تفقہ فی الدین اور اس کا طریقِ کار
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ
ترجمہ: تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں۔
(سورۃ التوبہ، آیت نمبر 122)
(سورۃ التوبہ، آیت نمبر 122)
دین کا اصطلاحی معنی
دین کا اصطلاحی معنی ہے:
قانون سماوی سائق لذوی العقول الی الخیر بالذات کاالاحکام الشرعیۃ النازلۃ علی نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
ترجمہ و تشریح: دین ایسے سماوی قانون کو کہتے ہیں جو ذوی العقول یعنی عقلمندوں کو خیر بالذات کی طرف لے جائے۔ وہ آسمانی قانون جو ذوی العقول کی خیرِ بالذات کی طرف رہنمائی کرے، جس طرح کے شرعی احکام جو ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے، یہ انسانوں کو خیرِ بالذات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انسان جب ان احکام کو سمجھ لیتا ہے اور پھر ان پر عمل کرتا ہے تو اس کو خالقِ کائنات دونوں جہان یعنی عالمِ دنیا و عقبیٰ کی بہتریاں عطا فرماتا ہے۔
(المحصول فی علم الأصول، جلد 1، صفحہ 5)
(المحصول فی علم الأصول، جلد 1، صفحہ 5)
دین کا قرآنی مفہوم
ہم جس وقت دین کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد خاص دین ہوتا ہے۔ ویسے تو کوئی بھی مذہب جس کا ضابطۂ حیات اچھا ہو یا برا، اس پر دین کا اطلاق کیا جاتا ہے جیسا کہ قرآنِ مجید پارہ 30 میں اللہ جل مجدہ کا فرمان ہے:
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
ترجمہ: تمہارا دین تمہارے لئے اور میرے لئے میرا دین۔ (سورۃ الکافرون)
لیکن تفقہ فی الدین کے اندر جو لفظ 'دین' ہے اس سے مراد وہ دین ہے جو قرآنِ مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:
لیکن تفقہ فی الدین کے اندر جو لفظ 'دین' ہے اس سے مراد وہ دین ہے جو قرآنِ مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے:
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ
ترجمہ: بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ (سورۃ آلِ عمران)
ہمارے فہم میں یہ بات آگئی کہ تفقہ فی الدین سے کیا مراد ہے، اب اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت درپیش ہے کہ اس کو حاصل کس طرح سے کیا جائے اور اس میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں۔
ہمارے فہم میں یہ بات آگئی کہ تفقہ فی الدین سے کیا مراد ہے، اب اس چیز کو سمجھنے کی ضرورت درپیش ہے کہ اس کو حاصل کس طرح سے کیا جائے اور اس میں ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں۔
فہمِ دین کے لیے سفر کی اہمیت
یاد رکھیں کہ اس میں ہماری جو سب سے پہلی ذمہ داری ہے، وہ یہ کہ گھر سے نکلنا، فہمِ دین کے لئے سفر کرنا اور فہمِ دین کی طرف قدم اٹھا کر اس کی طرف رواں دواں ہونا۔ اس کے بارے میں ربِ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ﴾ (کیوں نہیں ایسا ہوتا کہ ایک گروہ نکلے)۔
فہمِ دین کے لئے سب سے پہلی ذمہ داری ہے کہ اپنے گھر کی مصروفیات کو، اپنے عیش و آرام کو چھوڑ کر فہمِ دین کے لئے تھوڑی صعوبتیں برداشت کی جائیں اور فہمِ دین کے لئے سفر کیا جائے۔ آج ہمارے لئے تو بطورِ سعادت چند قدم رہ گئے کہ گھر سے نکلیں اور فہمِ دین کے لئے ایک جگہ پر پہنچیں، لیکن ہمارے اسلاف نے فہمِ دین کی خاطر کئی ماہ کی مدت تک سفر کیا لیکن پھر بھی ان کا شوق ماند نہیں پڑا بلکہ مسلسل سفر کرنے سے ان کو لذت محسوس ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ فہمِ دین کے لئے وقف کر دیا۔
فہمِ دین کے لئے سب سے پہلی ذمہ داری ہے کہ اپنے گھر کی مصروفیات کو، اپنے عیش و آرام کو چھوڑ کر فہمِ دین کے لئے تھوڑی صعوبتیں برداشت کی جائیں اور فہمِ دین کے لئے سفر کیا جائے۔ آج ہمارے لئے تو بطورِ سعادت چند قدم رہ گئے کہ گھر سے نکلیں اور فہمِ دین کے لئے ایک جگہ پر پہنچیں، لیکن ہمارے اسلاف نے فہمِ دین کی خاطر کئی ماہ کی مدت تک سفر کیا لیکن پھر بھی ان کا شوق ماند نہیں پڑا بلکہ مسلسل سفر کرنے سے ان کو لذت محسوس ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی کا طویل حصہ فہمِ دین کے لئے وقف کر دیا۔
