اطلبوا العلم من المھد الی اللحد کیا یہ حدیث ہے؟ تحقیق

مشہور قول "اطلبوا العلم من المھد الی اللحد" کی علمی تحقیق اور محدثین کی آراء جانیے۔
اطلبوا العلم من المھد الی اللحد کیا یہ حدیث ہے؟ تحقیق۔ مشہور قول "اطلبوا العلم من المھد الی اللحد" کی علمی تحقیق اور محدثین کی آراء جانیے۔
✍️ قلمکار
محمد سلیم رضا مدنی
📝 موضوع
”اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَهْدِ اِلَی اللَّحْدِ“ کیا یہ حدیث ہے؟
🏢 ادارہ
#

”اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَهْدِ اِلَی اللَّحْدِ“ کیا یہ حدیث ہے؟

یہ روایت "علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی گود تک" مشہور و معروف ہے، جسے بعض حضرات لاعلمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے طور پر بھی بیان کرتے ہیں۔ یہ الفاظ احادیثِ مبارکہ کی کتبِ معتمدہ و معتبرہ میں تلاشِ بسیار کے بعد بھی کہیں نہیں ملے، لہٰذا اس قول کو قولِ رسول کہہ کر بیان کرنا درست نہیں ہے اور عمداً ایسا کرنا گناہ ہے۔ تاہم، اس مضمون کے متعلق بزرگانِ دین اور صوفیائے کرام کے مختلف اقوال موجود ہیں، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ قول کلامِ صوفیا میں سے ہے، حدیث نہیں ہے۔

شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق

شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

هَذَا الْكَلَامُ: (طَلَبُ الْعِلْمِ مِنَ الْمَهْدِ إِلَى اللَّحْدِ) وَيُحْكَى أَيْضًا بِصِيغَةِ (اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَهْدِ إِلَى اللَّحْدِ): لَيْسَ بِحَدِيثٍ نَبَوِيٍّ، وَإِنَّمَا هُوَ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، فَلَا تَجُوزُ إِضَافَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَتَنَاقَلُهُ بَعْضُهُمْ، إِذْ لَا يُنْسَبُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا قَالَهُ أَوْ فَعَلَهُ أَوْ أَقَرَّهُ... وَهَذَا الْحَدِيثُ الْمَوْضُوعُ: (اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَهْدِ إِلَى اللَّحْدِ) مُشْتَهِرٌ عَلَى الْأَلْسِنَةِ كَثِيرًا، وَمِنَ الْعَجَبِ أَنَّ الْكُتُبَ الْمُؤَلَّفَةَ فِي (الْأَحَادِيثِ الْمُنْتَشِرَةِ) لَمْ تَذْكُرْهُ.
ترجمہ: یہ کلام "علم کا حاصل کرنا ماں کی گود سے قبر کی گود تک ہے" جسے ان الفاظ کے ساتھ بھی بیان کیا جاتا ہے "علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی گود تک"، یہ حدیثِ رسول نہیں ہے، یہ بزرگوں کے اقوال میں سے ہے۔ لہٰذا اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہی بات منسوب کی جائے گی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ نے کوئی کام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سکوت فرماتے ہوئے برقرار رکھا ہو۔ اور یہ من گھڑت حدیث "علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی گود تک" بہت سے لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہو گئی ہے، جبکہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ کتابیں جو احادیثِ مشہورہ پر لکھی گئی ہیں، ان میں بھی اس روایت کا تذکرہ موجود نہیں۔
(قيمة الزمن عند العلماء للشیخ عبد الفتاح ابو غدة، ص: 30، ط: مكتب المطبوعات الإسلامية)

دیگر علمائے کرام و صوفیائے عظام کے اقوال

1. امام محمد بن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ:
کتاب "تعلیم المتعلم" میں ہے:

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ: إِنَّ صِنَاعَتَنَا هَذِهِ مِنَ الْمَهْدِ إِلَى اللَّحْدِ
ترجمہ: امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارا یہ کام (علم سیکھنا) تو مہد (پالنے) سے لے کر لحد (قبر) تک ہے۔
(تعليم المتعلم، فصل فی التوكل، صفحه 115، المكتب الاسلامی)

2. امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ:
"مناقب امام احمد بن حنبل" میں ہے کہ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ فرمایا کرتے تھے:

أَنَا أَطْلُبُ الْعِلْمَ إِلَى أَنْ أَدْخُلَ الْقَبْرَ
ترجمہ: میں علم کو طلب کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ قبر میں داخل ہو جاؤں۔
(مناقب الإمام أحمد، صفحه 37، مطبوعه دار هجر)

3. مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ:
مفسرِ شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
صوفیاء فرماتے ہیں: "اُطْلُبُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَهْدِ إِلَى اللَّحْدِ" (یعنی گہوارے سے قبر تک علم سیکھو)۔
(مرآۃ المناجیح، جلد 1، صفحه 203، مطبوعه لاهور)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ جملہ اپنی جگہ ایک بہترین نصیحت اور صوفیائے کرام کا قول ضرور ہے، لیکن اسے حدیثِ رسول ﷺ کہنا شرعاً جائز نہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں