امام زید شہید رحمۃ اللہ علیہ
حضرتِ امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ امام زین العابدین رحمۃُ اللہِ علیہ کے صاحبزادے اور امام محمد باقر رحمۃُ اللہِ علیہ کے بھائی تھے۔ آپ کے دیگر بھائیوں میں عبداللہ، عمر، علی اور حسین شامل تھے، جب کہ آپ کی والدہ اُمّ ولد تھیں۔
تعلیم و تربیت
حضرتِ امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ نے اپنے والد حضرت امام زین العابدین رحمۃُ اللہِ علیہ، اپنے بھائی امام محمد باقر رحمۃُ اللہِ علیہ اور حضرت عروہ بن زبیر رحمۃُ اللہِ علیہ سے روایتِ حدیث کی۔ آپ سے آپ کے بھتیجے حضرت جعفر بن محمد، امام شعبہ، فضیل بن مرزوق، مطلب بن زیاد، سعید بن خثیم اور ابن ابی الزناد نے احادیث روایت کیں۔ حضرتِ امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ علم و فضل، عظمت و جلالت اور صلاح و تقویٰ کے اوصاف سے متصف تھے۔
(سیر اعلام النبلاء، 5/386)
(سیر اعلام النبلاء، 5/386)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃُ اللہِ علیہ نے حضرتِ امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ کا ذکر اس خوبصورت انداز میں فرمایا:
"حضرت امامِ اجل سید زید شہید ابن امام علی سجاد زین العابدین ابن امام حسین شہید صلوات اللہ تعالیٰ وتسلیماتہ علی جدہم الکریم وعلیہم۔"
(فتاویٰ رضویہ، 28/)
"حضرت امامِ اجل سید زید شہید ابن امام علی سجاد زین العابدین ابن امام حسین شہید صلوات اللہ تعالیٰ وتسلیماتہ علی جدہم الکریم وعلیہم۔"
(فتاویٰ رضویہ، 28/)
شیخینِ کریمین سے محبت
رافضی لوگ حضرت امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: "آپ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے براءت کا اظہار کریں، تب ہم آپ کی مدد کریں گے۔"
حضرت امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: "بلکہ میں ان دونوں بزرگوں سے محبت و عقیدت رکھتا ہوں۔"
اس پر وہ کہنے لگے: "پھر ہم آپ کو چھوڑتے ہیں۔"
(سیر اعلام النبلاء، 5/390)
اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بیت! فی زمانہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو معاذ اللہ حضرتِ ابوبکر و عمر رَضِیَ اللہُ عنہما کو نہیں مانتے، انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ ایسے لوگ سنی نہیں۔ جو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دوستوں کو جو زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہے، آپ کے پہلو مبارک میں دفن ہوئے اور روزِ قیامت ساتھ اٹھیں گے، انہیں برا کہے، ہمیں ایسوں کے سائے سے بھی دور رہنا چاہیے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کی شان و عظمت کو بیان کیا اور ان سے محبت کا حکم فرمایا ہے۔
حضرت امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: "بلکہ میں ان دونوں بزرگوں سے محبت و عقیدت رکھتا ہوں۔"
اس پر وہ کہنے لگے: "پھر ہم آپ کو چھوڑتے ہیں۔"
(سیر اعلام النبلاء، 5/390)
اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بیت! فی زمانہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو معاذ اللہ حضرتِ ابوبکر و عمر رَضِیَ اللہُ عنہما کو نہیں مانتے، انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ ایسے لوگ سنی نہیں۔ جو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دوستوں کو جو زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہے، آپ کے پہلو مبارک میں دفن ہوئے اور روزِ قیامت ساتھ اٹھیں گے، انہیں برا کہے، ہمیں ایسوں کے سائے سے بھی دور رہنا چاہیے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کی شان و عظمت کو بیان کیا اور ان سے محبت کا حکم فرمایا ہے۔
شہادت
حضرتِ امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ عراق کے حاکم یوسف بن عمر کے پاس گئے۔ اس نے آپ کو اچھا انعام دے کر واپس بھیج دیا۔ پھر کوفہ کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: "آپ واپس تشریف لائیے، ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے؛ یوسف بن عمر کی کوئی حیثیت نہیں۔"
حضرتِ امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ نے ان کی بات قبول کرلی اور لشکر جمع کرکے جنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ اس کے مقابلے میں یوسف بن عمر کا لشکر بھی میدان میں آگیا۔ جنگ کے دوران آپ شہید ہوگئے، پھر آپ کو چار سال تک سولی پر لٹکائے رکھا گیا۔
(سیر اعلام النبلاء، 5/387)
حضرت امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ کی عمر چالیس سال سے کچھ زیادہ تھی۔ آپ 2 صفر 122ھ کو شہید ہوئے۔ جریر بن حازم کہتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم حضرت امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ کی سولی کی لکڑی سے ٹیک لگائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں:
"کیا تم میرے اہلِ بیت کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہو؟!"
(سیر اعلام النبلاء، 5/390)
حضرتِ امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ نے ان کی بات قبول کرلی اور لشکر جمع کرکے جنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ اس کے مقابلے میں یوسف بن عمر کا لشکر بھی میدان میں آگیا۔ جنگ کے دوران آپ شہید ہوگئے، پھر آپ کو چار سال تک سولی پر لٹکائے رکھا گیا۔
(سیر اعلام النبلاء، 5/387)
حضرت امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ کی عمر چالیس سال سے کچھ زیادہ تھی۔ آپ 2 صفر 122ھ کو شہید ہوئے۔ جریر بن حازم کہتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم حضرت امام زید شہید رحمۃُ اللہِ علیہ کی سولی کی لکڑی سے ٹیک لگائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں:
"کیا تم میرے اہلِ بیت کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہو؟!"
(سیر اعلام النبلاء، 5/390)