عورتوں کو پردے کا حکم
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ
ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ پھرو جیسے اگلی (زمانۂ) جاہلیت کی بے پردگی۔
(سورۃ الاحزاب، آیت: 33)
اگلی جاہلیت سے مراد قبلِ اسلام کا زمانہ ہے، اس زمانے میں عورتیں اتراتی نکلتی تھیں، اپنی زیب و زینت کا اظہار کرتی تھیں تاکہ غیر مرد دیکھیں اور لباس اس طرح پہنتی تھیں جس سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکتے تھے۔ اس آیت کا اصل مقصد عفت، حیاء اور پردے کا قیام ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، تحفظ اور کردار کی پاکیزگی دی۔ آج کے دور میں جہاں میڈیا، فیشن، اور آزادی کے نام پر بے راہ روی پھیل چکی ہے، اس آیت کی روشنی میں مسلمان خواتین کو اپنا طرزِ عمل درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
(سورۃ الاحزاب، آیت: 33)
اگلی جاہلیت سے مراد قبلِ اسلام کا زمانہ ہے، اس زمانے میں عورتیں اتراتی نکلتی تھیں، اپنی زیب و زینت کا اظہار کرتی تھیں تاکہ غیر مرد دیکھیں اور لباس اس طرح پہنتی تھیں جس سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکتے تھے۔ اس آیت کا اصل مقصد عفت، حیاء اور پردے کا قیام ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، تحفظ اور کردار کی پاکیزگی دی۔ آج کے دور میں جہاں میڈیا، فیشن، اور آزادی کے نام پر بے راہ روی پھیل چکی ہے، اس آیت کی روشنی میں مسلمان خواتین کو اپنا طرزِ عمل درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اسلام: ایک پاکیزہ اور مہذب دین
مذہبِ اسلام ایک ایسا پاکیزہ اور مؤدب مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو ہر طرح کی نجاست اور آلودگی سے دور رکھتا ہے، حلال و حرام کی نشاندہی کر کے حرام سے دور اور حلال سے قریب رہنے کا حکم دیتا ہے۔ مرد و عورت ہر ایک کا حق متعین کر کے جداگانہ طور پر بیان کر دیا ہے۔ اسلام ایک منظم اور مہذب مذہب ہے جو تہذیب و ادب کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حکم دیتا ہے اور یہ ایک بہت پیارا، پسندیدہ مذہب ہے۔
اللہ تعالیٰ سورہ آلِ عمران میں ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اسلام کو پسندیدہ دین کہا تو ایک دوسری جگہ فرمایا: "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کیے گئے"۔
مذکورہ آیتوں میں غور و خوض کریں کہ ایک میں اسلام کو پسندیدہ دین کہا جا رہا ہے اور دوسری میں اسلام کے ماننے والوں کو بہترین امت کے لقب سے یاد کیا جا رہا ہے۔ ہمیں جب قرآن بہترین امت کہہ رہا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم وہی قول و فعل کریں جو قرآن و حدیث سے ثابت ہوں۔ ہم انہی مسائل و احکام کو مانیں جو تعلیماتِ خدا اور رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے حبیب نے جن چیزوں کو اپنانے اور حاصل کرنے کا حکم دیا ہے، انہی کے حصول میں ہم کوشاں رہیں اور جن چیزوں سے ہمیں رکنے کا حکم دیا گیا ہے، ان سے رکے رہیں۔
اللہ تعالیٰ سورہ آلِ عمران میں ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اسلام کو پسندیدہ دین کہا تو ایک دوسری جگہ فرمایا: "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کیے گئے"۔
مذکورہ آیتوں میں غور و خوض کریں کہ ایک میں اسلام کو پسندیدہ دین کہا جا رہا ہے اور دوسری میں اسلام کے ماننے والوں کو بہترین امت کے لقب سے یاد کیا جا رہا ہے۔ ہمیں جب قرآن بہترین امت کہہ رہا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم وہی قول و فعل کریں جو قرآن و حدیث سے ثابت ہوں۔ ہم انہی مسائل و احکام کو مانیں جو تعلیماتِ خدا اور رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے حبیب نے جن چیزوں کو اپنانے اور حاصل کرنے کا حکم دیا ہے، انہی کے حصول میں ہم کوشاں رہیں اور جن چیزوں سے ہمیں رکنے کا حکم دیا گیا ہے، ان سے رکے رہیں۔
عہدِ حاضر کی غفلت اور بے راہ روی
لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان مرد اور عورت اس قدر آزاد خیال ہو چکے ہیں کہ انہیں ہر مسئلے اور ہر معاملے میں آزادی چاہیے، خواہ وہ مسئلہ عین شریعت کے مطابق ہو یا نہ ہو۔ آج کا مسلمان جہالت میں اس طرح ڈوب چکا ہے کہ محض طبیعت کو اپنی خواہشات کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ جو طبیعت کہتی ہے، جس طرف عقل چلنے کو کہتی ہے، اس طرف وہ دوڑتا ہوا نظر آتا ہے خواہ وہ حلال ہو یا حرام۔ عقل اور طبیعت کی لاٹھی نے اسے مار کر اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ وہ حلال و حرام میں تمیز نہیں کر پاتا کہ کون سی چیز ہمارے لیے حلال ہے اور کون سی حرام۔
پردے کی اہمیت اور قرآنی احکامات
﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ﴾ (الاحزاب: 33)
اس آیت سے پردے کی اہمیت اور غیر محرم مردوں سے اختلاط سے گریز کا حکم ملتا ہے۔ اگرچہ قرآن نے عورت کو تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے یا ضروری امور کے لیے باہر جانے سے نہیں روکا، لیکن شرط یہ ہے کہ فتنے سے محفوظ طریقے سے، سادگی اور شرعی حدود کے اندر رہ کر جائے۔
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
اللہ تعالیٰ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ
ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پاک دامنی کی حفاظت کریں اور اپنی خوبصورتی ظاہر نہ کریں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔
(سورۃ النور، آیت: 31)
تفسیر روح المعانی: اس میں اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے جاہلیت کے دور کی بے پردگی کے بارے میں لکھتے ہیں: امام ابن ابی حاتم نے حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی گردنوں اور سینوں کو اپنی اوڑھنیوں کے ساتھ چھپائیں تاکہ اس میں سے کوئی چیز نظر نہ آئے۔ زمانۂ جاہلیت کی عورتیں اپنی اوڑھنیوں سے سروں کو چھپاتیں اور انہیں اپنے پیچھے کی طرف پشت پر چھوڑ دیتیں، پس ان کی گردن اور کچھ سینے ظاہر دکھتے رہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو مخاطب کرکے فرما رہا ہے کہ تم زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو ظاہر نہ کرو۔ عورتیں بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ زینت اور زیب و زینت کے ساتھ (بن سنور کر) غیر مردوں کے سامنے نہ آئیں۔ جیسا کہ جاہلیت کے دور میں عورتیں بے پردہ اور کھلے انداز میں باہر نکلتی تھیں، ویسا رویّہ اختیار نہ کریں۔ اسلام نے عورتوں پر یہ پابندیاں اس لیے لگائیں کہ عورتوں کی عزت محفوظ رہے، کیونکہ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو ہر مرد دیکھتا ہے، اس لیے عورت کو حکم دیا کہ تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو، یہی آپ کے لیے بہتر ہے۔
(سورۃ النور، آیت: 31)
تفسیر روح المعانی: اس میں اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے جاہلیت کے دور کی بے پردگی کے بارے میں لکھتے ہیں: امام ابن ابی حاتم نے حضرت جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی گردنوں اور سینوں کو اپنی اوڑھنیوں کے ساتھ چھپائیں تاکہ اس میں سے کوئی چیز نظر نہ آئے۔ زمانۂ جاہلیت کی عورتیں اپنی اوڑھنیوں سے سروں کو چھپاتیں اور انہیں اپنے پیچھے کی طرف پشت پر چھوڑ دیتیں، پس ان کی گردن اور کچھ سینے ظاہر دکھتے رہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو مخاطب کرکے فرما رہا ہے کہ تم زمانۂ جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو ظاہر نہ کرو۔ عورتیں بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ زینت اور زیب و زینت کے ساتھ (بن سنور کر) غیر مردوں کے سامنے نہ آئیں۔ جیسا کہ جاہلیت کے دور میں عورتیں بے پردہ اور کھلے انداز میں باہر نکلتی تھیں، ویسا رویّہ اختیار نہ کریں۔ اسلام نے عورتوں پر یہ پابندیاں اس لیے لگائیں کہ عورتوں کی عزت محفوظ رہے، کیونکہ جب عورت گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو ہر مرد دیکھتا ہے، اس لیے عورت کو حکم دیا کہ تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو، یہی آپ کے لیے بہتر ہے۔
عورت کے لیے سب سے بہتر چیز
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ: "عورتوں کے لیے کون سی چیز بہتر ہے؟" تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم خاموش رہے۔ کسی نے کوئی جواب نہ دیا، میں بھی ساتھ تھا۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں اسی وقت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور آکر پوچھا: "عورتوں کے لیے سب سے بہتر کیا چیز ہے؟"
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: "نہ وہ مردوں کو دیکھیں اور نہ مرد ان کو دیکھیں۔"
حضرت علی فرماتے ہیں، میں نے سیدہ فاطمہ کا جواب حضور سرورِ کونین ﷺ سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا: "فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔"
(ماہنامہ اشرفیہ، صفحہ: 20)
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: "نہ وہ مردوں کو دیکھیں اور نہ مرد ان کو دیکھیں۔"
حضرت علی فرماتے ہیں، میں نے سیدہ فاطمہ کا جواب حضور سرورِ کونین ﷺ سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا: "فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔"
(ماہنامہ اشرفیہ، صفحہ: 20)
خلاصۂ کلام اور دعا
مذکورہ حدیث اور تفسیر سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ اسلام میں پردے کی کتنی اہمیت ہے۔ اسلام عورتوں کو قید و بند نہیں کرتا بلکہ ان کی عفت و پاک دامنی کی حفاظت کرتا ہے۔ لہٰذا تمام اسلامی بہنوں اور اسلامی ماؤں کو چاہیے کہ وہ اسلام کے تمام احکامات پر عمل کریں اور دوسرے مذہب والوں کو فالو نہ کریں جس کی وجہ سے آپ کی آخرت خراب ہو۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور عورتوں کو اسلامی دائرے میں رہ کر زندگی بسر کرنے اور دین کے ہر احکام کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ۔