خانقاہوں کی مسند پر نااہل پیر | تصوف کے نام پر گمراہی کا فتنہ
اس مضمون میں ساجد عطاری مدنی نے خانقاہوں میں بیٹھنے والے نااہل اور جاہل پیروں کے فتنہ پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ اصل خانقاہیں علم، شریعت اور طری
خانقاہوں کی مسند پر نااہل پیر | تصوف کے نام پر گمراہی کا فتنہ
✍️ قلمکار ساجد عطاری مدنی 📝 موضوع خانقاہوں کی مسند پر نااہل پیر 🏢 ادارہ جامعۃ المدینۃ انڈیا
خانقاہوں کی مسند پر نااہل پیر
کسی بھی ملک میں اگر جہالت پھیلتی ہے، تو اس کا سب سے بڑا سبب نااہل شخص کا عہدے پر بیٹھ جانا یا پھر نااہل شخص کو کسی عہدے پر بیٹھا دینا ہے۔ اب چاہے وہ نااہل شخص کوئی دنیا دار ہو یا پھر کسی خانقاہ کا پیر ہو، بہرحال جب جب بھی کوئی نااہل شخص کسی عہدے پر بیٹھا ہے تو اس ملک یا علاقہ میں فتنہ ہی پھیلا ہے۔ اور ایسا ہی فتنہ آج ہمیں دینی لبادہ اوڑھ کر خانقاہوں میں بیٹھنے والے نااہل پیروں کی صورت میں بھی دیکھنا پڑ رہا ہے۔
فرمانِ مصطفیٰ ﷺ اور نااہل افراد
آئیے، سب سے پہلے تو میں نااہل شخص کے بارے میں میرے آقا و مولیٰ مصطفی جانِ رحمت ﷺ کا فرمانِ عبرت نشان سناتا ہوں:
قال النبی ﷺ:
إذا وُسِّدَ الأمرُ إلى غيرِ أهلِه فانتظرِ الساعةَ.
ترجمہ: جب (کسی اہم) معاملے کو نااہل لوگوں کے سپرد کر دیا جائے، تو قیامت کا انتظار کرو۔
(رواہ البخاری)
جاہل پیروں کا طریقۂ واردات
جب بھی کوئی جاہل پیر، جسے نہ علمِ دین کی خوشبو چھوئی ہو، نہ جسے طریقت کے آداب کا شعور ہو، جب وہ کسی خا…