غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا علمی مقام
محترم قارئینِ عظام!
بفضلہٖ تعالیٰ قطبِ ربانی، شہبازِ لامکانی، غوثِ صمدانی، شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی وقار اولیائے کرام میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ آپ کی حیاتِ طیبہ کا ہر گوشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔
غوثِ اعظم جیلانی رضی اللہ عنہ کی مبارک زندگی بے شمار کمالات، خصوصیات اور امورِ خارقات پر مشتمل ہے۔ انہی کمالات اور امورِ خارقات میں سے ایک آپ کا "علمی مقام و مرتبہ" ہے۔
بفضلہٖ تعالیٰ قطبِ ربانی، شہبازِ لامکانی، غوثِ صمدانی، شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی وقار اولیائے کرام میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ آپ کی حیاتِ طیبہ کا ہر گوشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔
غوثِ اعظم جیلانی رضی اللہ عنہ کی مبارک زندگی بے شمار کمالات، خصوصیات اور امورِ خارقات پر مشتمل ہے۔ انہی کمالات اور امورِ خارقات میں سے ایک آپ کا "علمی مقام و مرتبہ" ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ کا تبحرِ علمی
حضرت حافظ ابو العباس احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ایک مرتبہ حضور غوثِ اعظم جیلانی رضی اللہ عنہ کے اجتماعِ غوثیہ میں حاضر ہوا۔ ایک قاری نے قرآنِ کریم کی تلاوت کی۔ تلاوت کے بعد حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ نے بیان کا آغاز کیا اور متلو آیاتِ مبارکہ میں سے ایک آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے آیت کا ایک معنیٰ بیان فرمایا۔ میں نے علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ:
"کیا آپ کو اس تفسیر کا علم تھا؟"
انہوں نے جواب دیا: "ہاں! مجھے یہ تفسیری قول معلوم تھا۔"
اس کے بعد حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک ایک کرکے گیارہ (11) تفسیری اقوال ذکر فرمائے۔ میرے دریافت کرنے پر ہر بار علامہ ابن جوزی فرماتے رہے کہ یہ تفسیری قول بھی مجھے معلوم تھا۔ حافظ ابو العباس فرماتے ہیں: حضور غوثِ اعظم نے اس ایک آیتِ مبارکہ کے چالیس (40) تفسیری اقوال بیان فرمائے اور ہر ہر قول کے قائل کا نام بھی بیان فرمایا، مگر گیارہ تفسیروں کے بعد سے ہر تفسیر کے بارے میں میرے پوچھنے پر علامہ ابن جوزی نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہتے رہے کہ یہ تفسیر میرے علم میں نہیں۔
(غوث اعظم بطور مفتی اعظم، ص: 10)
"کیا آپ کو اس تفسیر کا علم تھا؟"
انہوں نے جواب دیا: "ہاں! مجھے یہ تفسیری قول معلوم تھا۔"
اس کے بعد حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک ایک کرکے گیارہ (11) تفسیری اقوال ذکر فرمائے۔ میرے دریافت کرنے پر ہر بار علامہ ابن جوزی فرماتے رہے کہ یہ تفسیری قول بھی مجھے معلوم تھا۔ حافظ ابو العباس فرماتے ہیں: حضور غوثِ اعظم نے اس ایک آیتِ مبارکہ کے چالیس (40) تفسیری اقوال بیان فرمائے اور ہر ہر قول کے قائل کا نام بھی بیان فرمایا، مگر گیارہ تفسیروں کے بعد سے ہر تفسیر کے بارے میں میرے پوچھنے پر علامہ ابن جوزی نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہتے رہے کہ یہ تفسیر میرے علم میں نہیں۔
(غوث اعظم بطور مفتی اعظم، ص: 10)
علامہ ابن جوزی کا مقام اور غوثِ پاک کی وسعتِ علمی
