اجمیر شریف سے سرہند شریف کا روحانی سفر | رودادِ سفر

بزرگانِ دین کی آستانوں اجمیر شریف سے سرہند شریف تک کے بابرکت اور روحانی سفر کی روداد۔
اجمیر شریف سے سرہند شریف کا روحانی سفر | رودادِ سفر۔ بزرگانِ دین کی آستانوں اجمیر شریف سے سرہند شریف تک کے بابرکت اور روحانی سفر کی روداد۔
✍️ قلمکار
محمد کامران رضا (جامعۃ المدینہ، احمد آباد، گجرات)
📝 موضوع
اجمیر شریف سے سرہند شریف کا سفر
🏢 ادارہ
جامعۃ المدینہ، احمد آباد، گجرات

اجمیر شریف سے سرہند شریف کا سفر

الحمدللہ! عاشقانِ رسول کا یہ مدنی قافلہ چتوڑ گڑھ سے شام کے وقت اجمیر شریف کے لیے روانہ ہوا اور رات کے تقریباً دس بجے اجمیر شریف پہنچ گیا۔ ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد قافلہ سلطان الہند، خواجۂ خواجگان، فخر ہندوستان حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا۔ شاہجہانی مسجد کے صحن میں بیٹھ کر نعت و منقبت خوانی کی گئی اور دعا سے فیضیاب ہونے کے بعد واپس اپنے مقام پر پہنچ گئے۔

مزارِ مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ پر حاضری

دوسرے دن شام پانچ بجے ہمارا قافلہ سرزمینِ اجمیر سے روانہ ہوا۔ ہمارا قافلہ سرہند شریف (صوبہ پنجاب) جانے کے لیے اجمیر شریف کے اسٹیشن پر پہنچا۔ کچھ ہی دیر میں ٹرین پلیٹ فارم پر آئی اور ہم اس میں سوار ہو گئے۔ لیکن دل اب تک حضور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ پرانوار کی خوشبوؤں سے معطر تھا اور وہ روحانی کیفیت جو اجمیر میں نصیب ہوئی، اس کا اثر ابھی تک دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا۔

اجمیر سے سرہند کا فاصلہ کافی لمبا ہے۔ ٹرین میں بیٹھ کر ہم نے کچھ دیر آپس میں بات چیت کی، پھر مغرب اور بعد میں عشاء کی نماز ادا کی، رات کا کھانا کھایا اور اپنی اپنی سیٹ پر آرام کیا۔ نمازِ فجر کے لیے بیدار ہوئے، نمازِ فجر ادا کی اور پھر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ صبح تقریباً سات بجے ہمارا قافلہ لدھیانہ اسٹیشن پر ٹھہرا۔

اب نگاہیں اس سواری کی منتظر تھیں جو ہمیں مرکزِ انوار و منبعِ تجلیات، سرزمینِ سرہند تک لے جائے گی، جہاں مجددِ الفِ ثانی، امامِ ربانی حضرت شیخ ابو البرکات بدرالدین احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے فیوض و برکات سے صدیوں سے لوگ مالامال ہو رہے ہیں۔ آج ہم بھی ان شاء اللہ اسی فیضان سے حصہ پائیں گے۔ تھوڑی ہی دیر میں ٹرین پلیٹ فارم پر آئی اور ہم اس میں سوار ہو گئے۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے صحیح و سالم شہرِ مجدد سرہند میں اپنی قیام گاہ پر پہنچ گئے۔

الحمدللہ پھر تقریباً ایک بجے کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے مزار مقدس پر حاضری کی سعادت حاصل کی۔ ڈاکٹر محمد اقبال فرماتے ہیں:
حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار
اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار
گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیِ احرار
وہ ہند میں سرمایہِ ملت کا نگہباں
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار
حاضری کا سلسلہ جاری تھا کہ اذانِ ظہر ہو گئی۔ ماشاءاللہ! اذان ہوتے ہی مزار شریف کا دروازہ بند کر دیا گیا اور سب کو نماز کی دعوت دی جانے لگی۔ میری معلومات کے مطابق یہاں ہر نماز کے وقت مزار شریف بند ہو جاتا ہے۔

نماز کے بعد ہم دوبارہ مزار شریف پر حاضر ہوئے، فاتحہ خوانی اور دعا سے مشرف ہوئے اور وہاں کافی دیر تک دعا میں مشغول رہے۔ مجددی فیضان سے مالا مال ہوتے رہے۔ مزار کے اندر انتہائی پُرکشش، روحانیت و سکون سے لبریز اور بابرکت ماحول پایا۔ دیگر مزارات کی طرح یہاں نہ قوالی، نہ عورتوں کا ہجوم اور نہ ہی مجاوروں کی خرافات تھیں۔ الحمدللہ ان تمام چیزوں سے پاک ماحول پایا۔ یہاں عورتوں کے لیے بھی الگ جگہ بنائی گئی ہے۔

