سیدنا مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ: حیات، تعلیمات اور کرامات

غوث العالم حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت، ترکِ سلطنت، بیعت و خلافت، کرامات اور وصالِ مبارک کا تفصیلی اور ایمان افروز تذکر
سیدنا مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ: حیات، تعلیمات اور کرامات۔ غوث العالم حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت، ترکِ سلطنت، بیعت و خلافت، کرامات اور وصالِ مبارک کا تفصیلی اور ایمان افروز تذکرہ پڑھیے۔
✍️ قلمکار
محمد عبد الواجد عطاری
📝 موضوع
مختصر تعارف حضرت مخدوم سمناں علیہ الرحمہ
🏢 ادارہ
متعلم جامعۃ المدینہ آگرہ درجہ سادسہ

سیدنا مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ

لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بنا ہے جس کا معنی قرب اور نصرت ہے۔ ولی اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرے، اس کی اطاعت میں مشغول رہے، اس کا دل باری تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو، جب دیکھے قدرتِ الہٰی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب کی ثنا ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الہٰی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قربِ الہٰی کا ذریعہ ہو، ذکرِ الہی سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔

بفضلہ تعالیٰ ان اوصاف کے حاملین کی فہرست طویل ہے جن میں قدوۃ الکبریٰ، محبوبِ یزدانی، غوث العالم حضرت مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر کچھوچوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ مقدسہ سر فہرست ہے۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ بادشاہی زندگی کو چھوڑ کر رضائے الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ کی راہ پر گامزن ہو گئے۔ آپ کی حیاتِ بابرکت زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت، علم و معرفت اور اصلاحِ خلق پر مشتمل ہے۔ آپ نے اپنی تعلیمات، مواعظِ کریمہ اور روحانی فیوض و برکات کے ذریعے بے شمار لوگوں کی تربیت فرمائی اور برصغیر میں اسلام کی اشاعت و ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔

ولادت با سعادت

آپ کی ولادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کے والد سلطان ابراہیم سمنانی ایران کے فرماں روا تھے۔ آپ ایک صوفی، زاہد اور متقی بادشاہ تھے۔ بیٹے کی آرزو تھی کہ ایک شب عالمِ خواب میں حضور اکرم ﷺ نے دو فرزندوں کی بشارت دی اور حکم فرمایا کہ ایک کا نام محمد اشرف اور دوسرے کا اعرف رکھنا۔ پھر ایک صبح سن 708ھ میں خورشیدِ معرفت طلوع ہوا، جو بعد کو اشرف الملت و الدین مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کے نام سے مشہور ہوا۔
(لطائفِ اشرفی، ج: 1، ص: ب 03)

تعلیم و تربیت

جب آپ کی عمر شریف چار سال چار ماہ چار دن کی ہوئی تو حضرت علامہ حضرت عماد الدین تبریزی نے رسمِ ''بسم اللہ'' کے فرائض انجام دیے، بعدہٗ آپ کی تعلیم کا مرحلہ شروع ہو گیا۔

آپ مکتب خانۂ تعلیمِ علمی میں تشریف لائے، پانچ برس کی چھوٹی سی عمر میں صرف 7 ماہ 26 دن کے مختصر عرصے میں قراءتِ سبعہ کے ساتھ قرآنِ کریم کا حفظ کر لیا۔ آپ کے علم کا عالم یہ تھا کہ جب آپ کی عمر مبارک سات سال کی ہوئی، تو ایسے ایسے علمی نکات بیان فرماتے کہ بڑے بڑے علماء عش عش کر اٹھتے تھے۔ 12 سال کی عمر میں معانی و بلاغت، معقول و منقول، تفسیر و فقہ، حدیث و اصول، جملہ علوم سے فارغ التحصیل ہو کر دستارِ فضیلت حاصل کی۔ فنِ حدیث میں امام عبد اللہ یافعی سے اور ان کے علاوہ دیگر بڑے بڑے محدثین سے سندِ حدیث حاصل کی۔
(حضرت مخدوم اشرف سمنانی کی سیرت و فضائل، ص: 05)

