مولانا بلال رضا مدنی کا سنتِ نکاح: سادگی اور رسومات سے بچ کر

سنتِ نکاح کی سادگی اور غیر شرعی رسومات سے بچنے کی ترغیب پر مشتمل ایک اہم اصلاحی مقالہ۔
مولانا بلال رضا مدنی کا سنتِ نکاح: سادگی اور رسومات سے بچ کر۔ سنتِ نکاح کی سادگی اور غیر شرعی رسومات سے بچنے کی ترغیب پر مشتمل ایک اہم اصلاحی مقالہ۔
✍️ قلمکار
عمران رضا عطاری مدنی
📝 موضوع
مولانا بلال رضا مدنی کا سنتِ نکاح: سادگی کے ساتھ، رسومات سے بچ کر
🏢 ادارہ
مجمع التصانیف

مولانا بلال رضا مدنی کا سنتِ نکاح: سادگی کے ساتھ، رسومات سے بچ کر

نکاح نام ہے دو گواہوں کے درمیان مرد و عورت کے ایجاب و قبول کا، خرچہ بس اس قدر کہ مہر ادا کیا جائے، اور مرد ولیمہ کرے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ولیمہ چند افراد یعنی 5 سے 10 افراد کو بھی بلا لیں تو ادا ہوجاتا ہے، اس کے لیے ایک ہزار، پانچ سو افراد کی شرکت شرط، فرض یا واجب نہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے کی مباح، اور ناجائز و حرام رسومات اور کلچر نے نکاح کو کس قدر مشکل اور مہنگا بنادیا ہے، ہر شخص کو بخوبی اندازہ ہے۔

آج صرف نام و نمود، دکھاوے اور شہرت کے حصول کے لیے شادی بیاہ میں بے دریغ خرچ کرنا عام ہوتا جارہا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے، اور دوسری طرف ایسے افراد بھی ہیں جو استطاعت نہ ہونے کے باوجود محض معاشرتی دباؤ اور لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے قرض اور ادھار لے کر شادی کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شادی تو ہوجاتی ہے، دولہا والد بھی بن جاتا ہے، مگر باورچی کے پیسے باقی ہوتے ہیں، کپڑوں کی سلائی ادا نہیں کی ہوتی اور شادی ہال کا کرایہ بھی واجب الادا ہوتا ہے۔

حالاں کہ دینِ اسلام نے نکاح کو نہایت آسان، سادہ اور کم خرچ رکھا ہے۔ ذرا بانیِ اسلام ﷺ کی تعلیمات ملاحظہ کیجیے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُؤْنَةً
ترجمہ: بے شک سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم ہو۔
(مشكاة المصابيح، ج 2، ص 930، حدیث: 3097)

مرقاۃ المصابیح میں ہے: «أَيْسَرُهُ» سے مراد نکاح کی مختلف صورتوں میں سب سے آسان اور کم خرچ نکاح ہے، یعنی جس میں مہر اور نفقہ وغیرہ کے اخراجات کم ہوں۔ اس حدیثِ مبارکہ میں نکاح کے معاملے میں قناعت اور سادگی اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ قناعت ایسی دولت ہے جو نہ ختم ہوتی ہے اور نہ فنا ہوتی ہے۔
(مرقاۃ المصابیح، ج 5، ص 2049)

ایک سنتِ نکاح کی خوبصورت مثال

گزشتہ دنوں ہمارے دوست مولانا حافظ بلال رضا عطاری مدنی (بنارس) کا نکاح ہوا۔ اس نکاح میں سادگی، سنت کی پیروی اور غیر ضروری رسومات سے اجتناب کا ایسا خوبصورت نمونہ دیکھنے کو ملا کہ اسے دوسروں کے لیے بھی قابلِ تقلید مثال کہا جاسکتا ہے۔

شادی سے تقریباً دو ماہ قبل مولانا کے گھر والے لڑکی والوں کے یہاں گئے۔ رشتہ طے ہونے پر صرف پانچ سو روپے کا نوٹ بطورِ خوشی پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ منگنی کی کوئی فضول رسم نہیں ہوئی، نہ زیادہ لین دین کا اہتمام کیا گیا اور نہ کسی قسم کی غیر ضروری دعوت وغیرہ کا سلسلہ ہوا۔

