چودہ معصومین والے عقیدے کی تحقیق اور شرعی حکم

چودہ معصومین" کے عقیدے پر قرآن و سنت اور علمائے کرام کی روشنی میں تحقیقی اور شرعی جائزہ۔
چودہ معصومین والے عقیدے کی تحقیق اور شرعی حکم۔ چودہ معصومین" کے عقیدے پر قرآن و سنت اور علمائے کرام کی روشنی میں تحقیقی اور شرعی جائزہ۔
✍️ قلمکار
محمد سلیم رضا مدنی (بروز بدھ، 30 ستمبر 2026ء)
📝 موضوع
چودہ معصومین والے عقیدے کی تحقیق اور شرعی حکم
🏢 ادارہ
#

چودہ معصومین والے عقیدے کی تحقیق اور شرعی حکم

چودہ معصوم سے مراد شیعوں کے یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور بارہ اماموں کو معصوم ماننا ہے۔ یہ شیعوں کے غلط اور من گھڑت عقیدوں میں سے ایک ہے، جو کہ گمراہی اور بددینی ہے۔ ہمارے بعض سنی مسلمان بھی عدم علم اور مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اس سے متأثر ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ مسئلہ نہ جانتے ہوں تو انہیں چاہیے کہ علماء سے معلوم کرکے اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کریں۔

شریعتِ مطہرہ کا واضح مسئلہ ہے کہ انبیاء و ملائکہ کے علاوہ کوئی معصوم نہیں، جو ان کے علاوہ کسی کو معصوم مانے وہ گمراہ و بددین ہے۔ البتہ ائمۂ اہلِ بیت 'محفوظ' ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں اور خطاؤں سے محفوظ رکھا ہے اور وہ نہایت متقی، پارسا اور اعلیٰ درجے کی بزرگی کے حامل ہیں۔ اور بچوں کو معصوم بولنا اس اصطلاحی معصومیت سے خارج ہے، کیوں کہ وہاں بولنے والا لفظی طور پر معصوم مراد لیتا ہے (یعنی گناہ سے بچا ہوا، بے قصور وغیرہ)، نہ کہ یہ کہ بچہ کبھی گناہ کر ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا وہ اس بحث سے خارج ہے۔

معصوم سے کیا مراد ہے؟

شریعت میں "معصوم" سے مراد یہ ہے کہ ان کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہوچکا، جس کے سبب ان سے گناہ ہونا شرعاً محال ہے۔ ائمۂ اہلِ بیت، صحابۂ کرام اور اولیائے عظام سے بھی اگرچہ گناہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ انھیں محفوظ رکھتا ہے، مگر ان سے گناہ ہونا شرعاً محال بھی نہیں ہوتا۔ یعنی وہ کر سکتے ہیں مگر اللہ محفوظ رکھتا ہے، جبکہ انبیاء اور فرشتے گناہ کر ہی نہیں سکتے۔

قرآنِ پاک میں ارشادِ خداوندی ہے:

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِؕ
ترجمہ: ”اللہ چن لیتا ہے فرشتوں سے پیغمبر اور انسانوں سے۔“
(سورۃ الحج، آیت: 75)

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت نے انبیاء اور فرشتوں کو ایسے مقام کے لیے چنا ہے جو ان کے علاوہ کسی کا نہیں، اور وہ مقام معصومیت ہے، جس میں کوئی ان کا شریک نہیں۔

علمائے عقائد کے ارشادات

1. حضرت علامہ امام سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ "شرح العقائد النسفیہ" میں رقم طراز ہیں:

اِنَّ الْاَنْبِیَاءَ عَلَیْهِمُ السَّلَامُ مَعْصُوْمُوْنَ
ترجمہ: بیشک تمام انبیاء معصوم ہیں۔
(شرح العقائد النسفیہ، صفحہ نمبر 306)

2. حضرت علامہ عبدالعزیز پرہاروی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

الْمَلَائِكَةُ عِبَادُ اللّٰهِ تَعَالٰى الْعَامِلُوْنَ بِاَمْرِهٖ، يُرِيْدُ اَنَّهُمْ مَعْصُوْمُوْنَ
ترجمہ: ملائکہ بھی اللہ کے بندے ہیں اور اس کے حکم کے مطابق تمام امور سرانجام دیتے ہیں، اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ معصوم ہیں۔
(شرح العقائد کی شرح النبراس، صفحہ نمبر 287)

فتاویٰ رضویہ اور بہارِ شریعت کی روشنی میں

امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"اجماعِ اہلِ سنت ہے کہ بشر میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے سوا کوئی معصوم نہیں، جو دوسرے کو معصوم مانے اہلِ سنت سے خارج ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، جلد 14، صفحہ 186، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اسی طرح ایک اور مقام پر فتاویٰ رضویہ میں ہے:
"جو دوسرے کو معصوم مانے اہلِ سنت سے خارج ہے، پھر عرفِ حادِث میں بچوں کو بھی معصوم کہتے ہیں یہ خارج از بحث ہے جیسے لڑکوں کے معلم تک کو خلیفہ کہتے ہیں۔"
(ملتقطاً از فتاویٰ رضویہ، جلد 14، صفحہ 187، رضا فاؤنڈیشن)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ "بہارِ شریعت" میں لکھتے ہیں:
"نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور مَلَک (فرشتے) کا خاصہ ہے، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیاء کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔ عصمتِ انبیاء کے یہ معنیٰ ہیں کہ اُن کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہولیا، جس کے سبب اُن سے صدورِ گناہ شرعاً محال ہے بخلاف ائمہ و اکابر اولیاء، کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُنھیں محفوظ رکھتا ہے، اُن سے گناہ ہوتا نہیں، مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔"
(بہارِ شریعت، ج 1، ص 39، مکتبۃ المدینہ، دعوتِ اسلامی)

ایک تبصرہ شائع کریں