جب صحابہ نے میلاد النبی نہیں منایا تو تم کیوں مناتے ہو؟
اللہ ربّ العزت کا ہم پر لاکھوں کروڑوں احسان ہے کہ اُس نے عالمِ انسانیت کو اپنے محبوب و مکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے سرفراز فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے کفر و شرک کی تاریکیاں چھٹ گئیں، نورِ ایمان و ہدایت پھیل گیا اور انسانیت کو اپنے ربّ کی معرفت و بندگی کی راہ نصیب ہوئی۔
مگر آج کل کے کچھ کم فہم اعتراض کرتے ہوئے پھرتے ہیں کہ "جب صحابہ نے میلاد النبی نہیں منایا تو تم کیوں مناتے ہو؟" اس اعتراض کے جواب میں سب سے پہلے یہ حقیقت پوری صراحت کے ساتھ تسلیم کرلینی چاہیے کہ اصل محلِ بحث یہ نہیں کہ ’’صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے موجودہ صورت کے مطابق میلاد کیوں نہیں منایا؟‘‘ بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی عمل کا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے کسی مخصوص صورت یا ہیئت میں منقول نہ ہونا، محض اسی بنا پر اس کے ناجائز ہونے کی دلیل بن سکتا ہے؟
یہاں "ترک" اور "ممانعت" کے فرق کو ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کسی عمل سے صراحتاً منع فرمایا ہو، اس کی ممانعت بیان کی ہو یا اس کے خلاف حکم صادر فرمایا ہو تو بلاشبہ وہ ہمارے لیے حجت ہے۔ لیکن محض یہ کہ کوئی عمل ان سے کسی خاص عنوان، نام یا ہیئت کے ساتھ منقول نہیں، اس سے فی نفسہٖ حرمتِ قطعی لازم نہیں آتی، جب تک اس کی ممانعت پر کوئی معتبر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔
مگر آج کل کے کچھ کم فہم اعتراض کرتے ہوئے پھرتے ہیں کہ "جب صحابہ نے میلاد النبی نہیں منایا تو تم کیوں مناتے ہو؟" اس اعتراض کے جواب میں سب سے پہلے یہ حقیقت پوری صراحت کے ساتھ تسلیم کرلینی چاہیے کہ اصل محلِ بحث یہ نہیں کہ ’’صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے موجودہ صورت کے مطابق میلاد کیوں نہیں منایا؟‘‘ بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کسی عمل کا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے کسی مخصوص صورت یا ہیئت میں منقول نہ ہونا، محض اسی بنا پر اس کے ناجائز ہونے کی دلیل بن سکتا ہے؟
یہاں "ترک" اور "ممانعت" کے فرق کو ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کسی عمل سے صراحتاً منع فرمایا ہو، اس کی ممانعت بیان کی ہو یا اس کے خلاف حکم صادر فرمایا ہو تو بلاشبہ وہ ہمارے لیے حجت ہے۔ لیکن محض یہ کہ کوئی عمل ان سے کسی خاص عنوان، نام یا ہیئت کے ساتھ منقول نہیں، اس سے فی نفسہٖ حرمتِ قطعی لازم نہیں آتی، جب تک اس کی ممانعت پر کوئی معتبر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔
محفلِ میلاد کے اعمال پر ایک نظر
اب میلاد میں ہونے والے اعمال پر غور کیجیے: اس میں قرآنِ کریم کی تلاوت کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے، درود و سلام پڑھا جاتا ہے، نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور سیرتِ طیبہ کا بیان کیا جاتا ہے، آپ ﷺ کے اخلاق و شمائل بیان کیے جاتے ہیں، نیکی اور سنت پر عمل کی ترغیب دی جاتی ہے، اور حسبِ استطاعت اطعام بھی کیا جاتا ہے۔
اب ان معترضین سے میرا سوال ہے کہ ان اعمال میں سے کون سا عمل اپنی اصل کے اعتبار سے ممنوع ہے؟
اب ان معترضین سے میرا سوال ہے کہ ان اعمال میں سے کون سا عمل اپنی اصل کے اعتبار سے ممنوع ہے؟
- قرآنِ کریم کی تلاوت عبادت ہے۔
- ذکرِ الٰہی عبادت ہے۔
- درود و سلام باعثِ اجر و ثواب ہے۔
- سیرتِ رسول ﷺ کا علم حاصل کرنا اور اسے بیان کرنا نیکی ہے۔
- صدقہ کرنا اور کھانا کھلانا بھی نیکی ہے۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا
ترجمۂ کنز العرفان: تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔
(سورۃ یونس، آیت: 58)
اور حضور اکرم ﷺ کے بارے میں خود ارشاد فرمایا:
(سورۃ یونس، آیت: 58)
اور حضور اکرم ﷺ کے بارے میں خود ارشاد فرمایا:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ
ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔
(سورۃ الانبیاء، آیت: 107)
دونوں آیاتِ کریمہ سے یہ حقیقت واضح اور ثابت ہوتی ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کی بعثت و تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے، اور اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوشی و مسرت کا اظہار باعثِ سعادت ہے۔ لہٰذا نبیِ رحمت ﷺ کی تشریف آوری پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنا، آپ ﷺ سے محبت و عقیدت کے نذرانے پیش کرنا، سیرتِ طیبہ کا ذکرِ خیر کرنا اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں درود و سلام کی کثرت کرنا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس عظیم نعمت پر اظہارِ تشکر اور محبتِ رسول ﷺ کا حسین مظہر ہے۔
اسی جذبۂ محبت و عقیدت کو تازہ رکھنے، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے فیضان کو عام کرنے اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کو نسل در نسل منتقل کرنے کے لیے اہلِ سنت کے یہاں محافلِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
(سورۃ الانبیاء، آیت: 107)
دونوں آیاتِ کریمہ سے یہ حقیقت واضح اور ثابت ہوتی ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کی بعثت و تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے، اور اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوشی و مسرت کا اظہار باعثِ سعادت ہے۔ لہٰذا نبیِ رحمت ﷺ کی تشریف آوری پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنا، آپ ﷺ سے محبت و عقیدت کے نذرانے پیش کرنا، سیرتِ طیبہ کا ذکرِ خیر کرنا اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں درود و سلام کی کثرت کرنا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس عظیم نعمت پر اظہارِ تشکر اور محبتِ رسول ﷺ کا حسین مظہر ہے۔
اسی جذبۂ محبت و عقیدت کو تازہ رکھنے، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے فیضان کو عام کرنے اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کو نسل در نسل منتقل کرنے کے لیے اہلِ سنت کے یہاں محافلِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
احادیثِ مبارکہ اور صحابۂ کرام کا عشق
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
(صحیح البخاری، حدیث: 15، ص: 9، مکتبہ: دار الفجر للتراث، القاہرہ)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس محبت کے حقیقی پیکر تھے۔ آپ حضرات کا تو ہر دن اور ہر لمحہ ہی یادِ مصطفیٰ ﷺ اور اتباعِ سنت میں گزرتا تھا، اس لیے ان کی ہمہ وقت معطر زندگی میں کسی خاص دن یا سالانہ محفل کی حاجت ہی نہ تھی؛ جبکہ بعد کے ادوار میں جب لوگ سیرتِ پاک سے دور اور نئی نسلیں اسلامی تاریخ سے ناواقف ہونے لگیں، تو علماء و صالحین نے اس غفلت کو دور کرنے اور سیرت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے قرآن، درود اور ذکرِ رسول ﷺ جیسے پہلے سے مشروع اعمال کو ایک مجلس میں جمع کر دیا تاکہ امت میں محبتِ رسول ﷺ کی شمع روشن رہے۔
(صحیح البخاری، حدیث: 15، ص: 9، مکتبہ: دار الفجر للتراث، القاہرہ)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس محبت کے حقیقی پیکر تھے۔ آپ حضرات کا تو ہر دن اور ہر لمحہ ہی یادِ مصطفیٰ ﷺ اور اتباعِ سنت میں گزرتا تھا، اس لیے ان کی ہمہ وقت معطر زندگی میں کسی خاص دن یا سالانہ محفل کی حاجت ہی نہ تھی؛ جبکہ بعد کے ادوار میں جب لوگ سیرتِ پاک سے دور اور نئی نسلیں اسلامی تاریخ سے ناواقف ہونے لگیں، تو علماء و صالحین نے اس غفلت کو دور کرنے اور سیرت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے قرآن، درود اور ذکرِ رسول ﷺ جیسے پہلے سے مشروع اعمال کو ایک مجلس میں جمع کر دیا تاکہ امت میں محبتِ رسول ﷺ کی شمع روشن رہے۔
خلاصۂ کلام اور اہلِ سنت کا موقف
پھر بھی اگر کوئی کہے کہ "صحابۂ کرام نے میلاد نہیں منایا، تم کیوں مناتے ہو؟" تو اہلِ سنت کی طرف سے جواب نہایت واضح اور مدلل ہے:
