پوسٹروں اور اشتہارات میں جھوٹے القابات
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
أَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ
ترجمہ: ہر شخص سے اس کے دَرَجے کے مُطابق برتاؤ کرو۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلھم، الحدیث: 4842، ج 4، ص 343)
اس فرمانِ مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے حقیقی علمی، دینی اور معاشرتی مقام کے مطابق پہچانا اور متعارف کرایا جائے، نہ اس کے مرتبے سے کم اور نہ بڑھا کر۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلھم، الحدیث: 4842، ج 4، ص 343)
اس فرمانِ مصطفیٰ ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے حقیقی علمی، دینی اور معاشرتی مقام کے مطابق پہچانا اور متعارف کرایا جائے، نہ اس کے مرتبے سے کم اور نہ بڑھا کر۔
المیہ اور ہماری ذمہ داری
المیہ اس بات کا ہے کہ بعض اہلِ علم کے پوسٹروں، اشتہارات اور تعارفی اعلانات میں ایسے القابات استعمال کیے جاتے ہیں جو حقیقت کے مطابق نہیں ہوتے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے پوسٹروں سے اور نقیب حضرات کو ہدایت دے کر ایسے خلافِ واقعہ القابات ختم کروائے جائیں۔ ہر شخص کے لیے اتنا ہی لکھا جائے جتنا اس کا حقیقی علمی مقام اور استحقاق ہے۔
غیر عالم کو "علامہ" یا "عالم" کہنا، غیر مفتی کو "مفتی" لکھنا، اور غیر مناظر کو "مناظرِ اہلِ سنت" کے لقب سے متعارف کرانا کھلا جھوٹ ہے۔
اسی طرح اگر کسی دارالافتاء میں ایک ہی مفتی صاحب ہوں اور نہ وہاں کوئی دوسرا مفتی موجود ہو اور نہ ہی افتاء کی تربیت پانے والے افراد، تو محض انہیں "صدر دارالافتاء" کہنا بھی محلِ نظر ہے؛ کیونکہ "صدر" کا مفہوم ہی یہ ہے کہ اس کے ساتھ یا اس کے ماتحت دیگر افراد بھی موجود ہوں۔ جیسے "صدر المدرسین" اسی جگہ کہا جاتا ہے جہاں متعدد مدرسین ہوں اور ان میں سے کسی ایک کو سربراہ مقرر کیا گیا ہو۔
اسی طرح اگر کسی دارالافتاء میں ایک ہی مفتی صاحب ہوں اور نہ وہاں کوئی دوسرا مفتی موجود ہو اور نہ ہی افتاء کی تربیت پانے والے افراد، تو محض انہیں "صدر دارالافتاء" کہنا بھی محلِ نظر ہے؛ کیونکہ "صدر" کا مفہوم ہی یہ ہے کہ اس کے ساتھ یا اس کے ماتحت دیگر افراد بھی موجود ہوں۔ جیسے "صدر المدرسین" اسی جگہ کہا جاتا ہے جہاں متعدد مدرسین ہوں اور ان میں سے کسی ایک کو سربراہ مقرر کیا گیا ہو۔
خود ساختہ القابات سے گریز
اسی طرح "مفتیِ اعظم" جیسے القابات بھی اسی وقت موزوں ہوتے ہیں جب کسی علاقے، شہر یا ملک کے معتبر اور مقتدر علماء کسی شخصیت کی نمایاں علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں باقاعدہ اس لقب سے نوازیں۔ محض خود ساختہ یا غیر مستند طور پر ایسے القابات اختیار کرنا حقیقت کے خلاف اور علمی دیانت کے منافی ہے۔
یہ تو صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ ہمارے معاشرے میں اس نوعیت کی مبالغہ آرائی اور خلافِ واقعہ تعارفات عام ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر آج اس رجحان کی اصلاح نہ کی گئی تو بعید نہیں کہ آنے والے وقت میں ہر ٹوپی اور کرتا پہننے والا شخص خود کو "علامہ" کہلوانے لگے، جب کہ ایسے افراد کی بعض اوقات بنیادی دینی معلومات اور ضروری قراءت تک درست نہیں ہوتی۔
یہ تو صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ ہمارے معاشرے میں اس نوعیت کی مبالغہ آرائی اور خلافِ واقعہ تعارفات عام ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر آج اس رجحان کی اصلاح نہ کی گئی تو بعید نہیں کہ آنے والے وقت میں ہر ٹوپی اور کرتا پہننے والا شخص خود کو "علامہ" کہلوانے لگے، جب کہ ایسے افراد کی بعض اوقات بنیادی دینی معلومات اور ضروری قراءت تک درست نہیں ہوتی۔