حضرت یسع علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ
اللہ عزوجل بڑا کریم ہے کہ اس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاءِ کرام کو مبعوث فرمایا، تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں اور گمراہی سے بچائیں۔ ان انبیاءِ کرام میں سے ایک حضرت یسع علیہ السلام بھی ہیں۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ہیں۔ آپ کو حضرت الیاس علیہ السلام نے بنی اسرائیل پر اپنا خلیفہ مقرر کیا اور بعد میں آپ کو شرفِ نبوت سے سرفراز فرمایا گیا۔
آپ کا تذکرہ قرآنِ پاک میں بھی ملتا ہے۔ آئیے! ہم قرآنِ پاک سے حضرت یسع علیہ السلام کا تذکرہ سنتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں دو مقامات پر حضرت یسع علیہ السلام کا مختصر تذکرہ ملتا ہے:
آپ کا تذکرہ قرآنِ پاک میں بھی ملتا ہے۔ آئیے! ہم قرآنِ پاک سے حضرت یسع علیہ السلام کا تذکرہ سنتے ہیں۔ قرآنِ پاک میں دو مقامات پر حضرت یسع علیہ السلام کا مختصر تذکرہ ملتا ہے:
پہلا مقام
اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَ
ترجمۂ کنزالعرفان: اور اسماعیل اور یَسَع اور یونس اور لوط کو (ہدایت دی) اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔
(سورۃ الانعام، آیت: 86)
(سورۃ الانعام، آیت: 86)
دوسرا مقام
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَاذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ
ترجمۂ کنزالعرفان: اور اسماعیل اور یسع اور ذو الکفل کو یاد کرو اور سب بہترین لوگ ہیں۔
(سورۃ ص، آیت: 48)
(سورۃ ص، آیت: 48)
جانشین کے لیے تین شرائط
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یسع علیہ السلام کو بہترین لوگوں میں شمار فرمایا ہے۔ آپ علیہ السلام کے بارے میں کتابوں میں ملتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی اور اس کے ساتھ ہی آپ کو بادشاہت بھی عطا فرمائی۔ آپ علیہ السلام دن کو روزہ رکھتے اور رات کو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر نوافل ادا کرتے تھے۔ آپ کو کسی بات پر غصہ نہیں آتا تھا، خصوصاً آپ اپنی امت کے معاملات میں بڑی متانت (سنجیدگی) سے فیصلہ فرماتے، کسی قسم کی جلد بازی اور غصے سے فیصلہ نہیں فرماتے تھے۔
آپ علیہ السلام کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو بنی اسرائیل کے کچھ بڑے آدمی مل کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے کہ آپ بادشاہت میں اپنا جانشین کسی کو مقرر کر دیں تاکہ ہم اپنے معاملات میں اس کی طرف رجوع کریں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: "ملک کی باگ ڈور میں اس کے ہاتھ میں دوں گا جو مجھے تین باتوں کی ضمانت دے گا۔"
کسی شخص نے بھی اس ذمہ داری کو قبول نہیں کیا سوائے ایک نوجوان کے، اس نے کہا: "میں ضمانت دیتا ہوں۔" آپ نے اسے کہا: "بیٹھ جا" مقصد یہ تھا کہ کوئی اور شخص بات کرے، لیکن پھر آپ کے کہنے پر وہی شخص کھڑا ہوا، اور اس نے ذمہ داری قبول کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ آپ نے کہا ٹھیک ہے، یہ تین چیزیں ہیں:
(روح المعانی، ج 9، حصہ دوم، ص 82)
آپ علیہ السلام کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو بنی اسرائیل کے کچھ بڑے آدمی مل کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے کہ آپ بادشاہت میں اپنا جانشین کسی کو مقرر کر دیں تاکہ ہم اپنے معاملات میں اس کی طرف رجوع کریں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: "ملک کی باگ ڈور میں اس کے ہاتھ میں دوں گا جو مجھے تین باتوں کی ضمانت دے گا۔"
کسی شخص نے بھی اس ذمہ داری کو قبول نہیں کیا سوائے ایک نوجوان کے، اس نے کہا: "میں ضمانت دیتا ہوں۔" آپ نے اسے کہا: "بیٹھ جا" مقصد یہ تھا کہ کوئی اور شخص بات کرے، لیکن پھر آپ کے کہنے پر وہی شخص کھڑا ہوا، اور اس نے ذمہ داری قبول کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ آپ نے کہا ٹھیک ہے، یہ تین چیزیں ہیں:
- پہلی شرط: تمام رات عبادت میں گزارنا ہے، سونا نہیں۔
- دوسری شرط: ہر روز دن کو روزہ رکھنا ہے۔
- تیسری شرط: غصے کی حالت میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا۔
(روح المعانی، ج 9، حصہ دوم، ص 82)
ہمارے لیے لمحۂ فکریہ
پیارے دوستو! حضرت یسع علیہ السلام اور دیگر انبیاءِ کرام کی سوانحِ طیبہ پڑھ کر یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ذمہ دار ہوا کرتے تھے اور اپنی ذمہ داری کو بخوبی انجام دیتے تھے۔ ان انبیاءِ کرام ہی کی بدولت ہم تک دینِ اسلام پہنچا ہے۔ اے میرے دوستو! سوچو اگر یہ انبیاءِ کرام اپنی ذمہ داری انجام نہ دیتے تو آج ہم کہاں بھٹک رہے ہوتے؟
اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور لوگوں کو بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا ایک بہترین ذریعہ دعوتِ اسلامی کا مدنی قافلہ ہے جس میں لوگوں کو محلہ محلہ، شہر شہر جا کر نیکی کی دعوت دی جاتی ہے اور برائی سے روکا جاتا ہے۔
اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور لوگوں کو بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا ایک بہترین ذریعہ دعوتِ اسلامی کا مدنی قافلہ ہے جس میں لوگوں کو محلہ محلہ، شہر شہر جا کر نیکی کی دعوت دی جاتی ہے اور برائی سے روکا جاتا ہے۔
اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے روکنے والا بنائے اور ہمیں اپنی ذمہ داری کو سمجھنے والا بنائے۔
آمین ثم آمین
آمین ثم آمین