محترم قارئینِ کرام! علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کوئی عام شخصیت نہیں بلکہ یہ تو وہ ذات ہیں جو وقت کے بہت بڑے عالم و امام تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ قرآن، علمِ حدیث، علمِ فقہ، جغرافیہ، علمِ طب، تاریخ، تفسیر، علمِ نجوم، حساب، لغت اور نحو وغیرہ کے علاوہ دیگر بہت سے علوم و فنون میں بھی قابلِ قدر کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ آپ کی تصانیف کی تعداد تین سو (300) سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جن میں کئی تو کئی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں اور کچھ رسالے بھی شامل ہیں۔
(ماخوذ از: غوث اعظم بطور مفتی اعظم، ص: 12)
اس کے باوجود حضور غوثِ اعظم جیلانی رضی اللہ عنہ علم کے ایسے بحرِ ذخار تھے کہ آپ کو علمِ فقہ، علمِ حدیث، علمِ تفسیر، علمِ نحو اور علمِ ادب وغیرہ پر مکمل مہارت حاصل تھی۔ حتیٰ کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کو آپ کے استادوں نے علمِ حدیث کی سند دی تو فرمانے لگے:
"اے عبدالقادر! الفاظِ حدیث کی سند تو ہم آپ کو دے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے معانی و مفہوم کو سمجھنا تو ہم نے آپ ہی سے سیکھا ہے۔"
حضرت علامہ نور الدین ابوالحسن علی شطنوفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ تیرہ (13) علوم میں بیان فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے مدرسے میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور علم الکلام وغیرہ پڑھتے تھے۔ دوپہر سے پہلے اور بعد دونوں وقت لوگوں کو تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول اور نحو پڑھاتے تھے اور ظہر کے بعد آپ تجوید و قراءت کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھایا کرتے تھے۔
(ماخوذ از: غوث پاک کا علمی مقام، ص: 13-14)
(ماخوذ از: غوث اعظم بطور مفتی اعظم، ص: 12)
اس کے باوجود حضور غوثِ اعظم جیلانی رضی اللہ عنہ علم کے ایسے بحرِ ذخار تھے کہ آپ کو علمِ فقہ، علمِ حدیث، علمِ تفسیر، علمِ نحو اور علمِ ادب وغیرہ پر مکمل مہارت حاصل تھی۔ حتیٰ کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کو آپ کے استادوں نے علمِ حدیث کی سند دی تو فرمانے لگے:
"اے عبدالقادر! الفاظِ حدیث کی سند تو ہم آپ کو دے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے معانی و مفہوم کو سمجھنا تو ہم نے آپ ہی سے سیکھا ہے۔"
حضرت علامہ نور الدین ابوالحسن علی شطنوفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ تیرہ (13) علوم میں بیان فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے مدرسے میں لوگ آپ سے تفسیر، حدیث، فقہ اور علم الکلام وغیرہ پڑھتے تھے۔ دوپہر سے پہلے اور بعد دونوں وقت لوگوں کو تفسیر، حدیث، فقہ، کلام، اصول اور نحو پڑھاتے تھے اور ظہر کے بعد آپ تجوید و قراءت کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھایا کرتے تھے۔
(ماخوذ از: غوث پاک کا علمی مقام، ص: 13-14)
فتویٰ نویسی میں کمالِ مہارت
یوں تو غوثِ اعظم جیلانی رضی اللہ عنہ تدریس، تحریر و تصنیف جیسے بے شمار علوم میں مہارتِ کاملہ رکھتے تھے، مگر خصوصیت کے ساتھ فتویٰ نویسی میں آپ کو ایسی مہارت حاصل تھی کہ آپ کے جوابات کو ملاحظہ کرکے آپ کے زمانے کے جید علمائے کرام عش عش کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے۔ جیسا کہ منقول ہے:
شیخ امام موفق الدین بن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہم 561 ہجری میں بغداد شریف گئے تو ہم نے دیکھا کہ شیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ ان میں سے ہیں کہ جن کو وہاں پر علم و عمل اور فتویٰ نویسی کی بادشاہت دی گئی ہے۔"
