صحابہ کرام کا عشقِ رسول ﷺ
انسانی تاریخ میں اگر کوئی ایسا زمانہ تلاش کیا جائے جہاں محبت، وفاداری، خلوص و قربانی اپنی بلند ترین چوٹی پر نظر آئیں، تو میں کہوں گا کہ وہ دور بلاشبہ صحابہ کرام کا ہے۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ ہر چیز سے بڑھ کر تھی۔ ماں، باپ، اولاد، مال، جان — سب سے بڑھ کر صحابہ کرام آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام سے محبت کیا کرتے تھے۔
اور کیوں نہ کرتے محبت، جب کہ صحابہ کرام نے اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان سن رکھا تھا:
اور کیوں نہ کرتے محبت، جب کہ صحابہ کرام نے اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان سن رکھا تھا:
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ
ترجمہ: یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔
(سورۃ الاحزاب، آیت: 6)
یہی وہ صحابہ کرام تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ پر سب کچھ قربان کر دیا۔ کسی نے اپنا گھر چھوڑا، کسی نے مال و دولت، کسی نے اپنا وطن، اور کسی نے اپنی جان تک نچھاور کر دی — صرف اس لیے کہ رب اور رب کے محبوب ﷺ راضی ہو جائیں۔ اور پھر اللہ ربّ العزت نے ان وفاؤں کا انمول صلہ یوں عطا فرمایا:
(سورۃ الاحزاب، آیت: 6)
یہی وہ صحابہ کرام تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ پر سب کچھ قربان کر دیا۔ کسی نے اپنا گھر چھوڑا، کسی نے مال و دولت، کسی نے اپنا وطن، اور کسی نے اپنی جان تک نچھاور کر دی — صرف اس لیے کہ رب اور رب کے محبوب ﷺ راضی ہو جائیں۔ اور پھر اللہ ربّ العزت نے ان وفاؤں کا انمول صلہ یوں عطا فرمایا:
وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ
ترجمۂ کنز الایمان: اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
(سورۃ الحدید، آیت: 10)
(سورۃ الحدید، آیت: 10)
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
آئیے! پہلے میں محبتِ رسول ﷺ پر کچھ احادیثِ پاک پیش کرتا ہوں، پھر صحابہ کرام کا عشقِ رسول عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ."
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم، جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی (کامل) مؤمن نہیں جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔"
(صحیح البخاری، باب: حبّ رسول ﷺ من الإيمان، حدیث: 14)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
ایک روز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ مجھے میری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔"
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اس کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔"
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: "اس ذات کی قسم! جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی، آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں!" اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: "ہاں، اب! اے عمر!"
(صحیح البخاری، کتاب: ایمان، باب: 3، حدیث: 6632)
(صحیح البخاری، باب: حبّ رسول ﷺ من الإيمان، حدیث: 14)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
ایک روز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ مجھے میری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔"
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اس کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔"
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: "اس ذات کی قسم! جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی، آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں!" اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: "ہاں، اب! اے عمر!"
(صحیح البخاری، کتاب: ایمان، باب: 3، حدیث: 6632)
صحابہ کرام کا حضور ﷺ سے عشق
عشق کے رنگ بڑے عجیب اور حیرت انگیز ہوا کرتے ہیں۔ جب عقلِ انسانی حیرت میں پڑ جاتی ہے، تو عشق ہی بڑی بڑی مشکلات میں رہنمائی کرتا ہے۔ عشق نے بہت سی لاعلاج بیماریوں کا مکمل علاج کیا ہے۔ عشق کے کارنامے آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اور جب بات صحابہ کرام کے عشقِ رسول ﷺ کی ہو، تو پھر بات ہی نرالی ہے!
