کیا نبی اکرم ﷺ نے احادیث لکھنے سے منع فرمایا تھا؟
منکرینِ حدیث یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے سے منع فرمایا تھا، لہٰذا صرف قرآن پر عمل کیا جائے گا اور احادیث حجت و دلیل نہیں ہیں۔
آئیے حدیثِ پاک کے ذریعے معلوم کرتے ہیں کہ یہ اعتراض کس حد تک درست ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟
آئیے حدیثِ پاک کے ذریعے معلوم کرتے ہیں کہ یہ اعتراض کس حد تک درست ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟
ابتدائی ممانعت اور اس کی حکمت
اسلام کا ابتدائی دور آیاتِ قرآنیہ کے نزول کا دور تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث کو لکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ قرآن اور احادیث میں التباس (ملاوٹ) نہ ہو جائے، اور کہیں ایسا نہ ہو کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں قرآنِ مجید کے ساتھ دوسری تحریری چیزیں خلط ملط ہو جائیں۔
جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا تَكْتُبُوا عَنِّي، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ
ترجمہ: میری حدیث نہ لکھو اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے سن کر لکھا وہ اسے مٹا دے۔
(صحیح مسلم، ج 4، ص 2298، رقم الحدیث 3004، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
(صحیح مسلم، ج 4، ص 2298، رقم الحدیث 3004، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
کتابتِ حدیث کی اجازت کا دور
یہ ممانعت ہمیشہ کے لیے نہیں تھی، بلکہ ایک خاص مصلحت اور مخصوص دور کے لیے تھی۔ جب قرآن اور حدیث کے التباس کے خطرات باقی نہ رہے اور قرآنِ مجید صحابۂ کرام کے سینوں اور تحریروں میں محفوظ ہو گیا تو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابتِ حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔
چنانچہ ترمذی شریف میں ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
چنانچہ ترمذی شریف میں ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَجْلِسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْمَعُ مِنْهُ الْحَدِيثَ فَيُعْجِبُهُ وَلَا يَحْفَظُهُ، فَشَكَا ذٰلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ: انصار میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دیتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سنتا، اور خوش ہوتا اور انہیں یاد نہیں رکھ سکتا تھا، اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس بات کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسْتَعِنْ بِيَمِينِكَ ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْخَطِّ
ترجمہ: یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو اور ساتھ ہی اپنے دستِ مبارک سے لکھنے کی طرف اشارہ فرمایا۔
(سنن الترمذی، ابواب العلم، ج 4، ص 336، رقم الحدیث 2666، طبع دار الغرب الإسلامی، بیروت)
(سنن الترمذی، ابواب العلم، ج 4، ص 336، رقم الحدیث 2666، طبع دار الغرب الإسلامی، بیروت)
خلاصۂ کلام اور منکرینِ حدیث کے تضادات
اس کے علاوہ بے شمار احادیث اور روایات اس بات پر شاہد ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور ہی سے حدیث لکھنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ البتہ زیادہ تر صحابۂ کرام کو احادیث زبانی یاد تھیں۔ اس لیے یہ کہہ کر احادیث کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ احادیث بہت بعد میں مرتب ہوئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ احادیث کی حفاظت بیک وقت حفظ، روایت اور کتابت تینوں ذرائع سے ہوتی رہی۔
مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ منکرینِ حدیث کتابتِ حدیث کی ممانعت کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں، مگر اس کے ثبوت میں صحیح مسلم ہی کی روایت پیش کرتے ہیں۔ یعنی اگر «لَا تَكْتُبُوا عَنِّي» والی حدیث لکھی ہی نہ جاتی تو یہ حضرات کتابتِ حدیث کی ممانعت پر اپنی دلیل بھی پیش نہ کر پاتے۔
مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ منکرینِ حدیث کتابتِ حدیث کی ممانعت کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں، مگر اس کے ثبوت میں صحیح مسلم ہی کی روایت پیش کرتے ہیں۔ یعنی اگر «لَا تَكْتُبُوا عَنِّي» والی حدیث لکھی ہی نہ جاتی تو یہ حضرات کتابتِ حدیث کی ممانعت پر اپنی دلیل بھی پیش نہ کر پاتے۔
گویا جس روایت سے وہ حدیث کی حجیت کے خلاف استدلال کرتے ہیں، وہ خود حدیث کی حفاظت اور حجت ہونے کا واضح ثبوت ہے۔