رافضی کون؟
اسلامی تاریخ کا مطالعہ جہاں ہمیں فتوحات کی داستانیں سناتا ہے، وہاں عہدِ رسالت کے بعد پیدا ہونے والے مختلف فتنوں سے بھی روشناس کراتا ہے۔ انھی فتنوں میں ایک ابھرتا ہوا فتنہ رافضیت ہے، جس کو رفض یا رافضہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ گروہ حبِ اہل بیت کی آڑ میں جلیل القدر صحابہ کرام، بالخصوص خلفائے راشدین کا صراحتاً دشمن ہے؛ بلکہ یہ تو خلفائے راشدین کی خلافت کو "خلافتِ غاصبہ" کہتا ہے، اور ان کے معمولات میں صحابہ پر تبراء اور دیگر گستاخیاں شامل ہیں۔
لغوی اور اصطلاحی مفہوم
لغوی اعتبار سے: رفض کے معنی "الترک" یعنی چھوڑنے کے ہیں۔ ہر وہ گروہ جس نے اپنے قائد کو چھوڑ دیا ہو، اسے رافضہ کہا جاتا ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے: "رَفَضَ يَرْفِضُ رَفْضًا" یعنی اس نے ترک کر دیا۔
اصطلاحی طور پر: یہ لفظ مخصوص عقائد اور نظریات رکھنے والے اس گروہ پر بولا جاتا ہے جنہوں نے شیخین کریمین اور اکثر صحابہ کرام کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، اور یہ دعویٰ کیا کہ خلافت نبی کریم ﷺ کی نص کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ہے، اور ان کے علاوہ دوسروں کی خلافت باطل ہے۔
(القاموس المحيط، ص 344)
اصطلاحی طور پر: یہ لفظ مخصوص عقائد اور نظریات رکھنے والے اس گروہ پر بولا جاتا ہے جنہوں نے شیخین کریمین اور اکثر صحابہ کرام کی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، اور یہ دعویٰ کیا کہ خلافت نبی کریم ﷺ کی نص کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ہے، اور ان کے علاوہ دوسروں کی خلافت باطل ہے۔
(القاموس المحيط، ص 344)
نام پڑنے کی وجہ اور تاریخی پس منظر
دراصل یہ شیعہ کا ہی ایک گروہ ہے جس کو رافضی کہا جاتا ہے۔ اس نام کے پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ جب اہلِ عراق نے حضرت امام زین العابدین کے صاحبزادے حضرت زید بن علی کی زبانِ فیض ترجمان سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہما کی تعریف اور مدح سنی، تو کہنے لگے کہ یقیناً آپ ہمارے امام نہیں ہیں اور امام ہمارے ہاتھ سے گیا۔ ان کا مقصود تھا کہ آج کے دن سے ان سے ہمارا ہاتھ گیا۔
جس پر حضرت زید نے فرمایا کہ آج سے یہ لوگ "رافضی" بن گئے؛ یعنی ہمیں آج کے دن سے ان لوگوں نے چھوڑ دیا اور چلے گئے۔ بس اسی وقت سے اس جماعت کو رافضی کہا جانے لگا۔
(البداية والنهاية، ص 178، الناشر: دار ابن كثير، دمشق - بيروت)
جس پر حضرت زید نے فرمایا کہ آج سے یہ لوگ "رافضی" بن گئے؛ یعنی ہمیں آج کے دن سے ان لوگوں نے چھوڑ دیا اور چلے گئے۔ بس اسی وقت سے اس جماعت کو رافضی کہا جانے لگا۔
(البداية والنهاية، ص 178، الناشر: دار ابن كثير، دمشق - بيروت)
قرآنِ کریم کی روشنی میں رافضیت کا رد
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ
ترجمۂ کنز الایمان: سنتا ہے! وہی (صحابہ کو برا بھلا کہنے والے) احمق ہیں مگر جانتے نہیں۔
(القرآن، سورۃ البقرہ، آیت: 13)
اس آیتِ کریمہ کے تحت معلوم ہوا کہ صالحین کو بُرا کہنا اہلِ باطل کا قدیم طریقہ ہے؛ آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں، جیسے روافض خلفائے راشدین اور بہت سے صحابہ کو بُرا کہتے ہیں۔
(خزائن العرفان حاشیہ کنز الایمان، ص 7، مکتبۃ المدینہ)
(القرآن، سورۃ البقرہ، آیت: 13)
اس آیتِ کریمہ کے تحت معلوم ہوا کہ صالحین کو بُرا کہنا اہلِ باطل کا قدیم طریقہ ہے؛ آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں، جیسے روافض خلفائے راشدین اور بہت سے صحابہ کو بُرا کہتے ہیں۔
