حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان میں "شین" کو "سین" پڑھتے تھے: ایک تحقیقی جائزہ
عوام الناس، کم علم خطباء اور کم خواندہ ائمہ مساجد کے درمیان ایک واقعہ بڑی شہرت رکھتا ہے، جسے خطباء حضرات بڑے جوش و خروش سے منبر و محراب پر بیان کرتے ہیں۔ واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب اذان دیتے تھے تو شین کے بجائے سین ادا کرتے تھے (یعنی 'اَشْهَدُ' کو 'اَسْهَدُ' کہتے تھے)۔ اور جب اس بات کی بابت دلیل طلب کی جائے کہ یہ واقعہ کہاں مذکور ہے یا اس کی کیا سند ہے تو بطور حوالہ ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سین بلال عند اللہ شین" یعنی اللہ کے نزدیک بلال کی سین، شین کے برابر ہے۔
آئیے اب ہم اس واقعہ اور اس منسوب حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ لیتے ہیں کہ آیا یہ روایت ثابت ہے یا محض مشہور ہو گئی ہے۔
آئیے اب ہم اس واقعہ اور اس منسوب حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ لیتے ہیں کہ آیا یہ روایت ثابت ہے یا محض مشہور ہو گئی ہے۔
محدثین اور علمائے کرام کی آراء
1. امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
وَكَانَ يُعْرَفُ بِبِلَالِ بْنِ حَمَامَةَ وَهِيَ أُمُّهُ، وَكَانَ مِنْ أَفْصَحِ النَّاسِ لَا كَمَا يَعْتَقِدُهُ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّ سِينَهُ كَانَتْ شِينًا، حَتَّى أَنَّ بَعْضَ النَّاسِ يَرْوِي حَدِيثًا فِي ذَلِكَ لَا أَصْلَ لَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "سِينُ بِلَالٍ عِنْدَ اللَّهِ شِينٌ"، وَهُوَ أَحَدُ الْمُؤَذِّنِينَ الْأَرْبَعَةِ.
ترجمہ: آپ بلال بن حمامہ کے نام سے مشہور تھے، حمامہ آپ کی والدہ تھیں۔ آپ لوگوں میں فصیح ترین تھے۔ بعض لوگ جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کی سین ہی اصل میں شین تھی، یہ درست نہیں ہے، یہاں تک کہ اس کے بارے میں ایک حدیث بھی روایت کی جاتی ہے کہ "بلال کی سین اللہ کے ہاں شین ہے" (جس کی کوئی اصل نہیں)، بلکہ حضرت بلال تو آپ علیہ السلام کے چار مؤذنوں میں سے ایک تھے۔
(البدایہ والنہایہ، جلد 8، صفحہ 305، مطبوعہ: دار الہجر)
2. امام سخاوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
(البدایہ والنہایہ، جلد 8، صفحہ 305، مطبوعہ: دار الہجر)
2. امام سخاوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
حَدِيثُ: سِينُ بِلَالٍ عِنْدَ اللَّهِ شِينٌ: قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ أَصْلٌ وَلَا يَصِحُّ.
ترجمہ: حدیث: "بلال کا سین اللہ کے نزدیک شین ہے"، حافظ ابن کثیر کہتے ہیں اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ یہ صحیح ہے۔
اسی صفحہ میں چند سطروں کے بعد ابن قدامہ حنبلی کا قول بھی ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب (المغنی) میں لکھا ہے:
اسی صفحہ میں چند سطروں کے بعد ابن قدامہ حنبلی کا قول بھی ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب (المغنی) میں لکھا ہے:
رُوِيَ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يَقُولُ أَسْهَدُ، يَجْعَلُ الشِّينَ سِينًا، وَالْمُعْتَمَدُ الْأَوَّلُ.
