جہلمی کے ایک فکری مغالطے کا تنقیدی جائزہ | علمی و تحقیقی رد

انجینئر محمد علی مرزا (جہلمی) کے ایک اہم فکری مغالطے کا قرآن و سنت اور عقلی دلائل کی روشنی میں تنقیدی جائزہ۔ مولانا عمر سفیر رضوی کا تحقیقی مقالہ پڑھی
Attari
جہلمی کے ایک فکری مغالطے کا تنقیدی جائزہ | علمی و تحقیقی رد۔ انجینئر محمد علی مرزا (جہلمی) کے ایک اہم فکری مغالطے کا قرآن و سنت اور عقلی دلائل کی روشنی میں تنقیدی جائزہ۔ مولانا عمر سفیر رضوی کا تحقیقی مقالہ پڑھیے۔
✍️ قلمکار
مولانا عمر سفیر رضوی
📝 موضوع
انجینئر محمد علی مرزا کے ایک فکری مغالطے کا تنقیدی جائزہ
🏢 ادارہ
متعلم کلیۃ حدیقۃ الطیبہ لدراسات المتکاملہ الثقافیۃ

انجینئر محمد علی مرزا کے ایک فکری مغالطے کا تنقیدی جائزہ

عوامِ اہلِ سنت کو فقہی مسالک سے دور کرنے کے لیے انجینئر محمد علی مرزا اور ان کے ہمنوا اپنے بیانات اور پوڈکاسٹس میں عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایک مخصوص مغالطے کا سہارا لیتے ہیں کہ "ہم صرف مسلمان ہیں؛ نہ حنفی، نہ شافعی، نہ مالکی اور نہ حنبلی۔" خود کو علمی اور کتابی کہلانے والا یہ گروہ درحقیقت اسی پرانی فکر کی بازگشت ہے جسے غیر مقلدین برسوں سے دہراتے چلے آ رہے ہیں۔

انجینئر اکثر و بیشتر اپنے بیانات میں بخاری ومسلم کے حوالے دیتا ہے اور ان کو اپنا پیشوا تسلیم کرتا ہے۔ میں فرقۂ جہلمیہ کے بانی اور اس کے شاگردوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ جن بخاری، مسلم اور کتبِ ستہ کو مانتے ہو، وہ تمام کے تمام ائمہ کسی نہ کسی امام کے مقلد ہیں، بلکہ بڑے اجلہ محدثین کسی نہ کسی امام کے مقلد تھے۔

امام بخاری کا فقہی مسلک

جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی متوفی 1176ھ اپنی کتاب "الإنصاف" میں متعدد مقامات پر امام بخاری کے مسلک کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کا مسلک 'شافعی' لکھتے ہیں۔ چنانچہ ایک مقام پر فرماتے ہیں:

وَمِنْ هَذَا الْقَبِيلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، فَإِنَّهُ مَعْدُودٌ فِي طَبَقَاتِ الشَّافِعِيَّةِ، وَمِمَّنْ ذَكَرَهُ فِي طَبَقَاتِ الشَّافِعِيَّةِ الشَّيْخُ تَاجُ الدِّينِ السُّبْكِيُّ، وَقَالَ: إِنَّهُ تَفَقَّهَ بِالْحُمَيْدِيِّ، وَالْحُمَيْدِيُّ تَفَقَّهَ بِالشَّافِعِيِّ، وَاسْتَدَلَّ شَيْخُنَا الْعَلَّامَةُ عَلَى إِدْخَالِ الْبُخَارِيِّ فِي الشَّافِعِيَّةِ بِذِكْرِهِ فِي طَبَقَاتِهِمْ، وَكَلَامُ النَّوَوِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ شَاهِدٌ لَهُ.
ترجمہ: امام محمد بن اسماعیل البخاری کا فقہی مقام بھی ایسا ہی ہے۔ ان کا شمار بھی طبقاتِ شافعیہ میں ہوتا ہے۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے ان کو طبقاتِ شافعیہ میں شمار کیا ہے، شیخ تاج الدین السبکی بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "امام بخاری نے علمِ فقہ حمیدی سے اور حمیدی نے امام شافعی سے حاصل کیا، اور ہمارے استادِ علام نے بھی امام بخاری کے شافعی ہونے پر یہی دلیل دی ہے کہ تاج الدین السبکی نے ان کا تذکرہ طبقاتِ شافعیہ میں انہی کے زمرے میں کیا ہے۔ نووی کا کلام جو ہم نے اوپر ذکر کیا ہے وہ بھی اسی کا مؤید ہے۔"
(الإنصاف في بیان أسباب الاختلاف، ص 86، طبع: دار النفائس، بیروت)