آپ کی علمی مہارت کا یہ عالم تھا کہ اگر آپ سے انتہائی مشکل مسائل بھی پوچھے جاتے تو آپ ان مسائل کا نہایت آسان جواب دیتے۔ آپ نے درس و تدریس اور فتویٰ لکھنے میں تقریباً تینتیس (33) سال دینِ متین کی خدمت سرانجام دی۔ اس دوران جب آپ کے فتاویٰ علمائے عراق کے پاس لائے جاتے تو وه آپ کے جوابات پر حيرت زدہ رہ جاتے۔
امام ابو یعلیٰ نجم الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ عراق میں فتویٰ کے لحاظ سے بہت مشہور تھے اور لوگ فتاویٰ کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔
(ماخوذ از: غوث پاک کا علمی مقام، ص: 18)
شیخ امام موفق الدین بن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہم 561 ہجری میں بغداد شریف گئے تو ہم نے دیکھا کہ شیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ ان میں سے ہیں کہ جن کو وہاں پر علم و عمل اور فتویٰ نویسی کی بادشاہت دی گئی ہے۔"
آپ کی علمی مہارت کا یہ عالم تھا کہ اگر آپ سے انتہائی مشکل مسائل بھی پوچھے جاتے تو آپ ان مسائل کا نہایت آسان جواب دیتے۔ آپ نے درس و تدریس اور فتویٰ لکھنے میں تقریباً تینتیس (33) سال دینِ متین کی خدمت سرانجام دی۔ اس دوران جب آپ کے فتاویٰ علمائے عراق کے پاس لائے جاتے تو وه آپ کے جوابات پر حيرت زدہ رہ جاتے۔
امام ابو یعلیٰ نجم الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ عراق میں فتویٰ کے لحاظ سے بہت مشہور تھے اور لوگ فتاویٰ کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔
(ماخوذ از: غوث پاک کا علمی مقام، ص: 18)
100 فقہائے کرام کا واقعہ اور علمِ لدنی
عظیم محدث، برصغیر میں حدیث شریف کو عام کرنے والے شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے: حضرت مفرج شیبانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ مشہور ہو گئے تو بغداد کے ذہین ترین 100 فقہائے کرام نے کچھ اس طرح منصوبہ بنایا کہ ان میں سے ہر ایک الگ الگ مختلف علوم اور فنون پر طرح طرح کے سوالات تیار کرے اور سوالات ایسے ہوں کہ جن کے جوابات غوثِ پاک نہ دے سکیں۔ ہر ایک نے منصوبے کے مطابق سوالات تیار کر لیے اور غوثِ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔
شیخ مفرج فرماتے ہیں: میں بھی اس وقت حضور غوثِ اعظم کی بارگاہ میں حاضر تھا۔ فقہائے کرام جب آکر بیٹھ گئے تو پیرانِ پیر، روشن ضمیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے سرِ اقدس جھکا لیا۔ آپ کا سر جھکانا تھا کہ آپ کے سینۂ مبارک سے نور کی ایک کرن ظاہر ہوئی جسے ہر اس شخص نے دیکھا جسے اللہ پاک نے دکھانا چاہا۔ غوثِ پاک کے سینے سے نکلنے والی نور کی کرن جب ان فقہاء کے سینوں پر پڑی تو ان کے وہ سوالات جو انہوں نے تیار کیے تھے، وہ سب کے سب ان کے ذہنوں سے ختم ہو گئے اور وہ پریشان ہو کر چیخنے اور تڑپنے لگے۔
ان کی اس حالت کے بعد حضور غوثِ پاک منبر پر جلوہ فرما ہوئے۔ اب سب فقہاء ننگے سر آپ کے منبرِ اقدس کے پاس حاضر ہوئے۔ آپ نے باری باری ہر ایک کو سینے سے لگایا اور فرمایا: "تمہارا سوال یہ تھا اور اس کا جواب یہ ہے۔" یوں ایک ایک کرکے سب کے مسئلے بیان کر دیے اور ان کے جوابات بھی ارشاد فرما دیے۔
شیخ مفرج رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب مجلس مبارک ختم ہوئی تو میں نے ان فقہاء سے پوچھا: "یہ کیا ماجرا ہے؟" انہوں نے بتایا کہ جب ہم یہاں آکر بیٹھے تو یکدم سب کچھ ایسے بھول گئے جیسے ہمیں کچھ نہیں آتا۔ اسی لیے ہم نے چیخ ماری اور اپنے کپڑے پھاڑ لیے، مگر جب غوثِ پاک نے ہمیں اپنے مبارک سینے سے لگایا تو ہم میں سے ہر ایک کا علم واپس آ گیا اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حضور غوثِ پاک نے ہمارے سوالات کے وہ جوابات ارشاد فرمائے جو پہلے ہمارے علم میں نہ تھے۔