ترکِ سلطنت، شیخ سے ملاقات اور حلقۂ ارادت

جب مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ علمِ دین میں درجۂ کمال حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے اور آپ کی عمر مبارک 14 برس کی ہوئی، تو ایک سال آپ نے فنِ سپہ گری سیکھا۔ پھر جب والدِ محترم حضرت سلطان سید ابراہیم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس دنیا کو خیر باد کہہ کر جنت کی جانب روانہ ہوئے تو یہ تاجِ شاہی حضرت مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کے سر پر سجایا گیا، اور مخدوم اشرف سمنانی فرمانروائے تختِ سمنان ہو گئے۔

سلطنت کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں آئے دیر نہ ہوئی تھی کہ سمنان کے حالات یکسر تبدیل ہو گئے، آپ کے عہد میں عدل و انصاف اپنی معراج کو پہنچ گیا، سمنان امن و امان کا گہوارہ اور علمی مرکز بن گیا، گرد و نواح کے سلاطین عدل و انصاف کی یہ فضا دیکھ کر رشک کرنے لگے، ہر طرف آپ کا سکہ چلنے لگا، ہر جانب نام نامی کا خطبہ پڑھا جانے لگا۔ ایامِ سلطنت رانی میں اگرچہ آپ ملکی امور میں مشغول رہتے لیکن شریعت کی پابندی کا یہ عالم تھا کہ فرائض و واجبات تو درکنار نوافل و مستحبات تک ترک نہ فرماتے، حتیٰ کہ آداب میں سے ایک ادب بھی آپ سے ترک نہ ہوا۔

ایک رات آپ کے پاس ابو العباس حضرت سیدنا خضر علیہ الصلاۃ والسلام تشریف لائے اور ذکرِ الہی کی تلقین فرمائی، یوہی حضرت سیدنا اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کی روحانیت ظاہر ہوئی اور آپ کو فیضانِ اویسیہ سے مالا مال فرما دیا۔ ظاہراً تو آپ امورِ سلطنت میں مشغول نظر آتے مگر توجہِ قلبی ذکرِ الہی کی جانب ہوتی، حقیقت تو یہ ہے کہ آپ تخت و تاج، حکمرانی اور بادشاہی کو ناپسند فرماتے کہ دل کا رجحان درویشی اور فقیری کی جانب تھا۔ آپ تو یہ چاہتے تھے کہ تخت و تاج کو ٹھوکر مار کر‌ کنارہ کش ہو جائیں، لیکن والدہ کا حکم اور حضرت خضر کا یہ فرمان کہ: "ابھی کچھ دنوں تک اپنے قدم سے مسندِ شاہی کی عزت افزائی فرماتے رہیے"، نے آپ کو تختِ سلطنت پر متمکن ہونے پر مجبور کر دیا۔

بہر حال تقریباً 20 برس کا طویل عرصہ آپ کو تاجداری کرتے گزرا، کہ جس حکم کے آپ سالوں سے منتظر تھے، جس کی تڑپ نے آپ کو بے قرار کر رکھا تھا، اس کی تکمیل کی گھڑیاں قریب آگئیں۔ ماہِ رمضان کا مبارک مہینہ جاری تھا، ستائیسویں شب کو آپ محوِ عبادت تھے۔ چونکہ پہلے سے ہی حضرت مخدوم اشرف سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے سینے میں آتشِ عشق شعلہ زن تھی، امنگیں شباب پر تھیں، کہ اتنے میں حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کہہ کر آپ کے پنہاں جذبات کو برانگیختہ کر دیا کہ: "اشرف! اب وقت آچکا ہے کہ تخت و تاج کو ٹھو کر مار دو، اگر وصالِ الہی کا تخت چاہتے ہو تو اٹھو اور ہندوستان کی طرف رخ کر لو، وہاں حضرت شیخ علاء الحق گنج نبات رحمۃ اللہ علیہ اس وقت تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔"

اس فرمان کو سننے کے بعد آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہی کہ دلی خواہش پوری ہو گئی، برسوں سے جس کی تمنا تھی وہ آج پوری ہوئی۔ اگلے دن ہی اپنے برادرِ اصغر حضرت سید محمد اعرف کو تختِ سمنان پر بٹھا دیا اور والدہ ماجدہ سے اجازت لے کر رختِ سفر باندھا اور حضرت خضر کے ارشاد کے موافق مرشد کی تلاش میں نکلنے کے لیے بالکل مستعد ہو گئے۔ یہاں آپ سمنان کی سلطنت چھوڑ کر پوری دنیا کے باطن کے بادشاہ بننے کے لیے سوئے ہندوستان چلتے ہیں اور وہاں حضرت سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام مرشدِ گرامی حضرت شیخ علاء الحق پنڈوی کے پاس جاکر بار بار آپ کے آنے کی بابت بتاتے ہیں، حتیٰ کہ 70 مرتبہ حضرت خضر نے آپ کی آمد کی بشارت آپ کے مرشد کو دی۔

