حضرت اسحاق علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ | سیرتِ انبیاء کرام

قرآن مجید میں حضرت اسحاق علیہ السلام کا ذکر کتنی بار آیا ہے؟ ان کی سیرت، فضائل اور ولادت کی بشارت کے قرآنی واقعات تفصیل کے ساتھ پڑھیے۔
حضرت اسحاق علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ | سیرتِ انبیاء کرام۔ قرآن مجید میں حضرت اسحاق علیہ السلام کا ذکر کتنی بار آیا ہے؟ ان کی سیرت، فضائل اور ولادت کی بشارت کے قرآنی واقعات تفصیل کے ساتھ پڑھیے۔
✍️ قلمکار
ساجد عطاری مدنی
📝 موضوع
حضرت اسحاق علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ
🏢 ادارہ
جامعۃ المدینۃ انڈیا

حضرت اسحاق علیہ السلام کا قرآنی تذکرہ

اللہ عزوجل بڑا رحمان ہے کہ جس نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاءِ کرام کو مبعوث فرمایا۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَۚ
ترجمۂ کنز الایمان: اور بیشک ہر امت میں ہم نے ایک رسول بھیجا کہ (اے لوگو!) اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو۔
(سورۃ النحل، آیت: 36)

یہ آیتِ کریمہ واضح دلالت کرتی ہے کہ انبیاءِ کرام کو مبعوث فرمانے کا مقصد لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی عبادت کی طرف بلانا ہے اور معبودانِ باطلہ کی عبادت سے لوگوں کو روکنا ہے۔

انہی انبیاءِ کرام میں سے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسحاق علیہ السلام بھی ہیں۔ آپ علیہ السلام کثیر اوصاف کے حامل عظیم نبی تھے۔ آپ لوگوں کو آخرت کی یاد دلاتے اور کثرت سے آخرت کا ذکر کرتے تھے۔ آئیے ہم حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں قرآنِ پاک سے سنتے ہیں:

حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت

اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَمِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ
ترجمہ: تو ہم نے اسے (حضرت سارہ کو) اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی۔
(سورۃ ہود، آیت: 71)

حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو بشارت دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی عورتوں کو بنسبت مردوں کے زیادہ ہوتی ہے، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہیں تھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام موجود تھے۔ اس بشارت ہی کے ضمن میں ایک بشارت یہ بھی تھی کہ حضرت سارہ کی عمر اتنی دراز ہوگی کہ وہ پوتے (حضرت یعقوب علیہ السلام) کو بھی دیکھیں گی۔
(ماخوذ از: تذکرۃ الانبیاء، ص 110، مطبوعہ رضوی کتاب گھر)

حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کے ساتھ آپ کی نبوت اور قربِ خاص کے لائق بندوں میں سے ہونے کی بھی بشارت دی گئی، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۞ وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَعَلٰۤى اِسْحٰقَؕ-وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ
ترجمہ: اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی جو اللہ کے خاص قرب کے لائق بندوں میں سے ایک نبی ہے۔ اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت اتاری اور ان کی اولاد میں کوئی اچھا کام کرنے والا ہے اور کوئی اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔
(سورۃ الصافات، آیات: 112-113)

آیاتِ مبارکہ کی تفسیر

اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں فرمایا گیا کہ:

﴿وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ﴾ (اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی): ذبح کا واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خوشخبری دینا اس بات کی دلیل ہے کہ ذبیح حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔

﴿وَبٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَعَلٰۤى اِسْحٰقَ﴾ (اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت اتاری): یعنی ہم نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر دینی اور دُنْیَوی ہر طرح کی برکت اتاری۔ اور ظاہری برکت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں کثرت کی اور حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نسل سے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لے کر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک بہت سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مبعوث کئے۔
(مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: 113، ص 1008)

دعوت و تبلیغ اور احکامِ الٰہی

حضرت اسحاق علیہ السلام شام و فلسطین میں مقیم کنعانیوں کی طرف مبعوث ہوئے۔ یہی وہ علاقہ تھا جس میں ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زندگی گزاری اور انہی لوگوں کے درمیان حضرت اسحاق علیہ السلام نے پرورش پائی۔

حضرت اسحاق علیہ السلام پر جداگانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا؛ البتہ وحی کے ذریعے آپ پر بعض احکام نازل ہوئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت 136 میں ارشاد فرمایا۔
(ماخوذ از: سیرۃ الانبیاء، ص 336)
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت اسحاق علیہ السلام کثیر اوصاف کے حامل اور عظیم نبی تھے۔ آپ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے اور برائیوں سے روکتے اور آخرت کی یاد دلاتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی لوگوں کو نیکی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکیں، کیونکہ نبوت کا باب ہمارے نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گیا ہے اور اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو برائیوں سے روکیں اور نیکی کا حکم دیں۔ اور لوگوں کو برائیوں سے روکنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ انہیں دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں میں سفر کروائیں اور دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں لے کر آئیں۔ اِن شاء اللہ! اگر اللہ نے چاہا تو وہ ضرور نیک بن جائیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں