فضائلِ اہلِ بیتِ اطہار
دنیا میں سب سے عظمت و رفعت والا گھرانا، میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا گھرانا ہے۔ یہ وہ مقدس خاندان ہے جس کے در سے لوگوں کو عزت، شرف اور بلندی نصیب ہوتی ہے، کیونکہ یہ کسی عام انسان کا نہیں بلکہ اللہ کے آخری رسول ﷺ کا خاندان ہے۔ اسی لیے انہیں اہلِ بیتِ اطہار کے مبارک لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
آج حضورِ اکرم ﷺ کے وصالِ مبارک کو چودہ سو برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج بھی اگر کوئی سید، یعنی حضور ﷺ کی آلِ پاک سے تعلق رکھنے والا ہو، تو اہلِ ایمان اس کی تعظیم و توقیر کو اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔ یہ احترام کسی دنیاوی منصب یا مال و دولت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس نسبتِ مصطفوی ﷺ کی برکت سے ہے۔
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
آج حضورِ اکرم ﷺ کے وصالِ مبارک کو چودہ سو برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج بھی اگر کوئی سید، یعنی حضور ﷺ کی آلِ پاک سے تعلق رکھنے والا ہو، تو اہلِ ایمان اس کی تعظیم و توقیر کو اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔ یہ احترام کسی دنیاوی منصب یا مال و دولت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس نسبتِ مصطفوی ﷺ کی برکت سے ہے۔
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تُو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا
تُو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا
قرآنی آیات
اہلِ بیتِ اطہار کی عظمت و فضیلت صرف مسلمانوں کے جذبات کا تقاضا نہیں، بلکہ خود قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ نے ان کے بلند مقام کو بیان فرمایا ہے۔ اسی لیے اہلِ بیت سے محبت ایمان کا تقاضا اور ان کا ادب ہر مسلمان کی سعادت ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳)
ترجمہ: اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے ۔
(قرآنِ کریم، سورہ احزاب: 33)
دوسری جگہ قرآنِ کریم میں اہلِ بیتِ اطہار سے محبت کا واضح حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(قرآنِ کریم، سورہ احزاب: 33)
دوسری جگہ قرآنِ کریم میں اہلِ بیتِ اطہار سے محبت کا واضح حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ
ترجمہ: تم فرماؤ کہ میں اس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، مگر قرابت کی محبت۔
(قرآنِ کریم، سورہ شوریٰ: 23)
(قرآنِ کریم، سورہ شوریٰ: 23)
احادیثِ مبارکہ
چند احادیث فضائلِ اہلِ بیت میں ملاحظہ فرمائیں:
• رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا، پھر کنانہ میں سے قریش کو چنا، قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب فرمایا، اور بنو ہاشم میں سے مجھے برگزیدہ فرمایا۔"
(صحيح مسلم، 7/58، حديث: 2274)
• ایک صبح نبیِ کریم ﷺ سیاہ اون کی چادر اوڑھے ہوئے تشریف لائے۔ پہلے حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے، آپ ﷺ نے انہیں چادر میں لے لیا، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے، انہیں بھی شامل فرما لیا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں، انہیں بھی چادر میں لے لیا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے، انہیں بھی شامل فرمایا، اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر ناپاکی کو دور فرمائے اور تمہیں خوب پاک و پاکیزہ بنا دے۔
(صحيح مسلم، 2/130، حديث: 2424)
• حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آیتِ مباہلہ ﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا، پھر فرمایا: "اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔"
(صحيح مسلم، 7/120، حديث: 2403)
• رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا، پھر کنانہ میں سے قریش کو چنا، قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب فرمایا، اور بنو ہاشم میں سے مجھے برگزیدہ فرمایا۔"
(صحيح مسلم، 7/58، حديث: 2274)
• ایک صبح نبیِ کریم ﷺ سیاہ اون کی چادر اوڑھے ہوئے تشریف لائے۔ پہلے حضرت حسن رضی اللہ عنہ آئے، آپ ﷺ نے انہیں چادر میں لے لیا، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے، انہیں بھی شامل فرما لیا، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں، انہیں بھی چادر میں لے لیا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے، انہیں بھی شامل فرمایا، اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر ناپاکی کو دور فرمائے اور تمہیں خوب پاک و پاکیزہ بنا دے۔
(صحيح مسلم، 2/130، حديث: 2424)
• حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آیتِ مباہلہ ﴿فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا، پھر فرمایا: "اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔"
(صحيح مسلم، 7/120، حديث: 2403)
محبتِ اہل بیتِ کرام
رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت کے ہر ہر فرد سے محبت کی جائے اور یہ محبت ہر مسلمان پر واجب ہے۔ جی ہاں، امام جلال الدین سیوطی شافعی فرماتے ہیں:
وَتَجِبُ مَحَبَّةُ أَهْلِ بَيْتِهِ وَأَصْحَابِهِ - نبیِ کریم ﷺ کے اہلِ بیت اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا واجب ہے۔
