لین دین میں تحریر کی اہمیت | اسلامی اصولِ تجارت اور احکامات

لین دین اور قرض کے معاملات میں شرعی اصول کیا ہیں؟ مالی معاملات کو تحریر کرنے (لکھنے) کی اہمیت، قرآنی احکامات اور اس کے معاشرتی فوائد پر مبنی اہم مضمون
Attari
لین دین میں تحریر کی اہمیت | اسلامی اصولِ تجارت اور احکامات۔ لین دین اور قرض کے معاملات میں شرعی اصول کیا ہیں؟ مالی معاملات کو تحریر کرنے (لکھنے) کی اہمیت، قرآنی احکامات اور اس کے معاشرتی فوائد پر مبنی اہم مضمون۔
✍️ قلمکار
انعام عطاری
📝 موضوع
لین دین میں تحریر کی اہمیت
🏢 ادارہ
مرکزی جامعۃ المدینہ، فیضانِ مفتیِ اعظم ہند، شاہ جہان پور

لین دین میں تحریر کی اہمیت

ہمارے ایک دوست ہیں، جن کے ساتھ ہم لاک ڈاؤن کے زمانے میں پڑھائی کیا کرتے تھے، لیکن کسی وجہ سے ان کی پڑھائی مکمل نہ ہو سکی۔ ان کے واٹس ایپ نمبر سے مجھے ایک میسج ملا۔ میسج آتے ہی میں ذرا الرٹ ہو گیا کہ کہیں میرے ساتھ کوئی اسکیم یا دھوکہ دہی کا معاملہ تو نہیں ہو رہا ہے!

میں نے انہیں میسج کیا، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر کال کی تو کال بھی نہیں اٹھی۔ کچھ دیر بعد دوبارہ کال کی تو الحمدللہ، اس مرتبہ انہوں نے کال اٹھا لی۔ پھر کافی دیر تک بات چیت ہوئی، ایک دوسرے کے حال و خیریت پوچھے۔ اسی دوران میں نے ان سے پوچھا: ”بھائی! آپ نے یہ پیسے کیوں بھیجے ہیں؟“

تو انہوں نے بتایا کہ: ”کئی سال پہلے میں نے آپ سے کچھ پیسے لیے تھے۔ اس وقت میں نے ایک پرچی پر یہ لکھ کر اپنی کتاب میں رکھ دی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ میں اس معاملے کو بھول گیا تھا۔ اتفاق سے میں اپنی کتابوں میں کچھ تلاش کر رہا تھا کہ اچانک وہ پرچی میرے سامنے آ گئی۔ پرچی نکال کر دیکھی تو اس پر میرا نام اور پیسے لکھے تھے۔ اسے دیکھتے ہی مجھے یاد آ گیا کہ پیسے واپس کرنے ہیں، یہ وہی پیسے ہیں جو میں نے بھیج دیے ہیں۔“

میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ: ”بھائی! آپ نے پرچی دیکھی تو یاد آ گیا لیکن سچ تو یہ ہے کہ مجھے یاد بھی نہیں ہے کہ میں نے آپ کو کبھی پیسے دیے تھے، اور اب بھی مجھے یاد نہیں آ رہا۔ لہٰذا آپ سے عرض یہی ہے کہ آپ رکھ لیجیے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔“

لیکن وہ اس بات پر راضی نہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ: ”بھلے آپ کو یاد نہ ہو، لیکن میں نے آپ سے پیسے لیے تھے اور یہ بات پرچی بتا رہی ہے۔“

قرآنی حکم اور اس کی حکمت

ان کی بات سن کر مجھے فوراً یہ آیتِ مبارکہ یاد آ گئی:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُؕ
ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کسی قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔
(سورۃ البقرہ، آیت: 282)

پیارے اسلامی بھائیو! زندگی میں کئی مرتبہ ایسا موقع آتا ہے کہ ہم کسی کو قرض دیتے ہیں یا کسی سے قرض لیتے ہیں۔ ایسے معاملات میں ہمیں ایک ضروری بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ معاملہ خواہ ہمارے کتنے ہی قریبی دوست یا جاننے والے کے ساتھ کیوں نہ ہو، اسے لکھ لینا چاہیے۔ صرف اپنے پاس لکھ لینا ہی کافی نہیں، بلکہ سامنے والے سے بھی عرض کر دینی چاہیے کہ بھائی آپ بھی اسے لکھ لیجیے کہ کتنی رقم دینی ہے یا لینی ہے، اور کب تک واپس کرنی ہے۔

ایک سبق آموز واقعہ

پچھلے سال کی بات ہے۔ زید نے احمد سے قرض لیا کہ دو مہینے میں واپس کر دوں گا۔ احمد نے اس کو لکھ لیا لیکن زید سے لکھنے کو نہیں کہا۔ وقت گزرتا گیا، درمیان میں زید کو کچھ پریشانیاں پیش آئیں، اور اس طرح تقریباً آٹھ سے نو ماہ گزر گئے۔

جب پیسے واپس کرنے تھے تو زید نے خود احمد کو میسج کرکے پوچھا کہ: ”بھائی! شاید اتنی رقم تھی؟“

اب صورتِ حال یہ تھی کہ زید نے جو رقم بتائی، وہ احمد کی لکھی ہوئی رقم سے کچھ کم تھی۔ لیکن احمد کے پاس کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہیں تھا جس کی بنیاد پر وہ زید کو یقین کے ساتھ بتا سکتا کہ ”نہیں بھائی! رقم اتنی نہیں، بلکہ اتنی تھی۔“ احمد نے بھی ان کی بات پر ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہہ دیا کہ جی ہاں، آپ اتنی ہی رقم دے دیجیے۔
پیارے اسلامی بھائیو! جب بھی لین دین کا معاملہ ہو، اللہ پاک کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کو لکھ لینا چاہیے اور اس لکھنے میں کسی طرح کی کوئی شرمندگی اور کوتاہی نہیں ہونی چاہیے تاکہ آپ بھی آزمائشوں اور پریشانیوں سے بچے رہیں اور سامنے والے کو بھی اطمینان رہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں