نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں | سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

نبی کریم ﷺ کے مبارک بچپن کے حالات، حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی رضاعت، آپ ﷺ کی پرورش، شقِ صدر اور بچپن کے اہم واقعات کا خوبصورت اور سبق آموز مضمو
نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں | سیرتِ مصطفیٰ ﷺ۔ نبی کریم ﷺ کے مبارک بچپن، ولادت و رضاعت، حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی کفالت، شقِ صدر اور بچپن کے حیرت انگیز واقعات کا مختصر اور سبق آموز بیان۔نبی کریم ﷺ کے مبارک بچپن کے حالات، حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی رضاعت، آپ ﷺ کی پرورش، شقِ صدر اور بچپن کے اہم واقعات کا خوبصورت اور سبق آموز مضمون۔سیرت النبی ﷺ, نبی کریم ﷺ, ولادت رسول ﷺ, حضرت حلیمہ سعدیہ, شق صدر, اسلامی مضامین, میلاد النبی ﷺ
✍️ قلمکار
محمد توقیر رضا اشرفی
📝 موضوع
نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں
🏢 ادارہ
متعلم: جامعۃ الرضا، بریلی شریف

نبی کریم ﷺ کا مبارک بچپن ایک نظر میں

نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ درس آموز ہے۔ نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی سے ہمیں درس حاصل کرنا چاہیے کہ آپ ﷺ بچپن ہی سے صابر و شاکر اور عادل تھے۔ نبی کریم ﷺ دیگر بچوں سے منفرد تھے اور دیگر بچوں کی طرح کھیل کود میں مشغول نہ ہوتے تھے۔

آپ ﷺ بچپن ہی سے عادل تھے۔ آپ ﷺ کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ دیگر بچوں کی طرح اپنے کپڑوں میں کبھی بول و براز نہیں فرماتے تھے، بلکہ مخصوص وقت پر اس سے فارغ ہوتے تھے۔ آپ ﷺ کم سنی میں بھی بڑے معلوم ہوتے تھے۔

ولادتِ باسعادت اور رضاعت

نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت عام الفیل کے واقعے کے پچپن دن بعد سرزمینِ عرب میں ۱۲ ربیع الاول، مطابق ۲۰ اپریل سنہ ۵۷۱ء میں ہوئی۔ آپ ﷺ ابھی مادرِ شکم میں ہی تھے کہ آپ کے والدِ محترم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا۔ آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ ﷺ کو گود میں لیا، مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کے لیے دعا کی، اور آپ ﷺ کو یتیم پیدا ہونے میں بھی حکمت کی بات تھی۔

سرزمینِ عرب کے معزز ترین لوگوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو ماں کی گود میں پلنے کے بجائے صحرا کے قبیلوں کی عورتوں کے سپرد کر دیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بچے دیہات کے خوش گوار ماحول میں پرورش پائیں، وہاں کی خالص غذائیں کھا کر ان کے اعضاء اور جسم مضبوط ہوں اور وہاں کی فصیح زبان سیکھیں۔

اسی دستور کے مطابق آپ ﷺ کو لینے کے لیے بھی صحرا کی عورتیں آئیں۔ جب ان عورتوں نے جانا کہ یہ بچہ یتیم ہے تو وہ تمام عورتیں آپ ﷺ کو لینے سے انکار کر بیٹھیں، اس لیے کہ انہیں خیال تھا کہ یتیم بچے کے بدلے انہیں مال و دولت بہت زیادہ نہیں مل پائے گا۔ لیکن حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا، جو قبیلہ بنو سعد سے تھیں، انہیں کوئی بچہ نہیں مل سکا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شوہر حضرت حارث بن عبدالعزیٰ سے کہا کہ میں مناسب سمجھتی ہوں کہ خالی ہاتھ لوٹنے سے بہتر ہے کہ اسی یتیم بچے کو لے لوں۔ ان کے شوہر نے اجازت دے دی۔

چنانچہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نبی پاک ﷺ کے گھر میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سبز ریشمی کپڑے پر لیٹے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو گود میں لے کر گلے سے لگا لیا۔

پھر آپ ﷺ کو گود میں لیتے ہی یہ برکت ظاہر ہوئی کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کی پستان دودھ سے بھر گئی۔ چنانچہ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو اپنے دائیں جانب سے دودھ پلایا، پھر بائیں جانب سے پلانا چاہا، لیکن آپ ﷺ نے بائیں جانب سے کبھی بھی نوش نہ فرمایا، کیونکہ آپ ﷺ بچپن ہی سے عادل تھے، اس لیے اپنے رضاعی بھائی حضرت عبداللہ بن حارث کے لیے وہ حصہ چھوڑ دیا۔

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری اونٹنی کا تھن بھی دودھ سے بھر گیا۔ پھر ہم دونوں نے اسے نوش کیا اور رات بھر چین و سکون سے سوئے۔ اس کے بعد جب ہم اپنے قبیلے کے لیے نکلے تو ہماری کمزور اونٹنی بہت ہی تیزی سے راستہ طے کرتی ہوئی ہمیں اپنے قبیلے تک لے گئی۔

مبارک بچپن کے حیرت انگیز واقعات

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں اس مبارک بچے کو اپنے ساتھ لے کر اپنے قبیلے میں آئی تو قحط سالی دور ہو گئی، جانور موٹے تازے ہو گئے اور ان کی برکت سے میری بکریوں کے تھن دودھ سے لبالب ہو گئے۔ میرے گھر میں رحمت و انوار کی کرنیں چھا گئیں۔ میرے پڑوسی کہتے تھے کہ اے حلیمہ! رات بھر تمہارا گھر روشن رہتا ہے، کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ یہ چراغ کی روشنی نہیں بلکہ حضرت محمد ﷺ کے چہرۂ مبارک سے نور کی کرنیں ظاہر ہوتی ہیں اور اسی کی روشنی سے پورا گھر روشن رہتا ہے۔

میرے پڑوسی اور قبیلے کے لوگ بھی کہتے تھے کہ ہمیں بھی ان کی برکت سے فیض یاب کرو۔ چنانچہ میں نے ایک تالاب میں حضرت محمد ﷺ کا قدمِ مبارک داخل کیا اور کہا کہ ہر کوئی اپنے جانوروں کو اسی سے پانی پلا دے۔ پھر سب کی بکریوں میں برکت ہوئی اور میرے پاس سات بکریوں سے سات سو سے زائد بکریاں ہو گئیں اور جانور موٹے تازے بھی ہو گئے۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ محمد ﷺ دیگر بچوں سے جداگانہ حیثیت رکھتے تھے۔ محمد ﷺ نے اپنے کپڑوں میں کبھی بھی بول و براز نہیں فرمایا، بلکہ اپنے مخصوص وقت پر اس سے فارغ ہو جاتے تھے۔ اگر آپ ﷺ کا ستر کھل جاتا تو آپ ﷺ رونے لگتے، پھر ہم لوگ آپ ﷺ کا ستر ڈھانپ دیتے تو آپ ﷺ خاموش ہو جاتے۔ اگر ہمیں تاخیر ہو جاتی تو غیب سے آپ ﷺ کا ستر ڈھانپ دیا جاتا۔

نشوونما کے مبارک مراحل:
  • دو ماہ: گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دیے۔
  • تین ماہ: ٹیک لگا کر کھڑے ہو جاتے۔
  • چار ماہ: کسی چیز کے سہارے چل پھر لیتے۔
  • پانچ ماہ: آپ ﷺ کے اندر چلنے کی مکمل قوت حاصل ہو چکی تھی۔
  • سات ماہ: آپ ﷺ نے بولنا سیکھ لیا تھا۔
  • آٹھ ماہ: فصیح زبان میں بولنے لگے تھے اور آپ ﷺ کی ساری باتیں سمجھ میں آ جاتی تھیں۔

محمد ﷺ چھوٹی عمر میں بھی بڑے معلوم ہوتے تھے۔ مجھے محمد ﷺ کو پالنے میں کوئی دقت نہ ہوئی، کیونکہ آپ ﷺ عام بچوں کی طرح نہ روتے تھے اور نہ ہی ضد کرتے تھے۔

والدہ کے پاس واپسی اور مکہ کا سفر

جب آپ ﷺ کی عمر شریف دو سال کی ہو گئی تو مجھے دستور کے مطابق آپ ﷺ کو آپ کی والدۂ محترمہ کے پاس لے جانا پڑا۔ میں چاہ کر بھی آپ ﷺ کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتی تھی۔ چنانچہ میں محمد ﷺ کو اپنے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ روانہ ہوئی اور آپ ﷺ کو آپ کی والدۂ محترمہ کے سپرد کر دیا۔ اتفاق سے مکہ مکرمہ میں وبائی امراض پھیلے ہوئے تھے۔ میں نے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو وبائی امراض کے متعلق دلاسا دیا اور محمد ﷺ کو دوبارہ اپنے پاس لانے کا شرف حاصل ہوا۔

آپ ﷺ کے دوبارہ میرے گھر تشریف لانے سے میرے گھر میں پھر سے بہار آ گئی اور آپ ﷺ کی آمد سے میرا گھر دوبارہ خوشیوں سے کھل اٹھا۔ آپ ﷺ بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے تھے، مگر خود کبھی کھیل کود میں مشغول نہیں ہوتے تھے۔ اگر کوئی آپ ﷺ سے کھیلنے کے لیے کہتا تو آپ ﷺ فرماتے: "میں کھیلنے کے لیے پیدا نہیں ہوا ہوں۔"

ایک دن محمد ﷺ نے مجھ سے فرمایا: میرے بھائی کہاں جاتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ وہ بکریاں چرانے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے جاؤں گا۔ میں نے آپ ﷺ کو منع کرتے ہوئے بہت سمجھایا، لیکن پھر آپ ﷺ بھی اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ جانے لگے۔

ایک دن میرے بچے نے مجھ سے کہا کہ محمد ﷺ بہت ہی مبارک بچے ہیں۔ جب وہ جنگل میں پہنچتے ہیں تو ہر طرف ہرا بھرا معلوم ہوتا ہے، ریت پر آپ ﷺ کے قدم کا نشان نہیں پڑتا اور آپ ﷺ کے سر پر ہر وقت سایہ رہتا ہے۔ گھر میں بھی جب محمد ﷺ کے قدمِ مبارک پڑتے تو ہر چیز میں خیر و برکت محسوس ہوتی اور آپ ﷺ کے قدموں کے نشان سے بھی برکت ظاہر ہوتی۔

واقعۂ شقِ صدر

ایک دن جب محمد ﷺ اپنے بھائیوں کے ساتھ بکریاں چرانے گئے تو شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا۔ آپ ﷺ کے رضاعی بھائی دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ دو سفید لباس والے لوگ آئے، انہوں نے محمد ﷺ کو لٹا دیا اور ان کا سینہ چاک کر دیا۔ میں انہیں اسی حالت میں چھوڑ کر بھاگ آیا ہوں۔

حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا گھبرا گئیں اور اپنے شوہر کے ساتھ وہاں پہنچیں تو دیکھا کہ محمد ﷺ تشریف فرما ہیں۔ انہوں نے گھبرائے ہوئے انداز میں محمد ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ہوا؟

محمد ﷺ نے فرمایا کہ کچھ لوگ آئے، انہوں نے مجھے لٹایا، میرا سینہ چاک کیا، اس میں سے کچھ نکالا اور پھر دوسری چیز بھر دی، لیکن مجھے ذرا برابر بھی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر نے کہا کہ اب انہیں ہمارے پاس رکھنا مناسب نہیں، بہتر ہے کہ انہیں ان کی والدہ کے سپرد کر دیا جائے۔

چنانچہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو لے کر مکہ مکرمہ روانہ ہوئیں اور حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ساری بات سے آگاہ کیا۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ پھر حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کے متعلق پہلے کے تمام واقعات سنائے، جس سے حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کو اطمینان حاصل ہوا۔

پرورش اور اعلیٰ اخلاق کا پیکر

حضرت محمد ﷺ کی عمر شریف چھ سال تھی کہ آپ ﷺ کی والدۂ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ ﷺ کو بڑے لاڈ پیار سے پالا۔ پھر آٹھ سال کی عمر شریف میں دادا جان کا بھی سایہ سر سے اٹھ گیا تو آپ ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب نے آپ ﷺ کی کفالت فرمائی۔ وہ آپ ﷺ کا ہمہ وقت خیال رکھتے تھے اور ایک لمحے کے لیے بھی آپ ﷺ کو اپنے سے الگ نہیں کرتے تھے۔ محمد ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی کسی کو دھوکا دیا۔ آپ ﷺ بچپن ہی سے صدق و امانت اور اعلیٰ اخلاق کے پیکر تھے۔

نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کا ہر لمحہ ہمارے لیے سبق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور آپ ﷺ کی مبارک سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

ایک تبصرہ شائع کریں