(خزائن العرفان حاشیہ کنز الایمان، ص 7، مکتبۃ المدینہ)
احادیثِ کریمہ کی روشنی میں فتنۂ رافضیت
ان کے بدترین عقائد کو سماعت کرنے سے پہلے ان کو چند احادیثِ کریمہ سے سمجھتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے کس بدترین گروہ سے بچنے اور دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔
نبی پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: "آخری زمانے میں ایک ایسی قوم ہوگی جن کو 'رافضہ' کہا جائے گا۔ جو کوئی انہیں پائے، وہ ان سے قتال کرے کیونکہ وہ مشرک ہیں۔"
(تاريخ بغداد - ت بشار – الخطيب البغدادي، ج 3، ص 135)
مولائے کائنات شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: "آخری زمانہ میں ایک قوم آئے گی جسے رافضی کہا جائے گا، اسی نام سے ان کو پہچانا جائے گا، وہ ہمارے شیعہ ہونے کا دعویٰ کریں گے حالانکہ وہ ہمارے شیعہ نہیں ہوں گے؛ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ابوبکر و عمر کو گالیاں دیں گے، تم انہیں جہاں پاؤ قتل کر دو، بلاشبہ وہ مشرک ہیں۔"
(معالم التنزيل، الصارم المسلول، ص 373)
نبی پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: "آخری زمانے میں ایک ایسی قوم ہوگی جن کو 'رافضہ' کہا جائے گا۔ جو کوئی انہیں پائے، وہ ان سے قتال کرے کیونکہ وہ مشرک ہیں۔"
(تاريخ بغداد - ت بشار – الخطيب البغدادي، ج 3، ص 135)
مولائے کائنات شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: "آخری زمانہ میں ایک قوم آئے گی جسے رافضی کہا جائے گا، اسی نام سے ان کو پہچانا جائے گا، وہ ہمارے شیعہ ہونے کا دعویٰ کریں گے حالانکہ وہ ہمارے شیعہ نہیں ہوں گے؛ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ ابوبکر و عمر کو گالیاں دیں گے، تم انہیں جہاں پاؤ قتل کر دو، بلاشبہ وہ مشرک ہیں۔"
(معالم التنزيل، الصارم المسلول، ص 373)
فتنۂ رافضیت کے چند عقائد و نظریات
ابو عبد اللہ نقشبندی صاحب نے اپنی کتاب "شیعہ اسلام کی نظر میں" میں چند عقائدِ رافضیہ کو ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہوں:
اور دوسری طرف صحابہ کرام کو گالیاں دینا، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کو ظالم، ناصب؛ بلکہ منافق اور کافر تک قرار دینا شیعوں کا روزمرہ کا کام ہے۔ چند صحابہ کرام کے علاوہ تمام اصحابِ کرام کو مرتد بتانا ان کا گندا عقیدہ ہے۔
- عقیدہ: اللہ تعالیٰ کبھی کبھی جھوٹ بھی بولتا ہے اور غلطی بھی کرتا ہے۔ (بحوالہ: اصول کافی، جلد 1، صفحہ 328)
- عقیدہ: خدا نے جبرائیل کو علی کی طرف بھیجا، وہ غلطی سے محمد (ﷺ) کی طرف چلے گئے۔ (تذكرة الائمہ، صفحہ 72)
- عقیدہ: موجودہ قرآن تحریف شدہ ہے (یعنی اس میں تبدیلی کی گئی ہے)۔ (حیات القلوب، جلد 3، صفحہ 10)
- عقیدہ: رسول اللہ ﷺ کے بعد جو قرآن جمع کیا گیا، وہ اصولاً غلط ہے۔ (ہزار تمہاری دس ہماری، صفحہ 560)
- عقیدہ: مرتبۂ امامت مرتبۂ پیغمبری سے بالاتر ہے۔ (حیات القلوب، جلد 3، صفحہ 2)
- عقیدہ: تین صحابہ کے سوا سب کافر تھے۔ (حیات القلوب، جلد 2، صفحہ 923)
- عقیدہ: عمر کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ (جلاء العیون، جلد 1، صفحہ 63)
- عقیدہ: مولائے کائنات سے محبت میں غلو اس قدر اختیار کرنا کہ اپنا عقیدہ یہ بنا بیٹھنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفائے ثلاثہ؛ بلکہ انبیائے کرام و رسلِ عظام سے بھی افضل ہیں۔ (معاذ اللہ!)
