دولت کا نشہ اور ایپسٹین فائل | مال کی زیادتی اور فساد کا انجام

دولت کا نشہ اور ایپسٹین فائل | مال کی زیادتی اور فساد کا انجام ساجد عطاری مدنی (کوٹہ)
دولت کا نشہ اور ایپسٹین فائل | مال کی زیادتی اور فساد کا انجام
✍️ قلمکار ساجد عطاری مدنی 📝 موضوع دولت کا نشہ اور ایپسٹین فائل 🏢 ادارہ جامعۃ المدینۃ انڈیا دولت کا نشہ اور ایپسٹین (Epstein) فائل ایپسٹین… یہ وہ نام ہے جسے آج پوری دنیا جانتی ہے۔ جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) وہ شخص تھا جس نے ایک جزیرے کو عیاشی کا اڈا بنا ڈالا؛ جہاں انسانیت کی حرمت پامال ہوئی اور اخلاق کی دھجیاں اُڑیں۔ اس کے جرائم سے دنیا بخوبی واقف ہے۔ آج ہر طبقۂ فکر کے لوگ اسے برا بھلا کہتے ہیں—اور کیوں نہ کہیں؟ اس نے انسانیت کو تار تار کر دیا؛ ننھی ننھی کلیوں کی عصمت پر ڈاکا ڈالا، جوان لڑکیوں کی سودا بازی کی، انہیں قید و بند میں رکھ کر تکالیف دیں، ان کی عزت لوٹی، اور سفاکی کی انتہا کر دی۔ جرائم کی جڑ: دولت کا نشہ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس شخص کو یہ سب کرنے پر کس چیز نے اُبھارا؟ کیوں اسے نہ معصوم کلیوں پر رحم آیا، نہ جوان لڑکیوں کی عزت کا خیال رہا، نہ مظلوم انسانوں کی چیخوں کا درد محسوس ہوا؟ اس سب کی جڑ ایک ہی چیز ہے: دولت ۔ یہ شخص دولت کے نشے میں اس قدر گم ہو گیا کہ نہ اسے معصوم بچیوں کی عصمت کا احساس رہا، نہ جوان لڑکیوں کی سسکیاں سنائی دیں، نہ مظلوموں کی آہ…

ایک تبصرہ شائع کریں