اپنا Birthday کیسے منائیں؟
دنیا میں انسان کا آنا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ انسان کو زندگی عطا فرمانا، صحت، عقل، صلاحیتیں، رشتے اور بے شمار نعمتیں دینا اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔ اسی لیے جب کسی انسان کی زندگی کا ایک سال مکمل ہو تو اسے محض خوشی اور تفریح کا موقع سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرنے، گزشتہ زندگی کا محاسبہ کرنے اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کا عزم کرنے کا موقع سمجھنا چاہیے۔
آج کل Birthday (یومِ پیدائش) منانے کا عام طریقہ کیک کاٹنا، دوستوں اور رشتہ داروں کو جمع کرنا، تحائف دینا اور خوشی کا اظہار کرنا ہے، لیکن بعض اوقات اس میں گانے، موسیقی، بے پردگی، غیر محرم مرد و عورت کا اختلاط، فضول خرچی، نمود و نمائش اور دیگر ناجائز امور بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ اپنی خوشی کے اظہار میں بھی شرعی حدود کا خیال رکھے۔
آج کل Birthday (یومِ پیدائش) منانے کا عام طریقہ کیک کاٹنا، دوستوں اور رشتہ داروں کو جمع کرنا، تحائف دینا اور خوشی کا اظہار کرنا ہے، لیکن بعض اوقات اس میں گانے، موسیقی، بے پردگی، غیر محرم مرد و عورت کا اختلاط، فضول خرچی، نمود و نمائش اور دیگر ناجائز امور بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ اپنی خوشی کے اظہار میں بھی شرعی حدود کا خیال رکھے۔
1. زندگی کا ایک سال کم ہو گیا
Birthday کے موقع پر صرف یہ نہ سوچا جائے کہ "میری عمر کا ایک سال بڑھ گیا"، بلکہ یہ بھی سوچا جائے کہ "میری زندگی کا ایک سال کم ہو گیا۔"
جو وقت گزر گیا وہ دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔ انسان کی عمر اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اس لیے Birthday اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کا بہترین موقع ہے کہ گزشتہ سال میں کتنی نمازیں پابندی سے ادا کیں؟ قرآنِ پاک کی تلاوت اور دینی علم کے حصول میں کتنا وقت صرف کیا؟ والدین، اہلِ خانہ، اساتذہ اور دیگر لوگوں کے حقوق کس حد تک ادا کیے؟ اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا عزم کیا؟
جو وقت گزر گیا وہ دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔ انسان کی عمر اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اس لیے Birthday اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کا بہترین موقع ہے کہ گزشتہ سال میں کتنی نمازیں پابندی سے ادا کیں؟ قرآنِ پاک کی تلاوت اور دینی علم کے حصول میں کتنا وقت صرف کیا؟ والدین، اہلِ خانہ، اساتذہ اور دیگر لوگوں کے حقوق کس حد تک ادا کیے؟ اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا عزم کیا؟
2. اللہ تعالیٰ کا شکر
Birthday کو اللہ تعالیٰ کی نعمتِ زندگی پر شکر ادا کرنے کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ
ترجمہ: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔"
(پارہ 13، سورۃ إبراہیم: 7)
لہٰذا اس موقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے، نفل نماز پڑھی جائے، قرآنِ پاک کی تلاوت کی جائے، ذکر و درود شریف کی کثرت کی جائے اور اللہ تعالیٰ سے خیر و برکت کی دعا مانگی جائے۔
(پارہ 13، سورۃ إبراہیم: 7)
لہٰذا اس موقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے، نفل نماز پڑھی جائے، قرآنِ پاک کی تلاوت کی جائے، ذکر و درود شریف کی کثرت کی جائے اور اللہ تعالیٰ سے خیر و برکت کی دعا مانگی جائے۔
3. صدقہ و خیرات
اگر کوئی شخص اپنے Birthday پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو کسی غریب، محتاج، یتیم یا ضرورت مند کی مدد کرنا بہتر عمل ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی بیمار کی مدد کرنا، کسی طالب علم کی ضرورت پوری کرنا یا کسی دینی و فلاحی کام میں تعاون کرنا اس دن کو بامقصد بنا سکتا ہے۔ اس طرح انسان اپنی خوشی میں دوسروں کو بھی شریک کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت پر شکر بھی ادا کرتا ہے۔
4. والدین کے ساتھ حسنِ سلوک
Birthday صرف اس شخص کے لیے خوشی کا موقع نہیں جس کی پیدائش ہوئی، بلکہ والدین کے لیے بھی ایک یادگار دن ہے۔ خصوصاً ماں نے اولاد کو دنیا میں لانے کے لیے تکلیفیں برداشت کیں اور باپ نے اس کی پرورش و تربیت میں محنت کی۔
اس موقع پر والدین سے محبت و احسان کا اظہار کیا جائے، ان کی خدمت کی جائے اور ان کے لیے دعا کی جائے۔ اگر والدین دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں تو ان کے لیے ایصالِ ثواب، دعا اور صدقہ کیا جائے۔
اس موقع پر والدین سے محبت و احسان کا اظہار کیا جائے، ان کی خدمت کی جائے اور ان کے لیے دعا کی جائے۔ اگر والدین دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں تو ان کے لیے ایصالِ ثواب، دعا اور صدقہ کیا جائے۔
5. ناجائز امور اور خرافات سے بچیں
اسلام خوشی منانے سے منع نہیں کرتا، لیکن خوشی کا طریقہ شریعت کے مطابق ہونا چاہیے۔ Birthday کے نام پر گانا بجانا، فحش و بے حیائی کی محفلیں منعقد کرنا، بے پردگی، غیر محرموں کا اختلاط، نمازوں میں سستی، حرام چیزوں کا استعمال، فضول خرچی اور نمود و نمائش سے بچنا ضروری ہے۔
اسی طرح بعض نوجوان Birthday کے موقع پر کیک کاٹ کر ایک دوسرے کے چہروں پر کیک مل دیتے ہیں، بلکہ بعض اوقات زبردستی بھی چہرے پر کیک مل دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ شرعاً اور اخلاقاً بالکل درست نہیں۔ کھانے کی چیز کو اس طرح ضائع کرنا بھی مناسب نہیں، نیز کسی کے چہرے پر کیک ملنے سے اسے ناگواری، تکلیف یا بے عزتی کا احساس ہوسکتا ہے۔ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف ایسا کرنا دل آزاری اور بد اخلاقی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
لہٰذا Birthday کی خوشی میں کیک کاٹنا ہو تو اسے کھانے کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ ایک دوسرے کے چہروں پر مل کر کھانے کی نعمت کو ضائع کیا جائے یا کسی کو تکلیف پہنچائی جائے۔
اسی طرح بعض نوجوان Birthday کے موقع پر کیک کاٹ کر ایک دوسرے کے چہروں پر کیک مل دیتے ہیں، بلکہ بعض اوقات زبردستی بھی چہرے پر کیک مل دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ شرعاً اور اخلاقاً بالکل درست نہیں۔ کھانے کی چیز کو اس طرح ضائع کرنا بھی مناسب نہیں، نیز کسی کے چہرے پر کیک ملنے سے اسے ناگواری، تکلیف یا بے عزتی کا احساس ہوسکتا ہے۔ کسی کو اس کی مرضی کے خلاف ایسا کرنا دل آزاری اور بد اخلاقی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
لہٰذا Birthday کی خوشی میں کیک کاٹنا ہو تو اسے کھانے کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ ایک دوسرے کے چہروں پر مل کر کھانے کی نعمت کو ضائع کیا جائے یا کسی کو تکلیف پہنچائی جائے۔
6. فضول خرچی سے اجتناب
بعض لوگ صرف ایک دن کی خوشی کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر رقم خرچ کرتے، مہنگی تقریبات کرتے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے غیر ضروری اخراجات کرتے ہیں۔ اسلام فضول خرچی کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
ترجمہ: "اور فضول خرچی نہ کرو، بے شک وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"
(پارہ 8، سورۃ الأنعام: 141)
لہٰذا Birthday پر غیر ضروری اخراجات کرنے کے بجائے اسی رقم کو صدقہ و خیرات، کسی ضرورت مند کی مدد یا کسی نیک کام میں صرف کرنا زیادہ بامقصد ہے۔
حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں: "مجھے یہ ہرگز پسند نہیں کہ میں کھیل کود میں ایک درہم خرچ کروں اور اس کے بدلے مجھے ایک ہزار ملیں۔"
(حلیۃ الاولیاء، ج 1، ص 111)
(پارہ 8، سورۃ الأنعام: 141)