مرشدِ کریم پر بھی اپنے اس مریدِ صادق کا اشتیاقِ دیدار اس قدر غالب تھا کہ حدِ بیان سے باہر ہے۔ مخدوم سمنانی سفر طے کرتے ہوئے پنڈوا کے قریب پہنچے جہاں آپ کے مرشد شیخ علاء الحق پنڈوی کی خانقاہ تھی۔ وہاں مرشدِ گرامی بعد نمازِ چاشت آرام فرما رہے تھے کہ اچانک بیدار ہوئے اور بے تابانہ خانقاہ سے باہر آئے اور فرمانے لگے: "جس کا انتظار میں دو برس سے کر رہا ہوں اس یار کی خوشبو آرہی ہے، وہ قریب آپہنچا ہے"۔ حتیٰ کہ آپ خود اپنے مرید کے استقبال کے لیے نکل پڑے، خلفاء و مریدین کے علاوہ شہر کے سب چھوٹے بڑے ساتھ چل دیے، خود آپ اپنے پیر شیخ سراج الدین اخی عثمان آئینہ ہند رحمتہ اللہ علیہ کی پالکی پر سوار ہوئے اور اپنی پالکی خالی لے گئے۔ لوگوں کا ہجوم اس قدر تھا کہ چلنا دشوار ہو رہا تھا، شہر سے چار کوس کے فاصلے پر آئے اور انتظار کرنے لگے، یکا یک سامنے ایک قافلہ نظر آنے لگا۔

ایک خادم کو خبر گیری کے لیے بھیجا، اس نے بتایا کہ اشرف سمنانی نام کے نورانی شکل والے آرہے ہیں۔ یہ سن کر مرشدِ گرامی کی خوشی کی انتہا نہ رہی، شیخ چند قدم پیشوائی کو آگے بڑھے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب فراق کی ساری گھڑیاں ختم ہو چکی تھیں، وصال اپنا حسین چہرہ دکھا کر مسکرانے لگا۔ ایک عاشق و معشوق کی ملاقات کا پُرکیف اور پُرذوق منظر زمانہ اپنی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ جب عاشق کی معشوق پر اور معشوق کی عاشق پر نظر پڑی تو صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، دونوں جانب سے دلوں کا انجذاب ہوا۔ حضرت مخدوم سمنانی نے بے تابانہ شیخ کو دیکھ کر اپنا سر شیخ کے قدموں پر رکھ دیا، شیخ نے فرطِ محبت میں سر قدموں سے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ آپ کافی دیر تک سینے سے لگائے رہے، تشنگیِ وصال کی سیرابی سے رفو ہو گئی۔ شیخ برحق فرمانے لگے کہ: "اے فرزند! جس دن سے تم تارکِ سلطنت ہو کر گھر سے نکلے ہو، ہر منزل پر میں تمہاری نگرانی کر رہا تھا اور مواصلت و ملاقاتِ ظاہری کی تمنا رکھتا تھا۔ الحمد للہ کہ جدائی، مواصلت سے، اور فراق، وصال سے بدل گئی۔"

الغرض شیخِ گرامی مخدوم اشرف سمنانی کو اپنی پالکی پر سوار فرما کر خانقاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ مختصراً یہ کہ خانقاہ پہنچے، مرشدِ گرامی نے عنایتِ بے غایت فرمائی، اپنے برابر میں بٹھایا، خادم سے انتظامِ طعام کے لیے کہا، حتیٰ کہ چار لقمے اپنے ہاتھ سے کھلائے۔ سب لوگ متحیر تھے کیونکہ حضرت شیخ نے کبھی کسی کو اس طرح سرفراز نہ فرمایا تھا۔ بعد ازاں بیعت کی رسم ادا کی گئی، مرشدِ گرامی شیخ علاء الحق پنڈوی کے دستِ حق پرست پر مخدوم سمنانی بیعت فرما کر حلقۂ ارادت میں داخل ہو گئے۔
(المرجع السابق، ص: 6 تا 8)