میں کافی دیر تک مزار شریف کے اندر رہا، کیونکہ وہاں دل کو بے پناہ سکون اور روحانی راحت حاصل ہو رہی تھی۔

مجلسِ مزاراتِ اولیاء کی دینی خدمات

الحمدللہ دعوتِ اسلامی دنیا بھر میں نیکی کی دعوت کو عام کرنے، سنتوں کی خوشبو پھیلانے، اور علمِ دین کی اشاعت میں مصروفِ عمل ہے۔ ہمارے ہندوستان میں دعوتِ اسلامی کے 60 سے زیادہ شعبہ جات قائم ہیں۔ ان میں سے ایک شعبہ ”مجلس مزارات اولیاء“ بھی ہے۔ اس مجلس کے ذمہ داران اور دیگر عاشقانِ اولیاء مدنی کاموں کے ساتھ ساتھ عرس کے دنوں میں بزرگانِ دین کے مزاراتِ مبارکہ پر حاضر ہوکر مختلف دینی خدمات سرانجام دیتے ہیں:
  • اجتماعاتِ ذکر و نعت: عرس کے ایام میں مزار شریف کے احاطے یا قریبی مساجد میں ذکر و نعت کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں تاکہ زائرین کے دلوں میں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت پروان چڑھے۔
  • مدنی قافلے: مختلف شہروں اور دیہاتوں سے عاشقانِ رسول کے مدنی قافلے لائے جاتے ہیں، جو عرس کے دنوں میں مزارات کے قریب 'دار السنہ' میں قیام کرتے ہیں۔ اور اگر وہاں پہلے سے دار السنہ قائم نہیں ہوتی تو ہال یا کمرے کرائے پر لے کر عارضی طور پر دار السنہ قائم کیا جاتا ہے اور عبادت و تعلیم و تربیت کا ماحول بنایا جاتا ہے۔
  • مدنی حلقے اور تربیتی نشستیں: مزارات پر آنے والے عاشقانِ رسول کو وضو، غسل، تیمم، نماز اور دیگر بنیادی مسائل سکھانے کے لیے سنتوں بھرے حلقے لگائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی "مزارات پر حاضری کے آداب" بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ لوگ سنت کے مطابق زیارت کریں۔
  • ایصالِ ثواب کا اہتمام: تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، درود شریف اور نفل عبادات کر کے ان کا ثواب صاحبِ مزار کی روح کو ایصال کیا جاتا ہے۔
  • دعوت و تبلیغ: مزارات پر آنے والے عاشقانِ رسول کو دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت، مدنی قافلوں میں سفر اور مدنی انعامات پر عمل کی ترغیب دی جاتی ہے۔
  • سجادہ نشین و متولی صاحبان سے ملاقات: موجودہ سجادہ نشین، خلفاء اور متولی صاحبان سے ملاقات کرکے انہیں دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی کاموں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
  • کتب و رسائل کی تقسیم: ماہنامہ فیضانِ مدینہ اور دیگر دینی رسائل تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ عوام الناس مطالعہ کرکے فائدہ حاصل کریں۔
  • نیکی کی دعوت عام کرنا: عام مسلمانوں کو نماز، روزہ اور دیگر فرائض و سنن کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نیکی کی دعوت دی جاتی ہے۔
  • علماء و مشائخ سے رابطہ: جو علمائے کرام و مشائخِ عظام عرس کے موقع پر تشریف لاتے ہیں، مبلغینِ دعوتِ اسلامی ان سے ملاقات کرتے ہیں، انہیں دعوتِ اسلامی کی دینی خدمات سے آگاہ کرتے ہیں اور کتب و رسائل پیش کرتے ہیں۔
  • چادر پوشی: صاحبِ مزار کی بارگاہِ اقدس میں عقیدت و محبت کے ساتھ پھولوں کی خوشبودار چادر پیش کی جاتی ہے، ذکر و اذکار اور فاتحہ خوانی کی روح پرور محفل سجتی ہے اور آخر میں رقّت انگیز دعا کی جاتی ہے۔

مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کا مختصر تعارف

  • ولادت: 14 شوال 971ھ بروز جمعہ سرہند شریف، ضلع فتح گڑھ، صوبہ مشرقی پنجاب، ہندوستان میں ہوئی۔
  • اسمِ گرامی و القابات: مجدد دین و ملت، عالم باعمل، صوفی باصفا، تاجدارِ سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ، امام ربانی، حضرت شیخ ابو البرکات بدرالدین احمد فاروقی سرہندی حنفی المعروف مجدد الف ثانی نقشبندی قادری رضی اللہ عنہ۔
  • تعلیم و بیعت: 17 سال کی عمر میں علومِ ظاہری سے سندِ فراغت پائی۔ آپ مرید و خلیفہ خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے ہیں۔
  • تصانیف: آپ کی کئی تصانیف ہیں مگر سب سے معروف و مشہور ”مکتوباتِ امام ربانی“ اور ”ردِ روافض“ ہے۔
  • وصال: 28 صفر المظفر 1034ھ بروز منگل وصال فرمایا، روضۂ مبارک سرہند شریف مرجعِ انوار ہے۔ (سیرت مجدد الف ثانی، جہانِ امام ربانی)

حضرت عبدالاحد رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے والد بزرگوار حضرت مخدوم عبدالاحد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ، جو اپنے وقت کے بہت بڑے ولیِ کامل تھے، ان کے مزار شریف پر بھی حاضری دی۔ وہاں سے تھوڑی دوری پر ایک عالی شان دارالعلوم قائم ہے جو حضرت شیخ ابوبکر شافعی مدظلہ العالی کی سرپرستی میں چلتا ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دل بہت خوش ہوا کیونکہ سرہند اور پنجاب کے کئی علاقوں میں زیادہ تر بدمذہبوں کا قبضہ ہے۔

پہنچتے ہی نازشِ اہلِ سنت حضرت مفتی نازش مدنی نقشبندی مجددی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ساتھ ہی اس ادارے کے اساتذۂ کرام سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد مفتی نازش صاحب سے کافی دیر تک گفتگو ہوئی۔ موبائل کے ذریعہ مفتی صاحب سے رابطہ تھا مگر یہ زندگی کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی، مگر مفتی صاحب کی محبت، شفقت اور خلوص سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے حضرت سے کئی سالوں پرانا تعلق ہو۔

پھر مفتی صاحب کسی ضروری کام سے وہاں سے تشریف لے گئے۔ وہاں پر حضرت شیخ ابوبکر شافعی مدظلہ العالیٰ کے شہزادے حضرت علامہ ڈاکٹر عبد الحکیم شافعی مدظلہ الاقدس تشریف لائے تھے، ان سے ملاقات اور دست بوسی کی سعادت حاصل ہوئی۔ حضرت کے ساتھ تقریباً آدھا گھنٹہ گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ ہم نے انہیں بارہ ماہ کے مدنی قافلے کے متعلق بتایا تو حضرت بہت خوش ہوئے اور دعائیں دیں۔ دعوتِ اسلامی کے تحت چلنے والے جامعات کے نصاب کے متعلق پوچھا اور مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی، پھر ہم وہاں سے اپنی قیام گاہ کی طرف آ گئے۔

براس میں منسوب مزاراتِ انبیاء کی زیارت

آخری دن صبح سرہند سے تقریباً 17 سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع 'براس' نامی گاؤں میں انبیائے کرام علیہم السلام سے منسوب قبور پر حاضری دینے کا موقع میسر ہوا۔ ان مزارات کے بارے میں مفتی نازش مدنی مجددی صاحب اپنی کتاب تذکرہ اولیائے سرہند، صفحہ: 324 میں تحریر فرماتے ہیں:

"حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ایک دن جنگل کی سیر کے واسطے باہر نکلے۔ شہر کے باہر جنوب مشرقی کونے میں ایک بلند ٹیلہ تھا۔ اُسے اپنے قدومِ میمنت لزوم سے مشرف فرمایا اور ظہر کی نماز وہیں ادا کی۔ اور دیر تک مراقبہ کرنے کے بعد لوگوں کو فرمایا کہ کشفی نظر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس ٹیلے پر انبیاء کے مقبرے ہیں بلکہ ان بزرگوں نے مجھ سے ملاقات بھی کی ہے اور مجھے کہا ہے کہ ہم اس مقام میں آرام کیے ہوئے ہیں۔"

اختتامی حاضری اور دہلی روانگی

آخری بار شیخ الحدیث حضرت علامہ عطاء مصطفیٰ مصباحی صاحب اور دعوتِ اسلامی کے مبلغین کے ساتھ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مزارِ پرانوار پر حاضری دی۔ منقبت کے اشعار پڑھتے ہوئے دربار میں حاضر ہوئے اور پھولوں کی چادر کا نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ پھر منقبت، فاتحہ خوانی ہوئی اور آخر میں علامہ عطاء مصطفیٰ مصباحی صاحب اور مولانا صلاح الدین صاحب نے رقت انگیز دعا فرمائی۔

پھر خریداری کرنے کے بعد ہمارا یہ قافلہ سرہند سے دہلی کے لیے روانہ ہو گیا۔ رات میں جامعۃ المدینہ میں قیام کیا اور صبح کوٹا، راجستھان کے لیے روانہ ہو گئے۔ یہ ہمارا ایک ماہ کا قافلہ راجستھان کے اسٹیٹ نگران جناب علی عطاری صاحب کے ساتھ تھا جن کی وجہ سے سرہند شریف کی حاضری نصیب ہوئی۔ قافلے کے اختتام پر جناب علی عطاری صاحب کے گھر ہماری دعوت ہوئی اور وہیں ہمارا یہ قافلہ اختتام پذیر ہوا۔

ایک تبصرہ شائع کریں