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عشق:
مدینہ کے پرآشوب ماحول میں، جب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وصال ہو چکا تھا، اور اطرافِ مدینہ کے بہت سے لوگ دینِ اسلام سے پھر چکے تھے، دشمنوں نے شہرِ مدینہ پر حملے کی تیاری مکمل کر لی۔ اسلامی لشکر، آقا علیہ السلام کے حکم سے، حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں روم کے مقابل روانہ ہو چکا تھا۔ سیاسی حالات نے سنگین رخ اختیار کر لیا۔ صحابہ کرام کی رائے تھی کہ لشکر کو واپس بلا لیا جائے۔
لیکن وہ عشق ہی تھا جس نے سب کے برخلاف پکار کر کہا:
"قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! ابو قحافہ کے بیٹے (ابوبکر) سے ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ اس لشکر کو واپس لوٹائے جسے اللہ کے رسول ﷺ نے آگے بھیجا ہو۔ خواہ کتے ہماری ٹانگیں کھینچ لے جائیں، مگر رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا لشکر واپس نہیں بلا سکتا، اور آقا ﷺ کا باندھا ہوا پرچم کھولا نہیں جا سکتا۔"
عشق کا فیصلہ عقل کے فیصلے سے بالکل متصادم تھا، لیکن دنیا نے دیکھا کہ جب عشق کا فیصلہ نافذ ہوا، تو ساری سازشیں خود بخود دم توڑ گئیں۔ دشمنوں کے حوصلے پست ہو گئے، اور سیاسی حالات کی کایا پلٹ گئی۔
(حياة الحيوان الكبرى، جلد 1، صفحہ 77)
اسی عشق کی بدولت صحابہ کرام کو دنیا میں اختیار و اقتدار، اور آخرت میں عزت و وقار ملا۔ صحابہ کرام کے عشق کا کمال یہ تھا کہ مشکل سے مشکل گھڑی، کٹھن سے کٹھن وقت میں بھی، انہیں اتباعِ رسول ﷺ سے انحراف گوارا نہیں تھا۔ وہ ہر مرحلے میں اپنے پیارے آقا کا نقشِ پا ڈھونڈتے تھے اور اس پر بھرپور عمل کی کوشش کرتے تھے۔
اسی لیے تو سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عشق:
مدینہ کے پرآشوب ماحول میں، جب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وصال ہو چکا تھا، اور اطرافِ مدینہ کے بہت سے لوگ دینِ اسلام سے پھر چکے تھے، دشمنوں نے شہرِ مدینہ پر حملے کی تیاری مکمل کر لی۔ اسلامی لشکر، آقا علیہ السلام کے حکم سے، حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں روم کے مقابل روانہ ہو چکا تھا۔ سیاسی حالات نے سنگین رخ اختیار کر لیا۔ صحابہ کرام کی رائے تھی کہ لشکر کو واپس بلا لیا جائے۔
لیکن وہ عشق ہی تھا جس نے سب کے برخلاف پکار کر کہا:
"قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! ابو قحافہ کے بیٹے (ابوبکر) سے ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ اس لشکر کو واپس لوٹائے جسے اللہ کے رسول ﷺ نے آگے بھیجا ہو۔ خواہ کتے ہماری ٹانگیں کھینچ لے جائیں، مگر رسول اللہ ﷺ کا بھیجا ہوا لشکر واپس نہیں بلا سکتا، اور آقا ﷺ کا باندھا ہوا پرچم کھولا نہیں جا سکتا۔"
عشق کا فیصلہ عقل کے فیصلے سے بالکل متصادم تھا، لیکن دنیا نے دیکھا کہ جب عشق کا فیصلہ نافذ ہوا، تو ساری سازشیں خود بخود دم توڑ گئیں۔ دشمنوں کے حوصلے پست ہو گئے، اور سیاسی حالات کی کایا پلٹ گئی۔
(حياة الحيوان الكبرى، جلد 1، صفحہ 77)
اسی عشق کی بدولت صحابہ کرام کو دنیا میں اختیار و اقتدار، اور آخرت میں عزت و وقار ملا۔ صحابہ کرام کے عشق کا کمال یہ تھا کہ مشکل سے مشکل گھڑی، کٹھن سے کٹھن وقت میں بھی، انہیں اتباعِ رسول ﷺ سے انحراف گوارا نہیں تھا۔ وہ ہر مرحلے میں اپنے پیارے آقا کا نقشِ پا ڈھونڈتے تھے اور اس پر بھرپور عمل کی کوشش کرتے تھے۔
اسی لیے تو سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
لحد میں عشقِ رُخِ شہ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی، چراغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی تھی، چراغ لے کے چلے
ایک صحابیہ کی محبت:
جنگِ اُحد میں ایک صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد، بھائی اور شوہر پروانہ وار لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ جب انہیں یہ بات معلوم ہوئی تو اس کا کچھ غم نہ کیا، بس یہ پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟ جب انہیں بتایا گیا کہ حضور ﷺ بخیر و عافیت سلامت ہیں، تو بولیں: "مجھے حضور کو دکھا دو۔" آپ ﷺ کو دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھیں:
جنگِ اُحد میں ایک صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد، بھائی اور شوہر پروانہ وار لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ جب انہیں یہ بات معلوم ہوئی تو اس کا کچھ غم نہ کیا، بس یہ پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟ جب انہیں بتایا گیا کہ حضور ﷺ بخیر و عافیت سلامت ہیں، تو بولیں: "مجھے حضور کو دکھا دو۔" آپ ﷺ کو دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھیں:
كُلُّ مُصِيبَةٍ بَعْدَكَ جَلَلٌ
ترجمہ: آپ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت ہیچ (معمولی) ہے!