اور دوسری طرف صحابہ کرام کو گالیاں دینا، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کو ظالم، ناصب؛ بلکہ منافق اور کافر تک قرار دینا شیعوں کا روزمرہ کا کام ہے۔ چند صحابہ کرام کے علاوہ تمام اصحابِ کرام کو مرتد بتانا ان کا گندا عقیدہ ہے۔
اکابرینِ اہلِ سنت کا مؤقف
امامِ اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"جو رافضیوں میں رافضی اور سنیوں میں سنی بنتا ہے، تب تو ظاہر ہے کہ وہ رافضی بھی ہے اور منافق بھی۔"
(فتاوی رضویہ، ج 6، ص 528)
اہلِ سنت کا اجماع ہے کہ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام الاولیاء، مرجع العرفاء، امیر المومنین، مولی المسلمین، سیدنا مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے بھی اکرام و افضل و اتم و اکمل ہیں؛ جو اس کا خلاف کرے اسے بدعتی، شیعی، رافضی مانتے ہیں۔
(عرفان شریعت، ص 87)
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:
"جو شخص حضرت علی کو حضرت ابو بکر و عمر سے افضل کہے، وہ رافضی ہے۔"
(تذکرۃ المحدثین، ص 282)
"جو رافضیوں میں رافضی اور سنیوں میں سنی بنتا ہے، تب تو ظاہر ہے کہ وہ رافضی بھی ہے اور منافق بھی۔"
(فتاوی رضویہ، ج 6، ص 528)
اہلِ سنت کا اجماع ہے کہ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام الاولیاء، مرجع العرفاء، امیر المومنین، مولی المسلمین، سیدنا مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے بھی اکرام و افضل و اتم و اکمل ہیں؛ جو اس کا خلاف کرے اسے بدعتی، شیعی، رافضی مانتے ہیں۔
(عرفان شریعت، ص 87)
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:
"جو شخص حضرت علی کو حضرت ابو بکر و عمر سے افضل کہے، وہ رافضی ہے۔"
(تذکرۃ المحدثین، ص 282)
لمحۂ فکریہ اور خلاصۂ کلام
عہدِ حاضر میں فتنۂ خباثت بہت ہی عجلت کے ساتھ ہماری جماعت کے صاحبِ عزت لوگوں کے دلوں میں پیوست ہو رہا ہے۔ حال یہ ہے کہ بہت سے رافضی نظریات اور میلانات رکھنے والے بظاہر اہلِ سنت و جماعت کی صفوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ حبِ اہلِ بیت کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر جلیل القدر صحابہ کرام علیہم الرضوان پر سب و شتم کرتے ہیں، جن کی مثال 'کلابِ ھاویہ' (جہنم کے کتوں) کی سی ہے۔
خاص کر بعض خانقاہی اور معروف شخصیتوں کا حال اس قدر عیاں ہے کہ وہ رافضیوں اور تبرائیوں کی مجالس، ان کے منبروں اور ماتمی جلوسوں میں شرکت کرتے ہیں، اور وہاں "اتحاد" اور "مصلحت" کا پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں؛ جبکہ شرعی اور اعتقادی طور پر سنی اور رافضی کسی بھی طرح ایک نہیں ہو سکتے۔ ان تبرائیوں کا اصل کام ہی صحابہ کرام اور خلفائے ثلاثہ (سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم) پر سب و شتم کرنا اور بھولے بھالے لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔
اے میرے بھائی! مذکورہ احادیثِ طیبہ اور ان رافضیوں کے گندے عقائد سے آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ لوگ جب حضور ﷺ کے وفادار صحابہ کے نہ ہوئے، تو آپ کے کیسے مخلص ہو سکتے ہیں؟ جبکہ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے صراحتاً ثابت ہے، اور اہلِ سنت کا متفقہ فیصلہ اور اجماعی عقیدہ ہے کہ: "ہر صحابیِ نبی جنتی ہیں۔"
لہٰذا، شرعِ متین کا حکم یہی ہے کہ ان رافضیوں کی محفلوں، مجلسوں اور پروگراموں میں ہر طرح سے شرکت کرنے سے مکمل پرہیز کرو اور اپنے ایمان کی حفاظت کرو۔
اللہ کریم ہم سب کو عقلِ سلیم اور دینِ متین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔
خاص کر بعض خانقاہی اور معروف شخصیتوں کا حال اس قدر عیاں ہے کہ وہ رافضیوں اور تبرائیوں کی مجالس، ان کے منبروں اور ماتمی جلوسوں میں شرکت کرتے ہیں، اور وہاں "اتحاد" اور "مصلحت" کا پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں؛ جبکہ شرعی اور اعتقادی طور پر سنی اور رافضی کسی بھی طرح ایک نہیں ہو سکتے۔ ان تبرائیوں کا اصل کام ہی صحابہ کرام اور خلفائے ثلاثہ (سیدنا ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم) پر سب و شتم کرنا اور بھولے بھالے لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔
اے میرے بھائی! مذکورہ احادیثِ طیبہ اور ان رافضیوں کے گندے عقائد سے آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ لوگ جب حضور ﷺ کے وفادار صحابہ کے نہ ہوئے، تو آپ کے کیسے مخلص ہو سکتے ہیں؟ جبکہ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے صراحتاً ثابت ہے، اور اہلِ سنت کا متفقہ فیصلہ اور اجماعی عقیدہ ہے کہ: "ہر صحابیِ نبی جنتی ہیں۔"
لہٰذا، شرعِ متین کا حکم یہی ہے کہ ان رافضیوں کی محفلوں، مجلسوں اور پروگراموں میں ہر طرح سے شرکت کرنے سے مکمل پرہیز کرو اور اپنے ایمان کی حفاظت کرو۔
اللہ کریم ہم سب کو عقلِ سلیم اور دینِ متین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