امام ابو داؤد اور امام نسائی کا مسلک

علامۂ زماں حضرت شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی متوفی 1239ھ اپنی شہرہ آفاق کتاب "بستان المحدثین" میں امام ابو داؤد سجستانی رحمۃ اللہ علیہ کے فقہی مسلک کے متعلق فرماتے ہیں:
"بعض نے انہیں شافعی المسلک کہا، بعض نے حنبلی المسلک کہا، جیسا کہ تاریخِ ابن خلکان میں ان کو طبقات الفقہاء میں امام احمد بن حنبل کے اصحاب میں شمار کیا گیا۔ واللہ اعلم۔"
(بستان المحدثین اردو، ص 192، طبع: عرشی کتاب گھر حیدرآباد)

یہی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا فقہی مسلک 'شافعی' لکھتے ہیں۔
(مرجعِ سابق، صفحہ 198)

امام مسلم کا فقہی مسلک

حاجی خلیفہ رحمۃ اللہ علیہ متوفی 1067ھ نے امام مسلم کا فقہی مسلک 'شافعی' لکھا ہے:

لِلْإِمَامِ الْحَافِظِ أَبِي الْحُسَيْنِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيِّ النَّيْسَابُورِيِّ (الشَّافِعِيِّ) الْمُتَوَفَّى سَنَةَ ٢٦١
(كشف الظنون، ج 1، ص 555، طبع: دار إحياء التراث العربي، بیروت)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ائمۂ ستہ کو مقلد ہی شمار کیا ہے، لیکن یاد رہے یہ ائمہ مقلد ہونے کے ساتھ ساتھ "مجتہدِ منتسب" بھی تھے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: الإنصاف فی بیان اسباب الاختلاف، باب 4، حالات قبل از صدی چہارم)۔

اسی طرح شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے تقریباً محدثین کو مقلد شمار کیا، ان میں بعض 'مجتہد فی المسائل' تھے۔ مزید تفصیلات کے لیے "بستان المحدثین" (عربی، اردو، فارسی) کی طرف رجوع کریں۔

اسلاف سے دوری کا فتنہ

المیہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے ائمۂ ستہ (امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام ابوداؤد، امام نسائی اور امام ابن ماجہ رحمہم اللہ) جیسے عظیم محدثین نے جس دین کو ہم تک پہنچایا، وہ خود بھی کسی نہ کسی فقہی مسلک سے وابستہ تھے اور فقہائے امت کی علمی خدمات کے معترف تھے۔ مگر افسوس کہ آج ہمیں یہ فریب دے کر اکابر سے دور کیا جا رہا ہے کہ دین صرف قرآن و حدیث ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دین کا اصل ماخذ قرآن اور حدیث ہی ہے، لیکن یہ کہنا کہ ہم براہِ راست قرآن و حدیث سے دین سمجھ لیں گے اور ان اکابر فقہاء کی خدمات کو نظر انداز کر دیں گے، ایک ایسی گمراہی ہے جس نے امت کو منتشر کر دیا ہے۔ یاد رکھیں! حقیقت یہ ہے کہ باطل قوتیں یہ جانتی ہیں کہ جب تک امت اپنے اکابر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تب تک اسے ورغلانا ممکن نہیں، لہٰذا وہ ان کے دلوں میں اپنے اسلاف کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر کے انہیں بے سمت کر رہے ہیں۔

یاد رکھیے! اگر ہم اکابر کو درمیان سے ہٹا دیں تو ہمیں دین کی کوئی بات بھی صحیح معلوم نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ دین ہم تک پہنچا ہی انہی اکابر کے واسطے سے ہے۔ لیکن میرے آقا کے دیوانو! تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت نے اپنے اسلاف سے رشتہ توڑا وہ فتنوں کی زد میں آ گئی۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کا انکار کیا، کچھ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس ہستیوں کے خلاف بدزبانی کی، اور کچھ نے ہمیں فقہائے کرام و ائمۂ عظام محدثینِ کرام کے مستند علمی راستے سے دور کر کے فکری انتشار میں ڈال دیا۔ انہی میں ایک شخص انجینئر محمد علی مرزا المعروف جہلمی ہے۔

دعا گو ہوں اللہ تعالیٰ اس امت کو فتنوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اکابر کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

ایک تبصرہ شائع کریں