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۂ اُحد، ج 2، ص 99)
ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے کسی نے سوال کیا کہ: "آپ لوگ رسول اللہ ﷺ سے کیسی محبت کرتے ہیں؟" تو آپ نے فرمایا:
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، غزوۂ اُحد، ج 2، ص 99)
ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے کسی نے سوال کیا کہ: "آپ لوگ رسول اللہ ﷺ سے کیسی محبت کرتے ہیں؟" تو آپ نے فرمایا:
كَانَ وَاللّٰهِ اَحَبَّ اِلَيْنَا مِنْ اَمْوَالِنَا، وَأَوْلَادِنَا، وَآبَائِنَا، وَأُمَّهَاتِنَا، وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ عَلَی الظَّمَاءِ
ترجمہ: خدا کی قسم! حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے مال، ہماری اولاد، ہمارے باپ، ہماری ماں اور سخت پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب تھے۔
(الشفاء، القسم الثانی، الباب الثانی، ج 2، ص 48)
(الشفاء، القسم الثانی، الباب الثانی، ج 2، ص 48)
یہ ایک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں
تیرے نام پر سب کو وارہ کروں میں
تیرے نام پر سب کو وارہ کروں میں
یقیناً ایسے عشق کی مثال دنیا نے نہیں دیکھی ہوگی، یہ اللہ کے رسول ﷺ کے صحابۂ کرام کا ہی خاصہ ہے۔
حضور پُرنور ﷺ سے محبت کا اجر
یہ محبت کس قدر بلند ہے، اس کا اندازہ درج ذیل احادیث سے لگایا جا سکتا ہے:
(1) حضرت صفوان بن قدامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں نبی کریم ﷺ کی طرف ہجرت کر کے حاضر ہوا اور عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ! اپنا دستِ مبارک دیجیے تاکہ میں بیعت کر سکوں۔" آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک بڑھایا۔ میں نے عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کو محبوب رکھتا ہوں۔" ارشاد فرمایا:
"الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" (آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے)۔
(الشفاء، القسم الثانی، ص 20، ج 2)
(2) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ! قیامت کب آئے گی؟" ارشاد فرمایا: "تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے عرض کی: "میرے پاس نہ نمازوں کی کثرت ہے، نہ روزے اور صدقہ، لیکن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔" تب آپ ﷺ نے فرمایا: "تو اس کے ساتھ ہے جس کو تو محبوب رکھتا ہے۔"
(صحیح البخاری، کتاب الادب، حدیث: 6171)
(3) حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، تاجدارِ دو عالم ﷺ سے کمال درجے کی محبت رکھتے تھے، اور انہیں جدائی کی تاب نہ تھی۔ ایک روز اتنے رنجیدہ اور افسردہ حاضر ہوئے کہ چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ رسولِ کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: "آج تمہارا رنگ کیوں بدلا ہوا ہے؟" عرض کی: "نہ مجھے کوئی بیماری ہے اور نہ درد، سوائے اس کے کہ جب حضور اقدس ﷺ سامنے نہیں ہوتے، تو انتہا درجے کی وحشت و پریشانی ہو جاتی ہے۔ جب آخرت کو یاد کرتا ہوں، تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پا سکوں گا؟ آپ تو اعلیٰ ترین مقام میں ہوں گے، اور اگر مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے جنت بھی دے دی، تو اس مقامِ عالی تک رسائی کہاں؟" اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
(1) حضرت صفوان بن قدامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں نبی کریم ﷺ کی طرف ہجرت کر کے حاضر ہوا اور عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ! اپنا دستِ مبارک دیجیے تاکہ میں بیعت کر سکوں۔" آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک بڑھایا۔ میں نے عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کو محبوب رکھتا ہوں۔" ارشاد فرمایا:
"الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" (آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے)۔
(الشفاء، القسم الثانی، ص 20، ج 2)
(2) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ! قیامت کب آئے گی؟" ارشاد فرمایا: "تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟" اس نے عرض کی: "میرے پاس نہ نمازوں کی کثرت ہے، نہ روزے اور صدقہ، لیکن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔" تب آپ ﷺ نے فرمایا: "تو اس کے ساتھ ہے جس کو تو محبوب رکھتا ہے۔"
(صحیح البخاری، کتاب الادب، حدیث: 6171)
(3) حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، تاجدارِ دو عالم ﷺ سے کمال درجے کی محبت رکھتے تھے، اور انہیں جدائی کی تاب نہ تھی۔ ایک روز اتنے رنجیدہ اور افسردہ حاضر ہوئے کہ چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ رسولِ کریم ﷺ نے دریافت فرمایا: "آج تمہارا رنگ کیوں بدلا ہوا ہے؟" عرض کی: "نہ مجھے کوئی بیماری ہے اور نہ درد، سوائے اس کے کہ جب حضور اقدس ﷺ سامنے نہیں ہوتے، تو انتہا درجے کی وحشت و پریشانی ہو جاتی ہے۔ جب آخرت کو یاد کرتا ہوں، تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پا سکوں گا؟ آپ تو اعلیٰ ترین مقام میں ہوں گے، اور اگر مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے جنت بھی دے دی، تو اس مقامِ عالی تک رسائی کہاں؟" اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيْنَۚ وَحَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِيْقًا
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے فضل فرمایا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔
(سورۃ النساء: 69)
(سورۃ النساء: 69)
محبتِ رسول ﷺ کی چند علامات
علمائے کرام نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت کی بہت سی علامات بیان فرمائی ہیں، ان میں سے 5 اہم علامات درج ذیل ہیں:
- اقوال اور افعال میں حضور اکرم ﷺ کی پیروی کرنا۔ یعنی سرکارِ دو عالم ﷺ نے جن کاموں کا حکم دیا، انہیں کرنا، اور جن سے منع فرمایا، ان سے رک جانا۔ نیز، نبی اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا۔
- آپ ﷺ نے جس عمل کی ترغیب دی، اسے اپنی نفسانی اور شہوانی خواہشات پر ترجیح دینا۔
- بکثرت نبی کریم ﷺ کا ذکرِ جمیل کرنا، آپ ﷺ پر درود شریف پڑھنا، اور آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنا۔
- ذکرِ حبیب ﷺ کے وقت تعظیم و توقیر بجا لانا، اور اسمِ گرامی سن کر انکساری کا اظہار کرنا۔
- جس سے سرکار ﷺ محبت رکھتے ہوں، اس سے بھی محبت رکھنا۔
صحابۂ کرام نے حضور ﷺ سے عشق و محبت کی وہ مثال قائم کی جو ڈھونڈنے سے بھی آج نہیں ملتی۔ اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو بتا دیا کہ: "ہمارے نزدیک حضور ﷺ کی ذات ہمارے مال، اولاد اور ماں باپ سے بھی بڑھ کر محبوب ترین ہے!" یقیناً، مومنِ کامل اور ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کی یہی پہچان ہوتی ہے۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں بھی صحابہ کرام کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور صحابہ کے اخلاص، صدق اور عشقِ رسول ﷺ کا حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں بھی صحابہ کرام کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور صحابہ کے اخلاص، صدق اور عشقِ رسول ﷺ کا حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