امامِ احمد رضا خان علیہ الرحمہ اور علمِ حدیث | اعلیٰ حضرت کی محدثانہ شان

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا علمِ حدیث میں مقام و مرتبہ اور محدثانہ شان۔ محمد عبدالواجد عطاری کا ایک جامع اور تحقیقی مضمون پڑھیے۔
امامِ احمد رضا خان علیہ الرحمہ اور علمِ حدیث | اعلیٰ حضرت کی محدثانہ شان۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا علمِ حدیث میں مقام و مرتبہ اور محدثانہ شان۔ محمد عبدالواجد عطاری کا ایک جامع اور تحقیقی مضمون پڑھیے۔
✍️ قلمکار
محمد عبد الواجد عطاری
📝 موضوع
امامِ احمد رضا خان علیہ الرحمہ اور علمِ حدیث
🏢 ادارہ
متعلم جامعۃ المدینہ آگرہ درجہ سادسہ

امامِ اہلِ سنت اور علمِ حدیث

اللہ جل و علا کا ارشاد ہے:

فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ
ترجمۂ کنز العرفان: تو ان میں ہر گروہ میں سے ایک جماعت کیوں نہیں نکل جاتی تاکہ وہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کریں اور جب ان کی طرف واپس آئیں تو وہ انہیں ڈرائیں تاکہ یہ ڈر جائیں۔
(پارہ: 11، سورۂ توبہ: 122)

حضرت حماد بن زید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس آیۂ کریمہ میں محدثین کا ذکر ہے۔ یعنی یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک گروہ کو چاہیے کہ وہ گھروں سے نکلے، علمائے کرام کی خدمت میں پہنچیں، وہاں جاکر حدیثیں سیکھیں، پھر واپس آکر اپنے شہر والوں، قبیلے والوں، محلے والوں اور گھر والوں کو وہ حدیثیں سکھایا کریں۔
(شوق علم حدیث، ص: 09)

محترم قارئین! اگر آپ تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم پڑے گا کہ بفضلہ تعالیٰ و احسانہ اس صفت کے حاملین کثیر تعداد میں گزرے ہیں۔ اور جب ماضیِ قریب کی بات کریں تو امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، پروانۂ شمعِ رسالت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی ذاتِ گرامی وقار یکتا و بیگانہ نظر آتی ہے۔ کیونکہ جہاں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ بیک وقت جید عالمِ دین، مفتیِ شرعِ متین اور عظیم عاشقِ رسولِ کریم علیہ التحیۃ والتسلیم تھے، وہیں عدیم المثال محدثِ جلیل بھی تھے۔

امامِ اہلِ سنت کی علمِ حدیث میں علمی و فنی دسترس

وہ علمائے کرام جنہوں نے باقاعدہ علمِ حدیث کو سیکھا، احادیث کو سمجھا، یاد کیا اور اس میں مہارت حاصل کی، ان علمائے کرام کے مختلف طبقات اور درجے ہیں۔ کسی کو محدث کہا جاتا ہے، کسی کو حافظ الحدیث کہتے ہیں، کسی کو حجت کہا جاتا ہے، کوئی شیخ الحدیث ہوتے ہیں۔ اسی طرح علمائے کرام کا ایک درجہ ہے: امیر المؤمنین فی الحدیث۔ علمِ حدیث کا وہ عالم جو اپنے زمانے کے تمام علمائے کرام میں سب سے زیادہ حدیثِ پاک کا ماہر ہو، اسے امیر المؤمنین فی الحدیث کہا جاتا ہے۔ اور سرکار اعلیٰ حضرت اسی منصب پر فائز تھے، یعنی اپنے وقت کے جملہ علمائے کرام میں سب سے زیادہ دسترس رکھنے والے تھے۔

ایک بار محدثِ اعظم ہند سید محمد اشرفی میاں رحمۃ اللہ علیہ اپنے استادِ محترم محدث وصی احمد سورتی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر تھے۔ انہوں نے سوال پوچھا: "عالی جاہ! آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کا ذکر بہت کثرت سے کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟"

شاگرد کا یہ سوال سن کر محدث وصی احمد سورتی رحمۃ اللہ علیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور جوشِ عقیدت میں تڑپ کر فرمایا: "میں اور میرا خاندان الحمد للہ پہلے سے مسلمان ہیں مگر جب سے میں اعلیٰ حضرت رحمہ اللہ سے ملنے لگا ہوں، مجھے ایمان کی حلاوت مل گئی ہے، بس جن کے صدقے سے ایمان کی حلاوت نصیب ہوئی ہے، ان کی یاد سے اپنے دل کو تسکین دیتا رہتا ہوں۔"

محدثِ اعظم ہند سید محمد اشرفی میاں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: استادِ محترم کا یہ ایمان افروز جواب سن کر میں نے عرض کیا: "عالی جاہ! کیا اعلیٰ حضرت علمِ حدیث میں آپ کے برابر ہیں؟" محدث سورتی نے برجستہ فرمایا: "ہر گز نہیں۔" پھر فرمایا: "شہزادے! آپ کچھ سمجھے کہ میرے ہرگز نہیں کہنے کا کیا مطلب ہے؟ سنیے! اعلیٰ حضرت امیر المؤمنین فی الحدیث ہیں، اگر میں سالہا سال اعلیٰ حضرت سے علمِ حدیث سیکھتا رہوں، ان کی شاگردی اختیار کروں، تب بھی میں ان کے قدموں کے برابر نہیں پہنچ سکوں گا۔"
(ماہنامہ المیزان، بمبئی، ص: 247)
تو محدث، تو محقق، تو مجدد لا جواب
اہلِ سنت کی اماں اے کشتۂ عشقِ رسول

محدثین اور علمائے عرب کے لیے اجازتِ سند

دوسرے حج کے موقع پر جب امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ مکہ مکرمہ حاضر ہوئے، اس وقت مصر، شام اور کئی ملکوں سے علمائے کرام حج کے لیے آئے ہوئے تھے۔ جب ان علمائے کرام کو پتا چلا کہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت، شاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان تشریف لائے ہوئے ہیں تو یہ علمائے کرام جوق در جوق اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ ان میں کئی علماء تھے جنہوں نے اعلیٰ حضرت سے علمِ دین کے بعض مشکل مسائل سمجھے، کئی وہ تھے جنہوں نے بعض علوم حاصل کیے اور اس وقت کے محدثینِ کبار کی ایک تعداد تھی جنہوں نے اس موقع پر باقاعدہ اعلیٰ حضرت سے سندِ حدیث کی اجازتیں بھی حاصل کیں۔

محترم قارئین کرام! ذرا تصور تو کریں وہ کیسی پر کیف گھڑی ہوگی جب وقت کے اور وہ بھی عرب شریف کے علمائے کبار امامِ اہلِ سنت سے اجازتِ سندِ حدیث کا مطالبہ کر رہے ہوں، گویا کہ وہ زبانِ حال سے یہ ظاہر کر رہے تھے کہ اس زمانے میں اگر کوئی امیر المؤمنین فی الحدیث کی اہلیت رکھتا ہے تو وہ صرف و صرف امامِ اہلِ سنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی ذاتِ گرامی وقار ہے۔ تبھی تو شاعر قلم طراز ہے:
حرم والوں نے مانا تم کو اپنا قبلہ و کعبہ
جو قبلہ اہلِ قبلہ کا ہے وہ قبلہ نما تم ہو

امامِ اہلِ سنت کا علمِ حدیث پر 3 گھنٹے کا بیان

1303 ہجری میں محدث وصی احمد سورتی رحمۃ اللہ علیہ نے پیلی بھیت میں "مدرسۃ الحدیث" کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پر محدث سورتی نے ملک کے بڑے بڑے علمائے کرام کو دعوت دی اور عظیم الشان اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ بھی تشریف فرما تھے، محدث سورتی نے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں بیان کرنے کی درخواست پیش کی۔

چنانچہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ منچ پر تشریف لائے اور آپ نے ملک کے بڑے بڑے علماء، محدثین، مفکرین کی موجودگی میں علمِ حدیث کے موضوع پر 3 گھنٹے کا بیان فرمایا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ علمِ حدیث کے موضوع پر زبردست علمی نکات بیان فرما رہے تھے اور انہیں سن کر اجتماع میں موجود بڑے بڑے علماء حیران ہو رہے تھے۔ جب اعلیٰ حضرت نے بیان ختم کیا تو محدث سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے بے ساختہ اٹھے اور آگے بڑھ کر جلدی سے اعلیٰ حضرت کے ہاتھوں کو بوسہ دِیا۔ گویا یہ زبانِ حال سے یوں اعلان کر رہے تھے:
سکہ بٹھایا ایسا حیرت میں سب ہیں قاسمؔ
جس سمت بھی ہے آیا احمد رضا ہمارا
(جامع الاحادیث، ص: 407/408)

امامِ اہلِ سنت نے علمِ حدیث کی کتنی کتابوں کا مطالعہ کیا؟

ایک بار سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا: "آپ نے حدیثِ پاک کی کون کون سی کتابیں درس کی ہیں؟"

اس پر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے تو علمِ حدیث کی چند کتابوں کے نام گنوائے مثلاً بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابنِ ماجہ۔ یوں 31 کتابوں کے نام گنوانے کے بعد فرمایا: "(یہ اور ان سمیت) علمِ حدیث کی 50 سے زائد کتابیں میرے درس و تدریس اور مطالعہ میں رہیں۔"
(اظہار الحق الجلی، صفحہ: 40)

امامِ اہلِ سنت سے چند متفرق سوالات اور آپ کے جوابات

  • سجدۂ تعظیمی: امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا: سجدۂ تعظیمی جائز ہے یا نہیں؟ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے قرآنی آیات اور 40 احادیث کی روشنی میں ثابت کیا کہ غیرِ خدا کی تعظیم کے لیے سجدہ کرنا پہلی شریعتوں میں جائز تھا، ہماری شریعت میں حرام ہے۔
  • دافع البلا: اعلیٰ حضرت کی خدمت میں سوال ہوا: لوگ کہتے ہیں: پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دافع البلا کہنا شرک ہے؟ اعلیٰ حضرت نے اس کے جواب میں 300 احادیث ذکر کرکے بتایا کہ الحمد للہ! ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اللہ پاک کی عطا سے دافع رنج و بلا ہیں۔
  • فضیلتِ مصطفیٰ ﷺ: اعلیٰ حضرت کی خدمت میں سوال ہوا: بعض لوگ کہتے ہیں: رسولِ اکرم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر تمام نبیوں سے افضل ہیں تو اس پر قرآن و حدیث سے دلیل لاؤ؟ اعلیٰ حضرت نے اس سوال کا جواب تحریر فرمایا اور 100 احادیث سے ثابِت کیا کہ اللہ پاک کے فضل سے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، تمام نبیوں کے سردار ہیں۔
(ماخوذ از: اعلیٰ حضرت اور علم حدیث)
علم میں بحرِ رواں احمد رضا خاں قادری
دین میں گوہر فشاں احمد رضا خاں قادری

تیرا علم و فضل، شان و شوکت و جاہ و حشم
شش جہت پر ہے عیاں احمد رضا خاں قادری

خلاصۂ کلام

محترم قارئین کرام! یہ تو امامِ اہلِ سنت علیہ الرحمہ کو عطا کی گئی فقط ایک خداداد صلاحیت کا ذکر ہے۔ حق تو یہ ہے کہ امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی حیاتِ مبارکہ اتنے معجز و متحیر صفات پر مشتمل ہے کہ جو ضخیم صفحات کے متقاضی ہے، جسے ہر صاحبِ عقل و فہم دیکھ کر برجستہ پکار اٹھتا ہے کہ:
وادیِ رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے
بہر حال میں اب اپنی گفتگو کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے بارگاہِ ربوبیت میں دستِ دعا گو ہوں کہ باری تعالیٰ ہمیں حیاتِ امامِ اہلِ سنت سے مستفید و مستفیض فرمائے، ان کے کمالات و معجز و متحیر اوصاف کا صدقہ و حصہ ہم غلمانِ رضا پر بھی فرمائے۔

آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

ایک تبصرہ شائع کریں