اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا شمار ممکن نہیں۔ ان نعمتوں میں سب سے بڑی اور قیمتی نعمت اولاد ہے۔ اولاد والدین کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے، جو نہ صرف نسلِ انسانی کے تسلسل کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ والدین کے لیے دنیا و آخرت میں سکون اور رحمت کا سبب بھی ہے۔ نیک اور صالح اولاد والدین کے لیے دنیا میں سکونِ قلب اور وفات کے بعد بخشش و مغفرت کا ذریعہ بنتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے:
1. صدقہ جاریہ
2. نفع بخش علم
3. نیک اولاد جو اس کے لیے دعائے خیر کرے۔"
(صحیح مسلم، کتاب الوصیتہ باب ما یلحق الانسان، الحدیث ۱۶۳۱، ص۸۸۶)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اولاد کی درست تربیت والدین کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا سبب ہے۔
اسلام اپنی جان کو ہی نہیں بلکہ اپنی نسلوں کو بھی جہنم سے بچانے کا حکم دیتا ہے والدین کی ذمے داری صرف یہ نہیں کہ بچے زندہ رہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ نیک، دین دار اور معاشرے کے لیے مفید بنیں۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو آگ سے بچاؤ۔
یہ آیت والدین پر واضح ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنی اولاد کی بھی دینی اور اخلاقی تربیت کریں۔
عصرِ حاضر کے چیلنجز
آج کی نسل فتنوں، لالچ اور فضول مشاغل کی لپیٹ میں ہے۔ نوجوان اپنی قیمتی جوانی سوشل میڈیا، کھیل کود، فضول دوستوں اور بے مقصد سرگرمیوں میں ضائع کر رہے ہیں۔ بداعمالی، غفلت اور نیک تعلیم کی کمی ان کے دلوں میں جگہ بناتی جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان اپنے مستقبل، اخلاق اور دین دونوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر والدین بروقت توجہ نہ دیں تو یہ صورتحال نہ صرف بچوں بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی اور اخلاقی تربیت پر توجہ دیں، ان کے دوستوں اور ماحول پر نظر رکھیں، اور انہیں نیک صحبت فراہم کریں۔ بچوں کو صرف دنیاوی تعلیم دینا کافی نہیں، بلکہ دینی اور اخلاقی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں میں نماز، قرآن، صدقہ، اخلاق حسنہ اور دوسروں کے حقوق کی اہمیت کی تربیت کریں۔
خلاصہ کلام
اگر آج ہم نے اپنی نسل کی اصلاح نہ کی تو کل ہمیں پچھتانا پڑے گا۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی صحیح رہنمائی کرے، تاکہ ایک صالح، نیک اور دین دار نسل وجود میں آئے۔ ایسی نسل نہ صرف والدین کے لیے باعثِ فخر ہوگی بلکہ پورے معاشرے کے لیے رحمت اور سکون کا ذریعہ بنے گی۔
میری آنے والی نسلیں تیرے عشق میں ہی مچلیں،
انہیں نیک تم بنانا، مدنی مدینے والے ﷺ
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اور اپنی نسلوں کو نیک اور دین دار بنائیں، تاکہ ہمارا معاشرہ امن، سکون اور ترقی کا گہوارہ بن سکے۔