خرقۂ خلافت

یوں تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کثیر سلاسل سے خلافت حاصل ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

(1) سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ، سراجیہ: اس سلسلے کی خلافت آپ کو اپنے پیر و مرشد حضرت شیخ علاء الحق گنج نبات رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل ہوئی۔
(2) سلسلہ عالیہ قادریہ: اس سلسلے کی خلافت آپ کو حضرت سید عبد الغفور حسن جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہوئی۔
(3) سلسلہ قادریہ جلالیہ بخاریہ
(4) سلسلہ سہروردیہ جلالیہ اشرفیہ
(5) سلسلہ حسنیہ و حسینیہ: ان تینوں سلاسل کی خلافت آپ کو حضرت سید جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہوئی۔
(6) سلسلہ کبرویہ اشرفیہ: اس سلسلے کی خلافت آپ کو شیخ علاء الدولہ سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہوئی۔
(7) سلسلہ زاہدیہ اشرفیہ: اس سلسلے کی خلافت آپ کو خواجہ بدر الدین بدر عالم زاہدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہوئی۔
(8) سلسلہ نقشبندیہ اشرفیہ: اس سلسلے کی خلافت آپ کو خواجہ بہاؤ الدین نقشبند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل ہوئی۔
(صحائفِ اشرفی، ج: 2، ص: 37 تا 48)

کرامات

حضرتِ محبوبِ یزدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامات اور خوارقِ عادات اس قدر ہیں کہ بیان نہیں کیا جا سکتا، یہاں فقط اختصار کے پیشِ نظر ایک ہی کرامت کا ذکر کیا جاتا ہے۔

جب پیر علی بیگ حضرت کی دعا سے ایک مہم کو فتح کر کے واپس آئے، تو اس کے لشکر میں ایک بوڑھا شخص تھا جو سالہا سال سے گھاس لایا کرتا تھا، اس نے نہایت حسرت کے ساتھ یہ کہا کہ: "آج یومِ عرفہ ہے، حاجی اپنے کعبۂ مقصود کو پہنچے ہوں گے، اچھا ہوتا کہ میں بھی اس دولت سے سرفراز ہوتا۔"

حضرت محبوبِ یزدانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ سن کر فرمایا: "کیا تم حج کرنا چاہتے ہو؟"
اس نے عرض کیا: "اگر یہ دولت نصیب ہوتی تو کیا ہی اچھا ہوتا۔"
حضرت نے فرمایا: "آؤ۔"
وہ شخص آیا...
حضرت نے اپنے دستِ مبارک سے اشارہ کیا اور فرمایا: "جاؤ۔"

فوراً اس فرمان کے ساتھ وہ کعبہ شریف پہنچ گیا اور مناسکِ حج ادا کیے اور تین روز تک کعبہ شریف میں رہا۔ اس کو خیال ہوا کہ کوئی شخص مجھ کو میرے وطن پہنچا دیتا، اس خیال کے آتے ہی اس نے حضرت محبوبِ یزدانی رحمۃ اللہ علیہ کو وہاں دیکھا، قدموں پر گر پڑا، سر اُٹھایا تو اپنے وطن موجود تھا، سبحان اللہ! کیا تصرفِ علی الحقیقت ہے۔
(لطائفِ اشرفی، ج: 1، ص: ب 6)

وصالِ پُرملال

آپ رحمۃ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ جب محرم الحرام کے چاند کو دیکھتے تو بے ساختہ رونے لگتے تھے لیکن اس بار معاملہ عجب ہوا کہ 808 ہجری میں جب رویتِ ہلالِ محرم ہوئی تو حد درجہ خوشی کا اظہار کرنے لگے، مریدین کو بڑا تعجب ہوا کہ اس بار خلافِ معمول خوشی کا اظہار کیوں فرمایا؟ حضرت نور العین نے عرض کی جسارت کی اور پوچھا کہ اس سال خوشی کیوں؟

فرمایا: "یہ مہینہ میرے جدِ کریم امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے، اگر اس مہینے میں انتقال کروں تو باعتبارِ مہینہ اپنے جدِ کریم سے موافقت ہوگی"۔ یہ سن کر محفل میں آہ و فغاں کی صدائیں بلند ہو گئیں، آپ نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ گریہ و زاری سے کچھ فائدہ نہیں۔

