مسجد قبا: تاریخ و تعمیر، فضائل و برکات
مدینۂ منورہ کی سرزمین اپنے دامن میں بے شمار مقدس مقامات اور یادگاروں کو سموئے ہوئے ہے۔ انہی مقدس مقامات میں مسجدِ قبا کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ وہ مبارک مسجد ہے جس کی بنیاد اسلام کے ابتدائی دور میں رکھی گئی اور جس کی تعمیر میں خود نبیِّ اکرم، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بنفسِ نفیس شرکت فرمائی۔ قرآنِ کریم میں بھی اس مسجد کی بنیاد اور اس کے اہل کی پاکیزگی کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسجدِ قبا کی زیارت، وہاں نماز کی ادائیگی اور اس کی نسبت سے جڑی ہوئی نبوی یادیں عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے لیے بے حد اہمیت رکھتی ہیں۔
مسجدِ قبا مدینۂ منورہ سے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حضور نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا اس مسجد سے خصوصی تعلق تھا اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہر ہفتہ یہاں تشریف لاتے اور نماز ادا فرماتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
مسجدِ قبا مدینۂ منورہ سے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حضور نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا اس مسجد سے خصوصی تعلق تھا اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہر ہفتہ یہاں تشریف لاتے اور نماز ادا فرماتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ-فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ
ترجمۂ کنز الایمان: ”بیشک وہ مسجد کہ پہلے ہی دن سے جس کی بنیاد پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو، اس میں وہ لوگ ہیں کہ خوب ستھرا ہونا چاہتے ہیں اور ستھرے اللہ کو پیارے ہیں۔“
(القرآن الکریم، السورۃ: التوبۃ، الآیۃ: 108)
اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیتِ کریمہ میں جس مسجد کا ذکر ہے، اس سے مراد مسجدِ قبا ہے۔ یہ وہی مسجد ہے جس کی بنیاد حضور نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے رکھی۔ مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کے سفر میں جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قبا تشریف لائے تو بنی عمرو بن عوف کے یہاں قیام فرمایا اور اسی دوران مسجدِ قبا کی بنیاد رکھی۔ روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پیر، منگل، بدھ اور جمعرات قبا میں قیام فرمایا، پھر جمعہ کے روز آگے کا سفر شروع فرمایا۔
(فتوح الغیب، ج: 7، ص: 359)
(القرآن الکریم، السورۃ: التوبۃ، الآیۃ: 108)
اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیتِ کریمہ میں جس مسجد کا ذکر ہے، اس سے مراد مسجدِ قبا ہے۔ یہ وہی مسجد ہے جس کی بنیاد حضور نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے رکھی۔ مدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کے سفر میں جب آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم قبا تشریف لائے تو بنی عمرو بن عوف کے یہاں قیام فرمایا اور اسی دوران مسجدِ قبا کی بنیاد رکھی۔ روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے پیر، منگل، بدھ اور جمعرات قبا میں قیام فرمایا، پھر جمعہ کے روز آگے کا سفر شروع فرمایا۔
(فتوح الغیب، ج: 7، ص: 359)
مسجدِ قبا کی طرف حضور ﷺ کی آمد
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہر ہفتہ مسجدِ قبا تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے: ”میں نے دیکھا ہے کہ نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہر ہفتہ یہاں تشریف لاتے تھے۔“
(المواہب اللدنیہ، ج: 3، ص: 622)
اسی طرح حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
(المواہب اللدنیہ، ج: 3، ص: 622)
اسی طرح حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُكْثِرُ الِاخْتِلافَ إِلَى قُباءٍ مَاشِيًا وَرَاكِبًا
ترجمہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اکثر پیدل اور سوار ہوکر مسجدِ قبا تشریف لے جاتے تھے۔“
(الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان، ج: 4، ص: 497)
یہ روایات مسجدِ قبا کی عظمت اور اس کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خصوصی نسبت کو واضح کرتی ہیں۔ اسی لیے عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب مدینۂ منورہ حاضر ہوتے ہیں تو مسجدِ قبا کی حاضری کو اپنے لیے عظیم سعادت سمجھتے ہیں۔
(الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان، ج: 4، ص: 497)
یہ روایات مسجدِ قبا کی عظمت اور اس کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی خصوصی نسبت کو واضح کرتی ہیں۔ اسی لیے عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب مدینۂ منورہ حاضر ہوتے ہیں تو مسجدِ قبا کی حاضری کو اپنے لیے عظیم سعادت سمجھتے ہیں۔
مسجدِ قبا میں حاضری کا اہتمام
فتاویٰ عالمگیری میں مسجدِ قبا کی حاضری کے بارے میں ہے کہ ہر ہفتہ مسجدِ قبا آنا مستحب ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منقول ہے۔ وہاں حاضر ہوکر یہ دعا بھی منقول ہے:
يَا صَرِيخَ المُسْتَصْرِخِينَ، وَيَا غَيّاثَ المُسْتَغِيثِينَ، وَيَا مُفَرِّجَ كَرْبِ المَكْرُوبِينَ، وَيَا مُجِيبَ دَعْوَةِ المُضْطَرِّينَ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ، وَاكْشِفْ كَرْبِي وَحُزْنِي كَمَا كَشَفْتَ عَنْ رَسُولِكَ كَرْبَهُ وَحُزْنَهُ فِي هَذَا المَقامِ، يَا حَنّانُ، يَا مَنّانُ، يَا كَثِيرَ المَعْرُوفِ، وَيَا دائِمَ الإحْسانِ، يَا أرْحَمَ الرّاحِمِينَ