لڑکی والوں کی طرف سے اصرار تھا کہ بارات میں کم از کم 100 یا 200 افراد ضرور آئیں، لیکن مولانا کی طرف سے یہی طے تھا کہ بارات مختصر افراد پر مشتمل ہوگی۔ بالآخر 25 ویں کی نسبت سے 25 افراد پر مشتمل بارات کا قافلہ وہاں پہنچا۔ نہ پٹاخے، نہ شور و غل اور نہ کوئی غلط رسم! نکاح کے موقع پر نعت خوانی ہوئی، نکاح کے بعد سلام اور سہرے کے اشعار پڑھے گئے اور یوں نہایت پاکیزہ ماحول میں نکاح کی تقریب مکمل ہوئی۔

ناجائز رسومات سے مکمل اجتناب

رخصتی کے مواقع پر بعض جگہ بے حیائی، مذاق بازی اور مرد و عورت کے اختلاط جیسی صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں، لیکن یہاں ابتدا ہی سے یہ طے تھا کہ کوئی ناجائز رسم نہیں ہوگی۔ دولہا صاحب عورتوں کے درمیان سلام کرنے کے لیے نہیں گئے اور نہ ہی سالیوں کی جانب سے کسی قسم کا اصرار ہوا۔ وہ اول تا آخر ہمارے ساتھ رہے۔ عورتوں کے درمیان نہ جانے اور غیر ضروری رسومات سے بچنے کے متعلق پہلے ہی بات واضح کردی گئی تھی کہ کوئی ناجائز رسم نہیں ہوگی۔ تعجب تو اس وقت ہوا جب دولہے کا جوتا چرانے اور اس کے بدلے رقم لینے کی رسم بھی نہیں ہوئی۔ یوں نہایت سادگی اور وقار کے ساتھ رخصتی کا مرحلہ بھی مکمل ہوگیا۔

سنت: ولیمہ

اس کے بعد مقررہ وقت پر دعوتِ ولیمہ کا اہتمام کیا گیا۔ ولیمہ بھی نہایت خوبصورت، باوقار اور قابلِ تقلید رہا۔ عشاء کی نماز کے بعد محفلِ نعت کا انعقاد ہوا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک نعت خوانی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد سلام و دعا ہوئی، پھر دعوت کا سلسلہ شروع ہوا۔ لوگوں نے کھانا کھایا، دولہا دلہن کے لیے دعائیں کیں اور خوشی خوشی رخصت ہوگئے۔

جہیز سے صاف انکار

اس نکاح کی ایک اور قابلِ تقلید بات یہ تھی کہ جہیز نہیں لیا گیا۔ مولانا کے گھر والوں نے بھی سختی کے ساتھ منع کردیا تھا کہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر والدین اپنی بیٹی کو اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو اس سے منع نہیں کیا گیا۔

یہ نکاح ایک پیغام ہے!

میں بہت سے نکاحوں میں شریک ہوا ہوں، لیکن جس حدیثِ مبارکہ میں کم خرچ نکاح کو زیادہ بابرکت قرار دیا گیا ہے، اس کی ایک عملی تصویر مولانا بلال رضا عطاری مدنی کے نکاح میں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کو ملی۔ مولانا نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ کون کیا کہے گا؟ کون اعتراض کرے گا؟ کون طنز کرے گا؟ بلکہ ان تمام باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے سادگی، وقار اور سنت کے مطابق نکاح کیا۔

یہ نکاح صرف ایک ازدواجی رشتہ کا نام نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک عملی پیغام بھی ہے کہ نکاح کو آسان بنایا جائے، فضول رسومات سے بچا جائے، دکھاوے اور اسراف سے دور رہا جائے اور سنتِ رسول ﷺ کو مقدم رکھا جائے۔ آج ہمیں ایسے ہی نکاح کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کے لیے آسانی کا سبب بنیں، والدین کو قرض کے بوجھ سے بچائیں اور معاشرے کو غیر ضروری رسم و رواج سے نجات دلائیں۔

یاد رکھیے! نکاح کی عظمت خرچ کی کثرت میں نہیں، بلکہ سنت کی پیروی اور برکت میں ہے۔

اللہ پاک مولانا حافظ بلال رضا عطاری مدنی اور ان کی اہلیہ کو خوش گوار، پُرسکون اور بابرکت ازدواجی زندگی عطا فرمائے، ان کے گھر کو محبت، الفت، خیر و برکت سے آباد فرمائے اور اس سنتی نکاح کو دوسروں کے لیے بھی ہدایت و ترغیب کا ذریعہ بنائے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین ﷺ۔

(اس نیت سے یہ مضمون شیئر کریں کہ شاید ہمارے معاشرے میں بہتری آ جائے۔)

ایک تبصرہ شائع کریں