میں شادی میں نہیں جاؤں گا
عبید کے دوست کی شادی تھی، جس کا نام سمیر تھا۔ سمیر گھر کا اکلوتا فرد تھا، والد کے علاوہ گھر میں کوئی مرد نہ تھا۔ سمیر کے گھر میں شادی کا ماحول تھا، کام بہت زیادہ تھا، جب کہ افراد کی قلت تھی۔ لے دے کر والد اور بیٹا ہی تمام کام انجام دے رہے تھے۔ شادی کی دعوت کے لیے بھی سمیر ہر جگہ نہیں پہنچ سکا۔ کچھ مقامات پر والد صاحب نے دعوت دی، جب کہ بعض احباب کو سمیر نے فون کال یا میسج کے ذریعے شادی کی دعوت دے دی۔
شادی کا دن قریب آیا، لیکن عبید اپنے دوست سمیر کی شادی میں شریک نہ ہوا۔ پوچھنے پر بتایا: ”کیا میرا دوست سمیر مجھے گھر پر دعوت دینے آیا تھا؟“ جواب ملا: ”نہیں!“ کہنے لگا: ”پھر میں کیوں شادی میں شریک ہوتا؟ دعوت دینے کا بھی ایک طریقہ ہے، گھر آکر دعوت دی جائے، نہ کہ فون کال یا میسج کے ذریعے۔ بس یہی وجہ تھی کہ میں شادی میں نہیں گیا۔“
ابو حامد نے عبید کو سمجھایا اور کہا: ”آپ تو سمیر کے دوست ہیں، اس کے گھر کے حالات سے بھی واقف ہیں۔ وہ گھر کا اکلوتا ہے، اتنی مصروفیات میں اگر وہ آپ کے گھر آکر دعوت نہ دے سکا تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ شادی میں شرکت ہی نہ کریں۔ ہمیں اپنا دل بڑا رکھنا چاہیے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر سوار نہیں کرنا چاہیے۔ ویسے بھی کون سی کتاب میں لکھا ہے کہ فون کال یا میسج کے ذریعے دعوت دینا درست نہیں؟“
عبید کو بات سمجھ آگئی اور وہ اپنی سوچ پر شرمندہ ہوا۔
شادی کا دن قریب آیا، لیکن عبید اپنے دوست سمیر کی شادی میں شریک نہ ہوا۔ پوچھنے پر بتایا: ”کیا میرا دوست سمیر مجھے گھر پر دعوت دینے آیا تھا؟“ جواب ملا: ”نہیں!“ کہنے لگا: ”پھر میں کیوں شادی میں شریک ہوتا؟ دعوت دینے کا بھی ایک طریقہ ہے، گھر آکر دعوت دی جائے، نہ کہ فون کال یا میسج کے ذریعے۔ بس یہی وجہ تھی کہ میں شادی میں نہیں گیا۔“
ابو حامد نے عبید کو سمجھایا اور کہا: ”آپ تو سمیر کے دوست ہیں، اس کے گھر کے حالات سے بھی واقف ہیں۔ وہ گھر کا اکلوتا ہے، اتنی مصروفیات میں اگر وہ آپ کے گھر آکر دعوت نہ دے سکا تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ شادی میں شرکت ہی نہ کریں۔ ہمیں اپنا دل بڑا رکھنا چاہیے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر سوار نہیں کرنا چاہیے۔ ویسے بھی کون سی کتاب میں لکھا ہے کہ فون کال یا میسج کے ذریعے دعوت دینا درست نہیں؟“
عبید کو بات سمجھ آگئی اور وہ اپنی سوچ پر شرمندہ ہوا۔
قارئینِ کرام کے لیے لمحۂ فکریہ
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں پیش آنے والے ہزاروں واقعات کی ایک مثال ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے کئی کم ظرف لوگ موجود ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پر سوار کر لیتے ہیں؛ یوں کہیے کہ تنکے کو پہاڑ بنا لیتے ہیں۔
بلکہ ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو صرف اس بنا پر رشتہ توڑ دیتے ہیں۔ بعض لوگوں کو یہ کہتے بھی سنا گیا ہے: ”تم میرے گھر شادی میں نہیں آئے تھے، میں بھی تمہاری شادی میں نہیں آؤں گا۔ تم میرے گھر فلاں کے انتقال پر جنازے میں شریک نہیں ہوئے تھے، لہٰذا اب تم سے تعلقات ختم۔“
حالاں کہ اس موقع پر یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ اس کے پیچھے کیا مجبوری یا وجہ تھی۔ کیا یہی اسلامی تعلیمات ہیں؟ ہرگز نہیں! مسلمان تو درگزر کرنے والا، فراخ دل اور تعلقات جوڑنے والا ہوتا ہے۔
بلکہ ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو صرف اس بنا پر رشتہ توڑ دیتے ہیں۔ بعض لوگوں کو یہ کہتے بھی سنا گیا ہے: ”تم میرے گھر شادی میں نہیں آئے تھے، میں بھی تمہاری شادی میں نہیں آؤں گا۔ تم میرے گھر فلاں کے انتقال پر جنازے میں شریک نہیں ہوئے تھے، لہٰذا اب تم سے تعلقات ختم۔“
حالاں کہ اس موقع پر یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ اس کے پیچھے کیا مجبوری یا وجہ تھی۔ کیا یہی اسلامی تعلیمات ہیں؟ ہرگز نہیں! مسلمان تو درگزر کرنے والا، فراخ دل اور تعلقات جوڑنے والا ہوتا ہے۔
حدیثِ پاک کی روشنی میں
حدیثِ پاک میں ہے: ”رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں یہ ہوں، اللہ تعالیٰ اس سے آسان حساب لے گا اور اپنی رحمت سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا: ”یا نبیَّ اللہ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! وہ کون سی باتیں ہیں؟“ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ يُدْخِلُكَ اللّٰهُ الْجَنَّةَ
ترجمہ: ”جو تمہیں محروم رکھے، تم اسے عطا کرو؛ جو تم سے تعلق توڑے، تم اس سے تعلق جوڑو؛ اور جو تم پر ظلم کرے، تم اسے معاف کر دو۔ پھر اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔“
(مسند البزار، 15/219، حدیث: 8635)
(مسند البزار، 15/219، حدیث: 8635)
کاش! ہم اپنی انا کو فنا کرکے اس حدیثِ پاک پر عمل کرنے والے بن جائیں، دل بڑا کریں، دوسروں کی مجبوریوں کو سمجھیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے رشتوں اور تعلقات کو خراب نہ کریں۔