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے موجودہ طرز کی سالانہ محفلِ میلاد منعقد نہیں فرمائی؛ لیکن ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کیا صحابۂ کرام نے اس سے منع بھی فرمایا؟ اگر منع فرمایا ہے تو اس کی صریح دلیل پیش کیجیے۔ محض یہ کہنا کہ انہوں نے نہیں کیا، اس عمل کی حرمت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ کیونکہ ترکِ صحابہ اور ممانعتِ صحابہ میں واضح فرق ہے۔ ہم میلاد میں کوئی نیا عقیدہ یا نیا دین ایجاد نہیں کرتے، بلکہ قرآن، ذکر، درود و سلام، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ، آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے تذکرے اور دیگر مشروع اعمال کے ذریعے محبتِ رسول ﷺ کا اظہار کرتے ہیں۔
پس اصل بحث "صحابہ نے کیا یا نہیں کیا" پر ختم نہیں ہو جاتی؛ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ جس عمل کی مجلس منعقد کی جا رہی ہے، اس کے اجزاء شریعت میں جائز ہیں یا نہیں، اور اس مخصوص اجتماع کو ناجائز قرار دینے کے لیے کیا شرعی دلیل موجود ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت میں کسی قائم شدہ دینی عمل کو بدعت، ناجائز یا ممنوع قرار دینا معمولی بات نہیں۔ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ہے۔ اس لیے جن اعمال کی بنیاد قرآن و سنت سے ثابت ہو، ان کے مجموعے کو محض اس بنیاد پر بدعت یا غیر مشروع کہہ دینا محتاط طرزِ عمل نہیں کہ وہ ایک مخصوص طریقے سے صحابہ کے دور میں نہیں ہوئے۔
یہی اہلِ سنت والجماعت کا موقف ہے کہ محبتِ رسول ﷺ، ذکرِ رسول ﷺ، سیرتِ رسول ﷺ، درود و سلام اور آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا تذکرہ شریعت کے خلاف نہیں؛ بلکہ ان مشروع اعمال کو جمع کرکے محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے اظہار کی مجلس منعقد کرنا اہلِ سنت کے نزدیک باعثِ خیر و برکت ہے۔
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے موجودہ طرز کی سالانہ محفلِ میلاد منعقد نہیں فرمائی؛ لیکن ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کیا صحابۂ کرام نے اس سے منع بھی فرمایا؟ اگر منع فرمایا ہے تو اس کی صریح دلیل پیش کیجیے۔ محض یہ کہنا کہ انہوں نے نہیں کیا، اس عمل کی حرمت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ کیونکہ ترکِ صحابہ اور ممانعتِ صحابہ میں واضح فرق ہے۔ ہم میلاد میں کوئی نیا عقیدہ یا نیا دین ایجاد نہیں کرتے، بلکہ قرآن، ذکر، درود و سلام، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ، آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے تذکرے اور دیگر مشروع اعمال کے ذریعے محبتِ رسول ﷺ کا اظہار کرتے ہیں۔
پس اصل بحث "صحابہ نے کیا یا نہیں کیا" پر ختم نہیں ہو جاتی؛ بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ جس عمل کی مجلس منعقد کی جا رہی ہے، اس کے اجزاء شریعت میں جائز ہیں یا نہیں، اور اس مخصوص اجتماع کو ناجائز قرار دینے کے لیے کیا شرعی دلیل موجود ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت میں کسی قائم شدہ دینی عمل کو بدعت، ناجائز یا ممنوع قرار دینا معمولی بات نہیں۔ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ہے۔ اس لیے جن اعمال کی بنیاد قرآن و سنت سے ثابت ہو، ان کے مجموعے کو محض اس بنیاد پر بدعت یا غیر مشروع کہہ دینا محتاط طرزِ عمل نہیں کہ وہ ایک مخصوص طریقے سے صحابہ کے دور میں نہیں ہوئے۔
یہی اہلِ سنت والجماعت کا موقف ہے کہ محبتِ رسول ﷺ، ذکرِ رسول ﷺ، سیرتِ رسول ﷺ، درود و سلام اور آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا تذکرہ شریعت کے خلاف نہیں؛ بلکہ ان مشروع اعمال کو جمع کرکے محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے اظہار کی مجلس منعقد کرنا اہلِ سنت کے نزدیک باعثِ خیر و برکت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت، حضور اکرم ﷺ کی کامل محبت و تعظیم، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور دینِ اسلام پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