فلائٹ (جہاز) کے اندر ایک مشاہدہ
دو ماہ قبل بنگلور سے بنارس کا سفر درپیش تھا۔ ہم فلائٹ میں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔ فلائٹ نے اڑان بھری تو تمام مسافر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے۔ کوئی موبائل استعمال کر رہا تھا، کوئی نیند کے مزے لے رہا تھا، جب کہ بعض افراد کھانے پینے میں مشغول تھے۔
راقم الحروف کے ہاتھوں میں تسبیح تھی، چنانچہ ذکر و اذکار شروع کر دیے۔ پھر کچھ کھانے پینے کے بعد سورۂ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کردی۔
میرے قریب ایک صاحب بیٹھے تھے، جن کی عمر تقریباً 45 سال ہوگی۔ انہوں نے اپنا موبائل نکالا اور فلائٹ کے لینڈ ہونے تک مسلسل فلم دیکھتے رہے۔
راقم الحروف کے ہاتھوں میں تسبیح تھی، چنانچہ ذکر و اذکار شروع کر دیے۔ پھر کچھ کھانے پینے کے بعد سورۂ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کردی۔
میرے قریب ایک صاحب بیٹھے تھے، جن کی عمر تقریباً 45 سال ہوگی۔ انہوں نے اپنا موبائل نکالا اور فلائٹ کے لینڈ ہونے تک مسلسل فلم دیکھتے رہے۔
لمحۂ فکریہ اور زمین کی گواہی
یہ منظر دیکھ کر میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ سفرِ جہاز کے چند منٹوں میں کیا سے کیا ہوجائے، کوئی نہیں جانتا۔ ایسے حالات میں ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی یاد میں مشغول رہے، اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور نظر آرہا تھا۔
پھر ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ دورانِ سفر فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین کے جن جن حصوں سے ہمارا گزر ہو رہا ہے، وہ بھی ہمارے اعمال پر گواہ بن رہے ہیں۔ الامان والحفیظ!
ہمیں چاہیے کہ جب بھی ٹرین، بس، فلائٹ یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے سفر کریں تو اپنے اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ذکر، درودِ پاک اور تلاوتِ قرآنِ کریم میں مشغول رہیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں!
کیوں کہ روزِ قیامت یہی زمین اپنے اوپر کیے جانے والے اعمال کی گواہی دے گی۔ لہٰذا کوشش کریں کہ ہمارے سفر کے لمحات بھی نیکیوں سے معمور ہوں، تاکہ زمین کے یہ حصے ہمارے حق میں خیر و بھلائی کی گواہی دیں۔
پھر ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ دورانِ سفر فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ زمین کے جن جن حصوں سے ہمارا گزر ہو رہا ہے، وہ بھی ہمارے اعمال پر گواہ بن رہے ہیں۔ الامان والحفیظ!
ہمیں چاہیے کہ جب بھی ٹرین، بس، فلائٹ یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے سفر کریں تو اپنے اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ذکر، درودِ پاک اور تلاوتِ قرآنِ کریم میں مشغول رہیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں!
کیوں کہ روزِ قیامت یہی زمین اپنے اوپر کیے جانے والے اعمال کی گواہی دے گی۔ لہٰذا کوشش کریں کہ ہمارے سفر کے لمحات بھی نیکیوں سے معمور ہوں، تاکہ زمین کے یہ حصے ہمارے حق میں خیر و بھلائی کی گواہی دیں۔
اللہ پاک ہمیں اپنے ذکر، تلاوتِ قرآنِ کریم اور درودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، سفر کے دوران بھی اپنی عبادت میں مشغول رہنے کی سعادت بخشے اور ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