(فتاویٰ ہندیہ، ج: 1، ص: 267)
مسجدِ قبا میں نماز گویا عمرہ
مسجدِ قبا کی ایک عظیم فضیلت یہ بھی ہے کہ یہاں نماز ادا کرنے کو عمرہ کے ثواب کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق میں اس مضمون کی احادیث منقول ہیں۔
نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الصَّلاةُ فِي مَسْجِدِ قُباءٍ كَعُمْرَةٍ
ترجمہ: ”مسجدِ قبا میں نماز پڑھنا عمرہ کرنے کی طرح ہے۔“
اسی طرح ایک دوسری حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا:
اسی طرح ایک دوسری حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا:
مَن تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ أتى مَسْجِدَ قُباءَ، فَصَلّى فِيهِ صَلاةً، كانَ لَهُ كَأجْرِ عُمْرَةٍ
ترجمہ: ”جس نے اپنے گھر میں طہارت کی (یعنی وضو کیا)، پھر مسجدِ قبا آیا اور اس میں نماز پڑھی، اس کے لیے ایک عمرہ کا ثواب ہے۔“
(سنن ابن ماجہ، ج: 1، ص: 453، رقم الحدیث: 1312، کتاب إقامۃ الصلاۃ)
اس فضیلت کو سامنے رکھتے ہوئے مدینۂ منورہ میں قیام کے دوران عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو چاہیے کہ موقع ملنے پر مسجدِ قبا کی حاضری کو غنیمت جانیں، وہاں نماز ادا کریں اور اس مقدس مقام کی برکتوں سے فیض یاب ہوں۔
(سنن ابن ماجہ، ج: 1، ص: 453، رقم الحدیث: 1312، کتاب إقامۃ الصلاۃ)
اس فضیلت کو سامنے رکھتے ہوئے مدینۂ منورہ میں قیام کے دوران عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو چاہیے کہ موقع ملنے پر مسجدِ قبا کی حاضری کو غنیمت جانیں، وہاں نماز ادا کریں اور اس مقدس مقام کی برکتوں سے فیض یاب ہوں۔
مسجدِ قبا کی تعمیر
مدینۂ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے حضور نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا نزول بنی عمرو بن عوف کے پاس ہوا، جو قبا کے باشندے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے وہاں چند روز قیام فرمایا اور اسی دوران مسجدِ قبا کی بنیاد رکھی۔ ایک روایت کے مطابق اہلِ قبا نے عرض کیا کہ ہمارے لیے ایک مسجد تعمیر فرما دیجیے۔
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص ہماری اونٹنی پر سوار ہوکر اسے چلائے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اونٹنی پر سوار ہوئے، لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھی۔ پھر حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سوار ہونے کی کوشش کی، مگر اونٹنی اس مرتبہ بھی نہ چلی۔ اس کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو اونٹنی کھڑی ہوگئی۔ اس موقع پر نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی لگام چھوڑ دو، یہ حکم کی ہوئی ہے، جس طرف بھی جائے اسے جانے دو۔“
چنانچہ اونٹنی جہاں تک گئی، اسی سمت میں مسجدِ قبا کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ اہلِ قبا کو پتھر جمع کرنے کا حکم دیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے ایک پتھر بنیاد میں رکھا اور قبلہ کی سمت متعین فرمائی۔ پھر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ ہر شخص ترتیب سے ایک ایک پتھر رکھے۔
ثقہ روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضور نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خود مسجدِ قبا کی تعمیر میں پتھر اٹھاتے تھے۔ یوں یہ مسجد نہ صرف اسلام کی اولین مساجد میں شمار ہوئی بلکہ اس کی تعمیر میں خود رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شرکت نے اسے ہمیشہ کے لیے عظمت و برکت کا مرکز بنا دیا۔
(جذب القلوب، ص: 176)
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص ہماری اونٹنی پر سوار ہوکر اسے چلائے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اونٹنی پر سوار ہوئے، لیکن وہ اپنی جگہ سے نہ اٹھی۔ پھر حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سوار ہونے کی کوشش کی، مگر اونٹنی اس مرتبہ بھی نہ چلی۔ اس کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو اونٹنی کھڑی ہوگئی۔ اس موقع پر نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی لگام چھوڑ دو، یہ حکم کی ہوئی ہے، جس طرف بھی جائے اسے جانے دو۔“
چنانچہ اونٹنی جہاں تک گئی، اسی سمت میں مسجدِ قبا کی تعمیر کا فیصلہ ہوا۔ اہلِ قبا کو پتھر جمع کرنے کا حکم دیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے ایک پتھر بنیاد میں رکھا اور قبلہ کی سمت متعین فرمائی۔ پھر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ ہر شخص ترتیب سے ایک ایک پتھر رکھے۔
ثقہ روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضور نبیِّ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خود مسجدِ قبا کی تعمیر میں پتھر اٹھاتے تھے۔ یوں یہ مسجد نہ صرف اسلام کی اولین مساجد میں شمار ہوئی بلکہ اس کی تعمیر میں خود رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شرکت نے اسے ہمیشہ کے لیے عظمت و برکت کا مرکز بنا دیا۔
(جذب القلوب، ص: 176)
محترم قارئین! جب بھی مدینۂ منورہ میں حاضری نصیب ہو اور سہولت میسر ہو تو مسجدِ قبا کی زیارت اور وہاں نماز کی سعادت ضرور حاصل کرنی چاہیے۔ آج مسجدِ نبوی شریف سے مسجدِ قبا تک آمدورفت بھی نہایت آسان ہے اور پیدل جانے کے لیے بھی راستہ بنایا گیا ہے۔ یوں مدینۂ منورہ میں قیام کے دوران اس مبارک مسجد کی حاضری، وہاں نماز کی ادائیگی اور اس مقدس مقام کی یادوں کو اپنے دل میں بسانا ایک عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے لیے بڑی سعادت ہے۔