چند دن بعد علالت نے آپ کو اپنے سائبان میں لے لیا، علالت کی خبر پا کر ایک بزرگ ملاقات کو آئے اور شفایابی کی دعا کی تو فرمایا: "میرے اور محبوب کے درمیان ایک باریک حجاب باقی رہ گیا ہے، کیا چاہتے ہو کہ دوست دوست سے نہ ملے۔"

بعدہٗ مردانِ اختیار و ابرار حاضرِ بارگاہ ہوئے اور عرض گزار ہوئے کہ حضور چند روز مزید اگر فرشِ گیتی پر رہتے تو بہتر تھا، تو فرمایا: "عنانِ حیات میرے ہاتھ سپرد کردی گئی، چاہوں زندہ رہوں اور چاہوں انتقال کر جاؤں، لیکن کب تک اس خاکدانِ گیتی میں رہوں گا، چاہتا ہوں کہ گلزارِ علوی کی طرف پرواز کروں"۔

اس کے بعد یکے بعد دیگرے ابدال، اوتاد وغیرہ اولیاء حاضر ہوتے رہے۔ آپ نے خود اپنی قبرِ انور کی جگہ کا تعین کیا، اور اس کی پوری کیفیت بیان کی کہ اس ہیئت پر میری قبر کھودی جائے، پس آپ کی حیات ہی میں آپ کا روضہ تیار کیا گیا۔ آپ نے فرمایا: "جو کوئی اس روضۂ مکرم میں آئے گا فیض سے بے نصیب نہ جائے گا"۔

آپ کی حالت میں تغیر ہوتا رہا، مردانِ خدا ملاقات کو آتے رہے، آپ نے اپنے نورِ نظر قدوۃ الافاق حضرت سید عبد الرزاق نور العین ولی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنا جانشین مقرر کیا، اور اپنے سارے مریدین و خلفاء کو یکے بعد دیگرے نعمتوں سے مالا مال فرماتے رہے۔

الغرض 28 محرم الحرام ماتم انگیز صبح نے اپنا حسرت آمیز چہرہ دکھلایا، آپ اپنے اوراد و وظائف اور عبادت وغیرہ سے فراغت کے بعد مصلے پر رونق افروز ہو گئے، دو پہر تک فیضانِ برکات سے لوگوں کو مالا مال فرمایا، اس وقت آپ کے مریدین و معتقدین کا اس قدر مجمع تھا جس کا شمار کرنا مشکل تھا۔ آپ نے وہ تبرکات جو آپ کو مشائخ سے حاصل ہوئے تھے منگوا کر حقداروں کے سپرد فرما دیے، جب ظہر کا وقت ہوا تو آپ نے نماز کے لیے حضرت نور العین کو مصلے پر آگے کیا، بعد نماز مصافحہ وغیرہ سے فراغت کے بعد آپ مردانہ وار بیٹھ گئے، اور اپنے مشائخِ چشت کی متابعت میں محفلِ سماع منعقد کی، قوالوں کو طلب فرمایا اور حکم دیا کہ شروع کرو، قوال حضرت شیخ سعدی کے ان اشعار کو پڑھنے لگے:
گر بدست تو آمده اجلم
قدر ضينا بما جرى القلم

خوب ترزین دگر نباشد کار
یار خنداں رود بجانب یار

سیر بیند جمال جاناں را
جاں سپارد نگار خنداں را
ان اشعار کو سن کر آپ کی کیفیت تبدیل ہو گئی، اور آپ پر وجدانی کیفیت طاری ہو گئی، در و دیوار جوش میں آگئے بس اسی حالت میں سو سال دنیا کو اپنے وجود سے شرف بخش کر، محبوبِ حقیقی کے عشق میں بحالتِ سماع اپنی جان جانِ جاناں کے سپرد فرما کر واصل باللہ ہو گئے۔
(حضرت مخدوم اشرف سمنانی کی سیرت و فضائل، ص: 18 تا 20)

بارگاہِ ربوبیت میں دعا گو ہوں کہ باری تعالیٰ ہمیں اس پاک در کے فیضان سے مالامال فرمائے، حضرت مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین بجاہِ سید الامین ﷺ۔
اشرفی ناز کر تو اپنے اشرف پر
کون پاتا ہے خاندان ایسا

ایک تبصرہ شائع کریں