مزید اپڈیٹس کا کام جاری ہے! اپنے مشورے دیجیے ہم سے رابطہ کریں!

دولت کا نشہ اور ایپسٹین فائل | مال کی زیادتی اور فساد کا انجام

دولت کا نشہ اور ایپسٹین فائل | مال کی زیادتی اور فساد کا انجام ساجد عطاری مدنی (کوٹہ)
دولت کا نشہ اور ایپسٹین فائل | مال کی زیادتی اور فساد کا انجام۔یہ مضمون عالمی سطح پر مشہور کیس Jeffrey Epstein کے پس منظر میں دولت کے نشے اور اس کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالتا ہے۔ قرآنِ کریم کی آیت “وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ…” کی تشریح کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ اگر رزق بے حساب دیا جائے تو انسان زمین میں فساد پھیلا سکتا ہے۔ اس تحریر میں نوجوان نسل کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اصل کامیابی مال و دولت میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، صبر اور شکر میں ہے۔ دولت اگر شکر کے ساتھ ہو تو نعمت ہے، اور غرور کے ساتھ ہو تو ہلاکت کا سبب۔
✍️ قلمکار
ساجد عطاری مدنی
📝 موضوع
دولت کا نشہ اور ایپسٹین فائل
🏢 ادارہ
جامعۃ المدینۃ انڈیا

دولت کا نشہ اور ایپسٹین (Epstein) فائل

ایپسٹین… یہ وہ نام ہے جسے آج پوری دنیا جانتی ہے۔ جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) وہ شخص تھا جس نے ایک جزیرے کو عیاشی کا اڈا بنا ڈالا؛ جہاں انسانیت کی حرمت پامال ہوئی اور اخلاق کی دھجیاں اُڑیں۔ اس کے جرائم سے دنیا بخوبی واقف ہے۔ آج ہر طبقۂ فکر کے لوگ اسے برا بھلا کہتے ہیں—اور کیوں نہ کہیں؟ اس نے انسانیت کو تار تار کر دیا؛ ننھی ننھی کلیوں کی عصمت پر ڈاکا ڈالا، جوان لڑکیوں کی سودا بازی کی، انہیں قید و بند میں رکھ کر تکالیف دیں، ان کی عزت لوٹی، اور سفاکی کی انتہا کر دی۔

جرائم کی جڑ: دولت کا نشہ

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس شخص کو یہ سب کرنے پر کس چیز نے اُبھارا؟ کیوں اسے نہ معصوم کلیوں پر رحم آیا، نہ جوان لڑکیوں کی عزت کا خیال رہا، نہ مظلوم انسانوں کی چیخوں کا درد محسوس ہوا؟

اس سب کی جڑ ایک ہی چیز ہے: دولت۔

یہ شخص دولت کے نشے میں اس قدر گم ہو گیا کہ نہ اسے معصوم بچیوں کی عصمت کا احساس رہا، نہ جوان لڑکیوں کی سسکیاں سنائی دیں، نہ مظلوموں کی آہیں اس کے دل تک پہنچ سکیں۔ دولت کے غرور نے اسے اندھا کر دیا؛ یہاں تک کہ وہ لڑکیوں کی سودا بازی کرنے لگا، ان کی عزتیں لوٹنے لگا، اور ننھی کلیوں کو مالدار درندوں کے حوالے کرنے لگا۔

حیرت تو اس وقت ہوئی جب یہ سنا کہ دولت کی خاطر ایک سگی بہن نے اپنی چھوٹی بہن کو اس عیاش شخص کے سامنے پیش کیا۔ اپنی چھوٹی بہن کو اس شخص کے سامنے پیش کرنے والی عورت کوئی مجبور، لاچار یا بے بس نہ تھی؛ بلکہ وہ ایک بڑی عہدے دار افسر تھی، جسے دنیا "عرب ہند اویس" کے نام سے جانتی تھی۔ اس عورت کو اس گھناؤنے عمل پر اُبھارنے والی چیز بھی دولت ہی تھی؛
(حقیقت خدا جانے اس ای میل 📩 کی)

اور ان تمام عیاشیوں کی بنیاد بھی دولت ہی تھی۔

قرآنی تعلیمات اور رزق کی تقسیم میں حکمت

اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے اللہ ربُّ العزت فرماتا ہے:

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُۚ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ
ترجمۂ کنزالعرفان: اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کے لیے رزق وسیع کر دیتا تو ضرور وہ زمین میں فساد پھیلاتے، لیکن وہ اندازے سے جتنا چاہتا ہے اتارتا ہے؛ بے شک وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے، انہیں دیکھ رہا ہے۔

وضاحت و خلاصہ

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو غریب اور بعض کو مالدار بنانے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کے لیے رزق وسیع کر دیتا تو وہ ضرور زمین میں فساد پھیلاتے۔ کیونکہ اگر تمام بندوں کا رزق یکساں کر دیا جاتا تو ایک صورت یہ بھی ہو سکتی تھی کہ لوگ مال کے نشے میں ڈوب کر سرکشی اور بغاوت کے کام کرتے۔ اور یہ بھی ممکن تھا کہ جب کوئی کسی کا محتاج نہ رہتا تو ضروریاتِ زندگی کا نظام درہم برہم ہو جاتا؛ نہ کوئی گندگی صاف کرنے کو تیار ہوتا، نہ کوئی سامان اٹھانے پر راضی ہوتا، نہ کوئی تعمیراتی کاموں میں محنت مزدوری کرتا۔ یوں نظامِ عالم میں ایسا بگاڑ پیدا ہوتا جسے ہر صاحبِ عقل بآسانی سمجھ سکتا ہے۔

ہمارے رب کے ہر ہر کام میں حکمت ہے۔ اگر اس نے کسی کو غریب رکھا تو اس میں بھی اس شخص کے لیے کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے؛ اور اگر کسی کو امیر بنایا تو اس میں بھی یقیناً کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔

لہٰذا بندے کا کام یہ ہے کہ رب تعالیٰ جس حال میں رکھے، وہ اس پر صبر اور شکر دونوں کو لازم پکڑے۔ دولت ہو تو شکر کے ساتھ، تنگی ہو تو صبر کے ساتھ—کیونکہ اصل کامیابی مال و دولت میں نہیں، بلکہ رب کی رضا میں ہے۔

بتاریخ: 8 رمضان 1447ھ / 26 فروری 2026ء بروز جمعرات
Cookie Consent
We serve cookies on this site to analyze traffic, remember your preferences, and optimize your experience.
NextGen Digital واٹس ایپ چیٹ پر آپ کو خوش آمدید
السلام علیکم ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہئں؟?
Type here...