء میں نکاح فرمایا۔
سید وجیہ الدین مشہدی کو اپنی لڑکی بی بی عصمت اللہ کی شادی کی فکر رہتی تھی۔ لڑکی بلوغ کو پہنچ چکی تھی اور بظاہر کوئی نیک ، باکردار شخص نہ ملتا تھا۔ ایک رات انہوں نے حضرت امام جعفر رحمتہ اللہ علیہ کو خواب میں دیکھا۔ امام نے فرمایا: اے فرزند ! رسول خداصلی لیم کا حکم ہے کہ اس لڑکی کا نکاح شیخ معین الدین کے ساتھ کر دو۔ شیخ وجیہ الدین نے اس خواب کا ذکر خواجہ غریب نواز سے کیا۔ خواجہ غریب نواز نے فرمایا: اگرچہ میں سن رسیدہ ہو گیا ہوں، مگر بموجب ارشاد نبوی صلی الم یہ رشتہ قبول کرتا ہوں۔ آپ نے دوسری شادی بی بی عصمت اللہ سے ۶۲۰ بمطابق ۱۲۲۳ء میں کی۔
اولاد و امجاد
حضرت بی بی امۃ اللہ کے بطن مبارک سے خواجہ فخر الدین، خواجہ حسام الدین اور بی بی حافظ جمال پیدا ہوئیں۔ بی بی عصمت اللہ کے بطن مبارک سے شیخ ابو سعید پیدا ہوئے۔
غریب نواز کہلانے کی وجہ
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ غریبوں، مفلسوں اور دکھیوں کی خبر گیری اور بہت امداد کرتے تھے ، اسی لیے آپ کو سر کار " غریب نواز " کہا جاتا ہے۔
تصانيف
۱۔ انیس الارواح ( پیر و مرشد خواجہ عثمان ہارونی کے ملفوظات )
۲۔ کشف الاسرار (تصوف کے مدنی پھولوں کا گلدستہ )
۳۔ گنج الاسرار ( سلطان شمس الدین التمش کی تعلیم و تلقین کے لیے )
۴۔ رسالہ آفاق و انفس ( تصوف کے نکات پر مشتمل )
۵۔ رسالہ تصوف (منظوم)
٦- حديث المعارف
۷۔ رسالہ موجود یہ
بارگاہ رسالت صلی الم سے ہند کی بشارت
بارگاہ رسالت میں حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سید نا خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کو مدینہ شریف کی حاضری کا شرف ملا، تو نہایت ادب و احترام سے یوں سلام عرض کیا :
" الصَّلوٰةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يَا سَيِّدَ الْمُرْسَلِينَ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ “
روضۂ اقدس سے آواز آئی:
” وَعَلَيْكُمُ السَّلامُ يَا قُطْبَ الْمَشَائِحِ .
نیز حضرت سید ناخواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ تعالی علیہ کو ہند کی سلطانی بھی بار گاہِ رسالت صلی اللہ کم ہی سے عطا ہوئی۔
سفر هند
اس بشارت کے بعد آپ ہندستان روانہ ہوئے، اور سمرقند، بخارا، عروس البلاد بغداد شریف، نیشاپور ، تبریز، اوش، اصفهان، سبزوار، خراسان، خرقان، اشتر آباد، تلخ اور غزنی وغیرہ سے ہوتے ہوئے ہند کے شہر اجمیر شریف(صوبہ راجستھان) پہنچے۔ اس پورے سفر میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے سینکڑوں اولیاے اللہ اور اکابر امت سے ملاقات کی۔
ہم عصر علما و اولیا سے ملاقات
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ بغداد معلیٰ میں حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر پانچ (۵) ماہ تک فیض و برکات حاصل کیے۔ تبریز میں شیخ بدر الدین ابو سعید تبریزی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے علم میراث حاصل کی۔ اصفہان میں شیخ محمود اصفهانی قدس سرہ النورانی کے پاس حاضر ہوئے۔ خرقان میں شیخ ابو سعید ابو الخیر اور خواجہ ابو الحسن خرقانی رضی اللہ تعالی عنہم کے مزارات پر حاضری دی۔ اشتر آباد میں حضرت علامہ شیخ ناصر الدین اشتر آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی سے کسب فیض کیا۔ ہرات میں شیخ الاسلام امام عبد اللہ انصاری علیہ رحمۃ اللہ الباری کے مزار کی زیارت کی، اور بلخ میں شیخ احمد خضر و یہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔
وصال پر ملال
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کی شب بعض بزرگوں نے خواب میں اللہ عز و جل کے محبوب صلی علیم کو یہ فرماتے سنا: ” میرے دین کا معین، حسن سنجری آرہا ہے، میں اپنے معین الدین کے استقبال کے لیے آیا ہوں۔“
چناں چہ ۶ رجب المرجب ۶۳۳ ھ بمطابق ۱۶ مارچ ۱۲۳۶ء بروز پیر ، فجر کے وقت محبین انتظار میں تھے کہ پیرو مرشد آکر نماز فجر پڑھائیں گے ، مگر حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ تشریف نہ لائے۔ کافی دیر بعد جب حجرہ شریف کا دروازہ کھولا گیا، تو حضرت سید نا سلطان الہند ، معین الدین حسن رحمتہ اللہ علیہ وصال فرما چکے تھے۔
دیکھنے والوں نے یہ حیرت انگیز منظر دیکھا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی پیشانی پر یہ عبارت نقش تھی:
"حبيب الله مات في محبة الله “
(اللہ کا محبوب بندہ محبت الہی میں وصال کر گیا)
خواجہ غریب نواز کی کرامت
حضرت سید نا خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ تعالی علیہ کا کوئی مرید یا اہل محبت اگر حج یا عمرہ کی سعادت پاتا اور طواف کعبہ کے لیے حاضر ہوتا، تو دیکھتا کہ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ طواف کعبہ میں مشغول ہیں، جب کہ اہل خانہ یہ سمجھتے کہ آپ اپنے حجرے میں موجود ہیں۔ بالآخر یہ راز کھلا کہ خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ تعالی علیہ رات بھر بیت اللہ شریف میں طواف فرماتے اور صبح اجمیر شریف واپس آکر با جماعت نماز فجر ادا فرماتے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا صدقہ عطا فرمائے۔