ایمان لانے کے بعد ہر مسلمان پرپانچ وقت کی نماز فرض ہے نماز یہ وہ عظیم تحفہ ہے جو اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو عرش سے اوپر بلا کر عطا فرمایا نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ پاک نے نماز کا تقریباً سات سو سے زائد مرتبہ حکم فرمایا ہے اور اسے مومن کی معراج بھی قرار دیا گیا ہے۔
اللہ رب العالمین قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا
ترجمۂ کنز العرفان: بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔
(النساء 103)
فجر کی خاص فضیلت
ہر نماز کو وقت پر ادا کرنے کی اپنی فضیلت ہے لیکن فجر کی نماز کو خاص فضیلت حاصل ہے۔ بندہ جب اپنے رب کی رضا کے لئے اپنی میٹھی نیند کو قربان کر کے اپنے گرم گرم بستر کو چھوڑ کر ٹھنڈے پانی سے وضو کرکے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے تو اسے ایک روحانی سکون لذت اور اللہ کی قربت نصیب ہوتی ہے جو کسی اور چیز سے حاصل نہیں ہو سکتی ۔
احادیثِ مبارکہ اور علماء کے اقوال
1. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو صبح کی نماز پڑھتا ہے وہ شام تک اللہ پاک کے ذمے میں ہے۔"
(معجم کبیر، ج۱۲، ص۲۷۰، حدیث۱۳۲۱)
علامہ عبد الرؤف مناوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "جو فجر کی نماز اخلاص کے ساتھ پڑھے وہ اللہ پاک کی حفظ و امان میں ہے اور فجر کی نماز کا ذکر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس نماز میں مشقت (یعنی محنت) ہے اور اس پر پابندی صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کا ایمان خالص ہو اسی لئے وہ امان و حفاظت کا مستحق ہوتا ہے۔"
2. حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بارگاہ رسالت میں ایک شخص کے متعلق ذکر کیا گیا کہ وہ صبح تک سوتا رہا اور نماز کے لیے نہ اٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اس شخص کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے۔"
(بخاری، ج۱، ص۲۸۸، حدیث ۱۱۷۷)
حضرت علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یہ بات ثابت ہے کہ شیطان کھاتا پیتا اور نکاح کرتا ہے تو اگر وہ پیشاب بھی کر لے تو اس میں کیا رکاوٹ ہے۔"
(عمدۃ القاری، ج۵، ص۷۸۳)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس حدیث پاک کے تحت نماز تہجد کے لیے یا نماز فجر کے لیے نہ اٹھا، پہلے یعنی تہجد میں نہ اٹھنے والا معنی زیادہ مناسب ہے کیونکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان فجر کی نماز ہرگز قضا نہ کرتے تھے اور ممکن ہے کہ یہ کسی منافق کا واقعہ ہو جو فجر میں نہ آتا تھا۔ معلوم ہوا کہ نماز فجر میں نہ جاگنا بڑی نحوست ہے نیز کوتاہی کرنے والوں کی شکایت اصلاح کی غرض سے کرنا جائز ہے غیبت نہیں۔"
(مراٰةالمناجیح، ج۲، ص۲۵۷)
فجر میں سستی اور اس کا انجام
آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان دوسری نمازیں تو پڑھ لیتے ہیں مگر فجر میں سستی کر جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی دیگر نمازوں کی طرح فرض ہے اور اس کو ترک کرنے والا شخص گناہگار و عذاب نار کا حقدار ہے۔
چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت سیدی امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جس نے قصدا یعنی جان بوجھ کر ایک وقت کی نماز چھوڑی ہزاروں برس جہنم میں رہنے کا مستحق ہوا جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کر لے۔"
(فتاوی رضویہ، ج۹، ص۱۵۸تا۱۵۹)
دنیاوی و اخروی فوائد اور خلاصہ
صبح جلدی اٹھنے سے صحت بہتر رہتی ہے، سستی ختم ہوتی ہے اور انسان وقت کا پابند بنتا ہے۔ فجر کے بعد کا وقت پڑھائی، محنت اور منصوبہ بندی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح فجر کی نماز نہ صرف روحانیت بلکہ دنیاوی کامیابی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے دن کی شروعات اللہ پاک کی ذکر اور اس بندگی سے کریں تاکہ پورا دن ہمیں اس کی برکتیں ملتی رہیں۔ دوستوں کے ساتھ دیر رات تک بیٹھ کر موبائل فون یا دیگر فضولیات میں اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ جلدی سو جائیں الارم لگا کر سوئیں تاکہ فجر کی نماز با جماعت مل سکے۔