لہٰذا Birthday پر غیر ضروری اخراجات کرنے کے بجائے اسی رقم کو صدقہ و خیرات، کسی ضرورت مند کی مدد یا کسی نیک کام میں صرف کرنا زیادہ بامقصد ہے۔
حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں: "مجھے یہ ہرگز پسند نہیں کہ میں کھیل کود میں ایک درہم خرچ کروں اور اس کے بدلے مجھے ایک ہزار ملیں۔"
(حلیۃ الاولیاء، ج 1، ص 111)
7. نیک اعمال کی نیت کریں
Birthday کو اپنی زندگی کے نئے عزم کا دن بنایا جاسکتا ہے۔ انسان اپنے آپ سے عہد کرے کہ:
- میں نمازوں کی پابندی کروں گا۔
- قرآنِ پاک کی تلاوت اور دینی علم کے لیے وقت نکالوں گا۔
- والدین اور اساتذہ کا ادب و احترام کروں گا۔
- جھوٹ، غیبت، چغلی اور بدکلامی سے بچوں گا۔
- اپنے وقت کی قدر کروں گا اور اسے ضائع نہیں کروں گا۔
- لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔
- گزشتہ کوتاہیوں پر سچی توبہ کروں گا اور آئندہ بہتر زندگی گزارنے کی کوشش کروں گا۔
8. سیرتِ نبوی ﷺ سے نصیحت
رسولِ اکرم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ، أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ
ترجمہ: "یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی، اور اسی دن مجھے مبعوث کیا گیا، یا مجھ پر وحی نازل کی گئی۔"
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1162)
اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے پیر کے دن کو اپنی ولادتِ باسعادت کے حوالے سے یاد فرمایا اور اس دن روزہ رکھا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتِ زندگی پر شکر ادا کرنا اور اسے نیکی کے کاموں کے ذریعے یاد کرنا بہترین اور بامقصد طریقہ ہے۔
(صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1162)
اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے پیر کے دن کو اپنی ولادتِ باسعادت کے حوالے سے یاد فرمایا اور اس دن روزہ رکھا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتِ زندگی پر شکر ادا کرنا اور اسے نیکی کے کاموں کے ذریعے یاد کرنا بہترین اور بامقصد طریقہ ہے۔
9. یومِ پیدائش کو بامقصد بنائیں
Birthday کو محض رسم، دکھاوے یا تفریح کا دن بنانے کے بجائے اسے شکر، عبادت، دعا، صدقہ، صلہ رحمی، والدین کی خدمت اور نیکی کے عزم کا موقع بنایا جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنی گزری ہوئی زندگی پر غور کرے، گناہوں سے توبہ کرے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر کرے اور آئندہ زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کا عزم کرے۔ یاد رکھیں! Birthday کا سب سے خوبصورت تحفہ مہنگا کیک، قیمتی لباس یا بڑی تقریب نہیں، بلکہ یہ سچی نیت ہے کہ زندگی کا جو حصہ باقی رہ گیا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی رضا اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں کے مطابق گزارنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان اپنی گزری ہوئی زندگی پر غور کرے، گناہوں سے توبہ کرے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر کرے اور آئندہ زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارنے کا عزم کرے۔ یاد رکھیں! Birthday کا سب سے خوبصورت تحفہ مہنگا کیک، قیمتی لباس یا بڑی تقریب نہیں، بلکہ یہ سچی نیت ہے کہ زندگی کا جو حصہ باقی رہ گیا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی رضا اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں کے مطابق گزارنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔
اللہ تعالیٰ ہماری زندگی کے گزرے ہوئے ایام کو اپنی رضا والے اعمال سے بھر دے، ہماری آئندہ زندگی میں خیر و برکت عطا فرمائے، ہمیں گناہوں سے بچائے اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ
آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