حب الوطن من الایمان کیا یہ حدیث ہے؟ مفصل تحقیقی جائزہ

وطن کی محبت سے متعلق مشہور مقولہ "حب الوطن من الایمان" کی اسناد اور محدثین کی تحقیق۔
حب الوطن من الایمان کیا یہ حدیث ہے؟ مفصل تحقیقی جائزہ۔ وطن کی محبت سے متعلق مشہور مقولہ "حب الوطن من الایمان" کی اسناد اور محدثین کی تحقیق۔
✍️ قلمکار
محمد سلیم رضا مدنی
📝 موضوع
”حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ“ کیا یہ حدیث ہے؟
🏢 ادارہ
مرکزی جامعۃ المدینہ، ناگپور

”حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ“ کیا یہ حدیث ہے؟

وطن سے محبت کرنا بلاشبہ درست اور شرعاً جائز ہے، اس پر صحیح احادیث موجود ہیں۔ خود حضور نبی کریم ﷺ کسی سفر سے آتے تو مدینہ شریف کی اونچی سڑکیں اور منزلیں دیکھ کر خوش ہوتے اور اونٹنی تیزی سے اس کی طرف دوڑا دیتے تھے، یہ اپنے وطن سے محبت کا بین ثبوت ہے۔

مگر وطن کی محبت میں اس مشہور روایت ”حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ“ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے بیان کرنا جائز نہیں۔ کیوں کہ محدثین کی آراء کی روشنی میں ان الفاظ کے ساتھ کسی حدیث کا ثبوت نہیں ہے، لہٰذا یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔

محدثینِ کرام کی آراء

1. مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

أَمَّا حَدِيثُ «حُبِّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ» فَمَوْضُوعٌ، وَإِنْ كَانَ مَعْنَاهُ صَحِيحًا
ترجمہ: رہی حدیث ”وطن کی محبت جزوِ ایمان ہے“، تو یہ موضوع ہے اگرچہ اس کا معنی درست ہے۔
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 3، ص 1158، رقم الحدیث 1604، طبع: دار الفكر، بيروت)

2. اسنی المطالب میں ہے:

«حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ» حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ.
(اسنی المطالب، ج 1، ص 123، طبع: دار الكتب العلمية بيروت)

3. امام جلال الدین سیوطی شافعی علیہ الرحمہ اس کے متعلق فرماتے ہیں:

لَمْ أَقِفْ عَلَيْهِ
ترجمہ: میں اس (حدیث) پر واقف نہیں ہوا۔
(الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة، ج 1، ص 108، الرياض)

4. ظفر الامانی میں ہے:

وَمِنْهَا حَدِيثُ حُبِّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ اشْتَهَرَ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ فِي مَجْمَعِ الْبِحَارِ لَا أَصْلَ لَهُ وَسَبَقَهُ بِذَلِكَ السَّخَاوِيُّ حَيْثُ قَالَ فِي الْمَقَاصِدِ لَمْ أَقِفْ عَلَيْهِ فَمَعْنَاهُ صَحِيحٌ
ترجمہ: احادیثِ مشہورہ میں سے ایک حدیث ”وطن کی محبت ایمان سے ہے“ بھی ہے جو لوگوں کے درمیان مشہور و معروف ہو گئی ہے۔ 'مجمع البحار' میں اس کے بارے میں فرمایا: اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اور امام سخاوی کا کلام گزرا کہ انہوں نے اپنی 'مقاصد الحسنہ' میں اس کے متعلق فرمایا: میں اس پر واقف نہیں ہوں اور اس کا معنی صحیح ہے۔
(ظفر الامانی، ج 1، ص 252، طبع: دار السلامۃ للطباعۃ والنشر)

5. ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

حَدِيثُ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ لَا أَصْلَ لَهُ عِنْدَ الْحُفَّاظِ
ترجمہ: حدیث ”حب الوطن من الایمان“ حفاظِ محدثین کے نزدیک اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
(المصنوع في معرفة الحديث الموضوع، ج 1، ص 91، طبع: مؤسسة الرسالة، بيروت)

اکابرینِ اہلِ سنت کی تشریح و توضیح

امامِ اہلِ سنت، سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”حب الوطن من الایمان“ (وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے) نہ حدیث سے ثابت، نہ ہرگز اس کے یہ معنی... اللہ عزوجل نے قرآنِ عظیم میں اپنے بندوں کی کمال مدح فرمائی جو اللہ و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت میں اپنا وطن چھوڑیں، یار و دیار سے منہ موڑیں، اور ان کی سخت مذمت فرمائی جو حبِ وطن لیے بیٹھے رہے اور اللہ و رسول کی طرف مہاجر نہ ہوئے۔ وہ وطن جس کی محبت ایمان سے ہے، وطنِ اصلی ہے جہاں سے آدمی آیا اور جہاں جانا ہے (یعنی جنت)۔
(ملخص از فتاویٰ رضویہ، ج 15، ص 296-297، طبع: جامعہ نظامیہ لاہور)

مفسرِ شہیر، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
صوفیائے کرام جو فرماتے ہیں کہ ”حب الوطن من الایمان“، یعنی وطن کی محبت ایمان کا رکن ہے، وہاں وطن سے مراد جنت ہے، یعنی اصلی وطن یا مدینہ منورہ کہ وہ مومن کا روحانی وطن ہے۔
(مرآۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 438، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وطن کی محبت پر صحیح حدیث

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ، أَوْضَعَ رَاحِلَتَهُ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا، مِنْ حُبِّهَا.
ترجمہ: جب حضور نبی کریم ﷺ کسی سفر سے آتے تو مدینہ شریف کی اونچی سڑکیں اور دیواریں دیکھ کر خوش ہوتے اور مدینے کی محبت میں اونٹنی تیزی سے اس کی طرف دوڑا دیتے تھے، اور اگر کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اس کو (تیز چلانے کے لیے) حرکت دیتے۔
(صحيح البخاري، ج 3، ص 23، الطبعة السلطانية)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ وطن سے محبت کرنا شرعاً و فطرتاً درست اور جائز ہے، مگر مخصوص الفاظ "حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ" کو حدیثِ رسول ﷺ کہہ کر بیان کرنا شرعاً درست نہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں