اشاعتیں

حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان میں "شین" کو "سین" پڑھتے تھے؟ | ایک تحقیقی جائزہ

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے اذان میں "اشہد" کو "اسہد" پڑھنے اور "سین بلال عند اللہ شین" والی مشہور روایت کی حقیقت جانیں۔ محدثین اور علمائے کرام کی تحقیق
حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان میں "شین" کو "سین" پڑھتے تھے؟ | ایک تحقیقی جائزہ
✍️ قلمکار مولانا عمر سفیر رضوی 📝 موضوع تفقہ فی الدین اور اس کا طریقِ کار 🏢 ادارہ متعلم کلیۃ حدیقۃ الطیبہ لدراسات المتکاملہ الثقافیۃ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان میں "شین" کو "سین" پڑھتے تھے: ایک تحقیقی جائزہ عوام الناس، کم علم خطباء اور کم خواندہ ائمہ مساجد کے درمیان ایک واقعہ بڑی شہرت رکھتا ہے، جسے خطباء حضرات بڑے جوش و خروش سے منبر و محراب پر بیان کرتے ہیں۔ واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ جب اذان دیتے تھے تو شین کے بجائے سین ادا کرتے تھے (یعنی 'اَشْهَدُ' کو 'اَسْهَدُ' کہتے تھے)۔ اور جب اس بات کی بابت دلیل طلب کی جائے کہ یہ واقعہ کہاں مذکور ہے یا اس کی کیا سند ہے تو بطور حوالہ ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سین بلال عند اللہ شین" یعنی اللہ کے نزدیک بلال کی سین، شین کے برابر ہے۔ آئیے اب ہم اس واقعہ اور اس منسوب حدیث کا علمی و تحقیقی جائزہ لیتے ہیں کہ آیا یہ روایت ثابت ہے یا محض مشہور ہو گئی ہے۔ محدثین اور علمائے کرام کی آراء 1. امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وَ…

ایک تبصرہ شائع کریں