ترجمہ: مروی ہے حضرت بلال "اسھد" کہا کرتے تھے، وہ شین کو سین بنا دیتے تھے، (لیکن) معتمد پہلا قول ہے (یعنی ابن کثیر کا قول کہ یہ بے اصل ہے)۔
(المقاصد الحسنہ، ص 397، مطبوعہ: مکتبہ بیروت)
3. السیرۃ الحلبیہ میں ہے:
(المقاصد الحسنہ، ص 397، مطبوعہ: مکتبہ بیروت)
3. السیرۃ الحلبیہ میں ہے:
يُرْوَى أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُبْدِلُ الشِّينَ فِي أَشْهَدُ سِينًا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِينُ بِلَالٍ عِنْدَ اللَّهِ شِينٌ، قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ لَا أَصْلَ لِرِوَايَةِ سِينِ بِلَالٍ شِينٌ فِي الْجَنَّةِ.
ترجمہ: مروی ہے حضرت بلال "اشھد" میں شین کو سین سے بدل دیتے تھے، تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بلال کی سین اللہ کے نزدیک شین ہے۔" ابن کثیر کہتے ہیں اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے کہ بلال کی سین جنت میں شین ہے۔
(السيرة الحلبيه، جلد دوم، صفحہ 142، طبع: بيروت)
4. امام زرقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
(السيرة الحلبيه، جلد دوم، صفحہ 142، طبع: بيروت)
4. امام زرقانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
وَقَدْ قَالَ الْمِزِّيُّ لَمْ نَرَهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكِتَابِ.
ترجمہ: حافظ مزی فرماتے ہیں ہم نے اسے کسی کتاب میں نہیں پایا۔
(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ، جلد دوم، صفحہ 197، مطبوعہ: بیروت)
5. شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، من گھڑت ہے اور یہ بالکل جھوٹ ہے۔
(فتاوی شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 38، مجمع البرکات)
6. فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے:
یہ واقعہ موضوع و من گھڑت ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال صاحب سے اذان کے الفاظ صحیح طور پر ادا نہیں ہوتے تھے۔
(فتاویٰ مرکز تربیت افتاء، جلد دوم، صفحہ 647، مطبوعہ: فقیہ ملت اکیڈمی)
(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ، جلد دوم، صفحہ 197، مطبوعہ: بیروت)
5. شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
یہ واقعہ بعض کتابوں میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع، من گھڑت ہے اور یہ بالکل جھوٹ ہے۔
(فتاوی شارح بخاری، جلد 2، صفحہ 38، مجمع البرکات)
6. فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے:
یہ واقعہ موضوع و من گھڑت ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ حضرت بلال صاحب سے اذان کے الفاظ صحیح طور پر ادا نہیں ہوتے تھے۔
(فتاویٰ مرکز تربیت افتاء، جلد دوم، صفحہ 647، مطبوعہ: فقیہ ملت اکیڈمی)
خلاصۃ التحقیق
ذکر کردہ تمام دلائل سے یہ حقیقت آفتابِ نیم روز کی طرح روشن ہو جاتی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ واقعہ محض افسانہ اور من گھڑت حکایت ہے، جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ اگر اس روایت میں کچھ صداقت کی رمق بھی ہوتی تو حفاظِ حدیث کے عظیم ذخائر میں ضرور اس کا ذکر ہوتا۔
مگر محدثینِ عظام نے تحقیق و تدقیق کے بعد اس کے ضعف و بطلان کو پوری صراحت کے ساتھ واضح فرما دیا ہے۔ لہٰذا ایسی موضوع روایت کا بیان کرنا، خصوصاً جب ان کا من گھڑت ہونا ثابت ہو جائے تو ہرگز جائز نہیں۔
مگر محدثینِ عظام نے تحقیق و تدقیق کے بعد اس کے ضعف و بطلان کو پوری صراحت کے ساتھ واضح فرما دیا ہے۔ لہٰذا ایسی موضوع روایت کا بیان کرنا، خصوصاً جب ان کا من گھڑت ہونا ثابت ہو جائے تو ہرگز جائز نہیں۔
اللہ پاک ہمیں صحیح و درست اسلام لوگوں کو بتانے اور سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