جیل کی سلاخوں میں قلمی خدمات | قید میں تصنیف کرنے والے علماء و اکابر
قید و بند کی سختیوں کے باوجود علم و قلم کی خدمت کرنے والے اسلامی علماء و اکابر کے واقعات، امام سرخسی، علامہ فضل حق خیرآبادی اور دیگر بزرگوں کی علمی خد
جیل کی سلاخوں میں قلمی خدمات | قید میں تصنیف کرنے والے علماء و اکابر
✍️ قلمکار مولانا عمران رضا عطاری مدنی بنارسی 📝 موضوع جیل کی سلاخوں میں قلمی خدمات 🏢 ادارہ مجمع التصانیف از قلم:
عمران رضا عطاری مدنی
(پیش کش: مجلس تحریر و لائبریری، ہند)
جیل کی سلاخوں میں قلمی خدمات (Literary Services)
قید و بند (Imprisonment) اور جیل کی سلاخیں (Prison Bars) بظاہر پابندی (Restriction) اور مشکلات (Hardships) کا زمانہ ہے، لیکن تاریخِ اسلام کے صفحات گواہ ہیں کہ ہمارے اکابر نے قید کی سختیوں کو بھی علم و قلم کی خدمت کا ذریعہ بنا دیا۔ ان کے پاس نہ آزادی تھی، نہ سہولتیں؛ مگر علم کی محبت اور امت کی خیرخواہی نے ان کے قلم کو جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج صدیوں بعد بھی ہم ان کی تصانیف سے فیض یاب (Benefited) ہو رہے ہیں۔
عظیم شخصیات اور ان کی قلمی خدمات
1۔ امام شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی رحمۃ اللہ علیہ:
دورانِ قید آپ نے فقہِ اسلامی کی عظیم کتاب ”المبسوط“ تصنیف فرمائی، جو تقریباً 30 جلدوں پر مشتمل ہے، نیز ”اصول السرخسی“ جیسی اہم کتاب بھی تحریر فرمائی۔ یہ اس بات کی روشن مثال (Clear Example) ہے کہ قید جسم کو محدود کرسکتی ہے، علم و فکر اور قلم کو نہیں۔
2۔ محمود …