اللہ کریم نے غوثِ اعظم جیلانی پر بے شمار نوازشات فرمائیں، بالخصوص علومِ دینیہ میں۔ جیسا کہ حضرت سیدنا شیخ بزاز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی رضی اللہ عنہ نے ایک بار مجھ سے فرمایا:
"اللہ پاک نے میرے لیے علمِ لدنی کے 70 دروازے کھول دیے ہیں، ہر دروازہ زمین و آسمان کی وسعتوں سے بھی زیادہ وسیع ہے، ایک دروازے کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کی وسعتوں سے زیادہ ہے۔"
(غوث اعظم بطور مفتی اعظم، ص: 12، 19)
شیخ مفرج فرماتے ہیں: میں بھی اس وقت حضور غوثِ اعظم کی بارگاہ میں حاضر تھا۔ فقہائے کرام جب آکر بیٹھ گئے تو پیرانِ پیر، روشن ضمیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے سرِ اقدس جھکا لیا۔ آپ کا سر جھکانا تھا کہ آپ کے سینۂ مبارک سے نور کی ایک کرن ظاہر ہوئی جسے ہر اس شخص نے دیکھا جسے اللہ پاک نے دکھانا چاہا۔ غوثِ پاک کے سینے سے نکلنے والی نور کی کرن جب ان فقہاء کے سینوں پر پڑی تو ان کے وہ سوالات جو انہوں نے تیار کیے تھے، وہ سب کے سب ان کے ذہنوں سے ختم ہو گئے اور وہ پریشان ہو کر چیخنے اور تڑپنے لگے۔
ان کی اس حالت کے بعد حضور غوثِ پاک منبر پر جلوہ فرما ہوئے۔ اب سب فقہاء ننگے سر آپ کے منبرِ اقدس کے پاس حاضر ہوئے۔ آپ نے باری باری ہر ایک کو سینے سے لگایا اور فرمایا: "تمہارا سوال یہ تھا اور اس کا جواب یہ ہے۔" یوں ایک ایک کرکے سب کے مسئلے بیان کر دیے اور ان کے جوابات بھی ارشاد فرما دیے۔
شیخ مفرج رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب مجلس مبارک ختم ہوئی تو میں نے ان فقہاء سے پوچھا: "یہ کیا ماجرا ہے؟" انہوں نے بتایا کہ جب ہم یہاں آکر بیٹھے تو یکدم سب کچھ ایسے بھول گئے جیسے ہمیں کچھ نہیں آتا۔ اسی لیے ہم نے چیخ ماری اور اپنے کپڑے پھاڑ لیے، مگر جب غوثِ پاک نے ہمیں اپنے مبارک سینے سے لگایا تو ہم میں سے ہر ایک کا علم واپس آ گیا اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حضور غوثِ پاک نے ہمارے سوالات کے وہ جوابات ارشاد فرمائے جو پہلے ہمارے علم میں نہ تھے۔
اللہ کریم نے غوثِ اعظم جیلانی پر بے شمار نوازشات فرمائیں، بالخصوص علومِ دینیہ میں۔ جیسا کہ حضرت سیدنا شیخ بزاز رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی رضی اللہ عنہ نے ایک بار مجھ سے فرمایا:
"اللہ پاک نے میرے لیے علمِ لدنی کے 70 دروازے کھول دیے ہیں، ہر دروازہ زمین و آسمان کی وسعتوں سے بھی زیادہ وسیع ہے، ایک دروازے کا درمیانی فاصلہ زمین و آسمان کی وسعتوں سے زیادہ ہے۔"
(غوث اعظم بطور مفتی اعظم، ص: 12، 19)
خلاصۂ کلام
محترم قارئینِ کرام! غوثِ صمدانی، قندیلِ نورانی، غوثِ اعظم جیلانی رضی اللہ عنہ کے علمی مقام کی تو یہ محض ایک جھلک ہے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی فقید المثال، عدیم الجواب اور یکتا و بیگانہ ہے۔
میں اپنی گفتگو کو اختتام کی جانب لاتے ہوئے بارگاہِ ربوبیت میں دعا گو ہوں کہ باری تعالیٰ ہمیں پیرِ پیراں، میرِ میراں، شاہِ جیلاں رضی اللہ عنہ کے علوم و فنون کا صدقہ و طفیل نصیب فرمائے، ان کے نقوشِ قدم پر گامزن فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے منور و مجلیٰ فرمائے۔
میں اپنی گفتگو کو اختتام کی جانب لاتے ہوئے بارگاہِ ربوبیت میں دعا گو ہوں کہ باری تعالیٰ ہمیں پیرِ پیراں، میرِ میراں، شاہِ جیلاں رضی اللہ عنہ کے علوم و فنون کا صدقہ و طفیل نصیب فرمائے، ان کے نقوشِ قدم پر گامزن فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے منور و مجلیٰ فرمائے۔
آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