محرم الحرام میں رائج غلط رسومات | تعزیہ داری، نوحہ و ماتم کا شرعی حکم

ابو کفیل محمد نبیل اختر کا مضمون محرم الحرام میں رائج غلط رسومات، تعزیہ داری، نوحہ و ماتم، بدعات اور خرافات کے شرعی حکم کو قرآن و حدیث اور اہلِ سنت کے
محرم الحرام میں رائج غلط رسومات | تعزیہ داری، نوحہ و ماتم کا شرعی حکم
✍️ قلمکار مولانا ابو کفیل محمد نبیل اختر مدنی 📝 موضوع محرم الحرام میں رائج غلط رسومات 🏢 ادارہ تخصص فی الحدیث،مرکزی جامعۃ المدینہ تاجپور، ناگپور محرم الحرام میں رائج غلط رسومات محرم الحرام ایک پاکیزہ، بابرکت مہینہ ہے اور اس ماہِ مقدس سے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس مہینے میں یومِ عاشورہ بھی ہے، یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں ایک عظیم معرکہ (کربلا) پیش آیا جس میں اہلِ بیتِ کرام اور اصحابِ عظام نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اسلام کے پرچم کو ہرا بھرا کیا، حق اور باطل کے درمیان فرق کو واضح کیا۔ پس یکم محرم سے یومِ عاشورہ تک محافل سجانا اور خوب ایصالِ ثواب کرنا چاہیے، لیکن آج ہمارے نوجوان ان ایام میں بدقسمتی سے اس کے بجائے ڈھول، باجے، تعزیہ داری جیسی خرافات اور غلط رسومات میں ملوث ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مصنوعی کربلا اور اس کا تصور مصنوعی کربلا، امام باڑا اور فرضی روضہ بنا کر اسے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روضہ سمجھنا، پھر اس کے ساتھ امام کے روضۂ مبارک کی طرح برتاؤ کرنا حرام و گناہ ہے۔ اسلام فرضی و مصنوعی چیز کو حقیقی اور سچی ماننے کی تعلیم نہیں دیتا۔ یہ طریقہ بالکل …

ایک تبصرہ شائع کریں