حصولِ علم کے لیے اسلاف کی قربانیاں
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے صرف ایک حدیثِ پاک سیکھنے کے لئے ایک ماہ تک سفر کیا اور حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے۔
وَرَحَلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍ
(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب الخروج في طلب العلم)
ایسی درجنوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہمیں ملتی ہیں جن سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف نے فہمِ دین کے لئے اور علمِ دین کی تحصیل کے لئے کئی کئی سال وقف کئے اور بالآخر انہوں نے اپنی منزل کو پا لیا۔
فہمِ دین کے لئے سفر کرنے میں کتنی عظمتیں ہیں، اس میں کتنا عروج ہے، اس کا اندازہ اس حدیثِ پاک سے لگایا جا سکتا ہے:
ایسی درجنوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہمیں ملتی ہیں جن سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف نے فہمِ دین کے لئے اور علمِ دین کی تحصیل کے لئے کئی کئی سال وقف کئے اور بالآخر انہوں نے اپنی منزل کو پا لیا۔
فہمِ دین کے لئے سفر کرنے میں کتنی عظمتیں ہیں، اس میں کتنا عروج ہے، اس کا اندازہ اس حدیثِ پاک سے لگایا جا سکتا ہے:
مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو شخص کسی ایسے راستے پر چلے جس میں علمِ دین حاصل کرنا چاہتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس راستے کی وجہ سے اس شخص کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، حدیث: 2699)
(صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ، حدیث: 2699)
فہمِ دین کے لئے سفر کرنے والوں کی فضیلت
صحیح مسلم میں حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالبِ علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور یقیناً آسمانوں و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔"
(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2699)
"جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالبِ علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور یقیناً آسمانوں و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔"
(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2699)
علمِ دین کی فرضیت اور اس کی مقدار
ہمیں چاہئے کہ ہم بھی تحصیلِ علمِ دین کی خاطر سفر کریں، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
طَلَبُ العِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ
ترجمہ: ہر مسلمان مرد (اور عورت) پر علم کا طلب کرنا فرض ہے۔
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 224، باب فضل العلماء)
یاد رہے کہ اس حدیثِ مبارکہ کا یہ مطلب نہیں کہ ہر مسلمان مرد و زن پر ہر علم کا سیکھنا فرض ہے۔ نہیں، بلکہ اس حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر اتنا ہی علم سیکھنا فرض ہے جو روزمرہ کی زندگی میں اس پر فرض ہے، جیسے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور جو بھی تجارت وہ شخص کرتا ہے، اس کا علم سیکھنا اس پر فرض ہے۔
(سنن ابن ماجہ، حدیث: 224، باب فضل العلماء)
یاد رہے کہ اس حدیثِ مبارکہ کا یہ مطلب نہیں کہ ہر مسلمان مرد و زن پر ہر علم کا سیکھنا فرض ہے۔ نہیں، بلکہ اس حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر اتنا ہی علم سیکھنا فرض ہے جو روزمرہ کی زندگی میں اس پر فرض ہے، جیسے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور جو بھی تجارت وہ شخص کرتا ہے، اس کا علم سیکھنا اس پر فرض ہے۔
اَفْضَلُ الْعِلْمِ عِلْمُ الْحَالِ وَ اَفْضَلُ الْعَمَلِ حِفْظُ الْحَالِ
ترجمہ: سب سے افضل علم، علمِ حال (یعنی موجودہ ضرورت کا علم) ہے اور سب سے افضل عمل اپنے حال کی حفاظت کرنا ہے۔
(تعلیم المتعلم مترجم بنام راہِ علم، صفحہ 11)
(تعلیم المتعلم مترجم بنام راہِ علم، صفحہ 11)