(انموذج اللبیب، ص: 194)
محبتِ اہل بیت پر چند احادیث ہدیۂ قارئین ہیں:
وَتَجِبُ مَحَبَّةُ أَهْلِ بَيْتِهِ وَأَصْحَابِهِ - نبیِ کریم ﷺ کے اہلِ بیت اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا واجب ہے۔
(انموذج اللبیب، ص: 194)
محبتِ اہل بیت پر چند احادیث ہدیۂ قارئین ہیں:
أَحِبُّوا اللهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللهِ، وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي
ترجمہ: اللہ سے محبت کرو کیوں کہ وہ تمہیں نعمتوں سے غذا عطا فرماتا ہے اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو اور میری محبت میں میرے اہلِ بیت سے محبت کرو۔
(سنن ترمذى، 6/126، حديث: 3789)
(سنن ترمذى، 6/126، حديث: 3789)
مَنْ صَنَعَ إِلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَدًا كَافَأْتُهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ: جس نے میرے اہل بیت میں سے کسی کے ساتھ کوئی بھلائی کی اور وہ دنیا میں اس کا بدلہ نہ دے سکا تو قیامت کے دن میں اس کی جانب سے اس (نیکی کرنے والے) کو بدلہ دوں گا۔
(المجروحين، 2/122)
(المجروحين، 2/122)
أدِّبُوا أوْلادَكُمْ على ثلاثِ خِصالٍ: حُبِّ نَبِيِّكُمْ وَحُبِّ أهْلَ بَيْتِهِ وقِراءَةِ القُرآنِ
ترجمہ: اپنی اولاد کو تین اچّھی خصلتوں کی تعلیم دو: (1) اپنے نبی کی محبت (2) ان کے اہلِ بیت کی محبت (3) قراٰنِ پاک کی تلاوت۔
(جامع الصغير، 1264)
(جامع الصغير، 1264)
صحابیِ رسول اور اہل بیت کا ادب
امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃُ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے پر سوار ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے رِکاب تھامی۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ "یہ کیا ہے؟ اے ابنِ عمِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم!" انہوں نے کہا: "ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ علما کے ساتھ ادب کریں۔" اِس پر حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے سے اُترے اور حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور فرمایا: "ہمیں یہی حکم ہے کہ اہلِ بیتِ اطہار کے ساتھ ایسا ہی کریں۔"
(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 144)
حدیثِ پاک میں دی گئی یہ تعلیم ہر مسلمان کو یاد رکھنی چاہیے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ایک مرتبہ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے پر سوار ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے رِکاب تھامی۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ "یہ کیا ہے؟ اے ابنِ عمِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم!" انہوں نے کہا: "ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ علما کے ساتھ ادب کریں۔" اِس پر حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے سے اُترے اور حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہاتھ پر بوسہ دیا اور فرمایا: "ہمیں یہی حکم ہے کہ اہلِ بیتِ اطہار کے ساتھ ایسا ہی کریں۔"
(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 144)
حدیثِ پاک میں دی گئی یہ تعلیم ہر مسلمان کو یاد رکھنی چاہیے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ارْقُبُوا مُحَمَّدًا ﷺ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ.
ترجمہ: رسولِ اکرم ﷺ کی خاطر ان کے اہلِ بیت کا خیال رکھو، ان کے حقوق کی رعایت کرو۔
امام نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی اہلِ بیت کا احترام کرو، ان کی تعظیم کرو اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔
(حسن التنبہ، 2/264)
امام نووی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی اہلِ بیت کا احترام کرو، ان کی تعظیم کرو اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔
(حسن التنبہ، 2/264)
خلاصۂ کلام
قارئینِ کرام! اہلِ بیتِ اطہار سے محبت ایمان کی علامت اور سعادتِ دارین کا ذریعہ ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان مقدس ہستیوں سے قلبی عقیدت رکھے، ان کا ذکر ادب و احترام کے ساتھ کرے اور ان کے فضائل کو اپنی محافل و مجالس میں زندہ رکھے۔
ہمیں چاہیے کہ اہل بیت کرام سے خوب محبت کریں، ان کی عقیدت اپنے دلوں میں بسائے رکھیں، ان کا خیر اور بھلائی کے ساتھ ذکر کریں۔ ان کا نام آتے ہی عقیدت و محبت کے ساتھ سروں کو جھکا لیں! بلکہ جو سادات گھرانے سے ہیں، جن کو سید کہا جاتا ہے، ان کا بھی خوب ادب و احترام کریں، اپنے یہاں محافل میں انھیں مدعو کریں، ان کی عزت و احترام کریں، ان کے ساتھ ادب سے ملاقات کریں اور ان کی دست بوسی کریں، مل کر ان سے دعائیں حاصل کریں۔ ان شاء اللہ الکریم دنیا و آخرت میں سرخروئی نصیب ہوگی۔
ہمیں چاہیے کہ اہل بیت کرام سے خوب محبت کریں، ان کی عقیدت اپنے دلوں میں بسائے رکھیں، ان کا خیر اور بھلائی کے ساتھ ذکر کریں۔ ان کا نام آتے ہی عقیدت و محبت کے ساتھ سروں کو جھکا لیں! بلکہ جو سادات گھرانے سے ہیں، جن کو سید کہا جاتا ہے، ان کا بھی خوب ادب و احترام کریں، اپنے یہاں محافل میں انھیں مدعو کریں، ان کی عزت و احترام کریں، ان کے ساتھ ادب سے ملاقات کریں اور ان کی دست بوسی کریں، مل کر ان سے دعائیں حاصل کریں۔ ان شاء اللہ الکریم دنیا و آخرت میں سرخروئی نصیب ہوگی۔