جی امی! میں پہنچ گیا…
24 محرم الحرام کو میری والدہ محترمہ اس دنیا سے داغِ مفارقت دے گئیں۔ اللہ پاک انہیں غریقِ رحمت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
جب بھی سفر پر نکلنا ہوتا تو دل میں ایک عجیب سی امید اور آس ہوتی کہ کوئی ہے، جو میرے پیچھے میرے لیے دعا کرتا رہے گا۔ گھر سے نکلتے وقت والدہ محترمہ کی دعائیں لیتا، دست بوسی کرتا اور پھر سفر پر روانہ ہوتا۔ جب منزلِ مقصود پر پہنچتا تو سب سے پہلے والدہ کو فون کرکے اطلاع دیتا: "جی امی! میں پہنچ گیا ہوں۔"
کوشش ہوتی کہ روزانہ ہی فون کروں، لیکن اگر کبھی مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کر پاتا تو امی جان خود فون کرلیتیں۔ کبھی خیریت دریافت کرنے کے بعد بات مکمل ہوجاتی، مگر میں جان بوجھ کر اِدھر اُدھر کی باتیں چھیڑ دیتا، تاکہ کچھ دیر اور ان کی آواز سن سکوں، ان کا دل بہلے اور وہ خوش رہیں۔
جب بھی سفر پر نکلنا ہوتا تو دل میں ایک عجیب سی امید اور آس ہوتی کہ کوئی ہے، جو میرے پیچھے میرے لیے دعا کرتا رہے گا۔ گھر سے نکلتے وقت والدہ محترمہ کی دعائیں لیتا، دست بوسی کرتا اور پھر سفر پر روانہ ہوتا۔ جب منزلِ مقصود پر پہنچتا تو سب سے پہلے والدہ کو فون کرکے اطلاع دیتا: "جی امی! میں پہنچ گیا ہوں۔"
کوشش ہوتی کہ روزانہ ہی فون کروں، لیکن اگر کبھی مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کر پاتا تو امی جان خود فون کرلیتیں۔ کبھی خیریت دریافت کرنے کے بعد بات مکمل ہوجاتی، مگر میں جان بوجھ کر اِدھر اُدھر کی باتیں چھیڑ دیتا، تاکہ کچھ دیر اور ان کی آواز سن سکوں، ان کا دل بہلے اور وہ خوش رہیں۔
یادوں کا سفر اور ایک کسک
آج والدہ کے وصال کو تقریباً دو ماہ گزر چکے ہیں اور میں شہر سے باہر سفر پر ہوں۔ مگر آج سفر پر نکلتے ہوئے دل میں ایک درد ہے، ایک عجیب سی کسک ہے… اب گھر سے نکلتے وقت میں کس کی دست بوسی کرکے دعائیں لوں گا؟ میرے جانے کے بعد میرے لیے کون دعا کرے گا؟ منزل پر پہنچنے کے بعد فون کرکے کون پوچھے گا: "عمران! اچھے سے پہنچ گئے؟ عمران! ابھی کہاں ہو؟ کھانا کھایا یا نہیں؟ واپسی کب ہے؟"
اللہ اللہ! والدہ کی وہ محبتیں، وہ دعائیں، وہ فکر، وہ فون، وہ آواز… اب سب صرف یادیں رہ گئی ہیں۔
آج سفر میں ہوں تو والدہ کی عدم موجودگی کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ شدت سے ہورہا ہے۔ دل بار بار ماضی کی انہی یادوں میں لوٹ جاتا ہے۔ اور آج رات… خواب میں والدہ محترمہ کی زیارت بھی ہوئی۔
کیا کہوں اس احساس کو؟ ماں دنیا سے چلی جائے تو گھر وہی رہتا ہے، راستے وہی رہتے ہیں، سفر بھی وہی رہتے ہیں… مگر "امی! جی امی! ہاں امی!" کہنے کے لیے وہ آواز نہیں رہتی جس کا انتظار دل کو رہتا تھا۔
کیا کہوں اس احساس کو؟ ماں دنیا سے چلی جائے تو گھر وہی رہتا ہے، راستے وہی رہتے ہیں، سفر بھی وہی رہتے ہیں… مگر "امی! جی امی! ہاں امی!" کہنے کے لیے وہ آواز نہیں رہتی جس کا انتظار دل کو رہتا تھا۔
پیارے اسلامی بھائیو!
آپ میں سے جن کی والدہ زندہ ہیں، یقیناً وہ بہت خوش قسمت ہیں۔ ان کی قدر کریں، انہیں اہمیت دیں، ان کے ساتھ ایسا حسنِ سلوک کریں کہ وہ بغیر کہے آپ کے لیے دعا کریں۔ ان کی دست بوسی اور قدم بوسی کو دارین میں کامیابی کا سبب سمجھیں۔ ماں کی محبت اور دعائیں بہت بڑی نعمت ہیں، ان کی قدر اس وقت نہ کریں جب وہ صرف یادیں بن جائیں۔
اللہ پاک میری والدہ محترمہ کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور مجھے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