جیل کی سلاخوں میں قلمی خدمات (Literary Services)
قید و بند (Imprisonment) اور جیل کی سلاخیں (Prison Bars) بظاہر پابندی (Restriction) اور مشکلات (Hardships) کا زمانہ ہے، لیکن تاریخِ اسلام کے صفحات گواہ ہیں کہ ہمارے اکابر نے قید کی سختیوں کو بھی علم و قلم کی خدمت کا ذریعہ بنا دیا۔ ان کے پاس نہ آزادی تھی، نہ سہولتیں؛ مگر علم کی محبت اور امت کی خیرخواہی نے ان کے قلم کو جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج صدیوں بعد بھی ہم ان کی تصانیف سے فیض یاب (Benefited) ہو رہے ہیں۔
عظیم شخصیات اور ان کی قلمی خدمات
-
1۔ امام شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی رحمۃ اللہ علیہ:
دورانِ قید آپ نے فقہِ اسلامی کی عظیم کتاب ”المبسوط“ تصنیف فرمائی، جو تقریباً 30 جلدوں پر مشتمل ہے، نیز ”اصول السرخسی“ جیسی اہم کتاب بھی تحریر فرمائی۔ یہ اس بات کی روشن مثال (Clear Example) ہے کہ قید جسم کو محدود کرسکتی ہے، علم و فکر اور قلم کو نہیں۔ -
2۔ محمود بن اسرائیل المعروف ابن قاضی سماونہ رحمۃ اللہ علیہ:
دورانِ قید آپ نے ”التسهيل شرح لطائف الإشارات“ جیسی علمی کتاب تصنیف فرمائی۔ حالات کی سختی بھی آپ کے علمی ذوق (Scholarly Interest) اور تصنیفی جذبے (Passion for Writing) کے سامنے رکاوٹ نہ بن سکی۔ -
3۔ مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ:
جزیرۂ انڈمان میں قید کے دوران آپ نے ”علم الصیغہ“، ”تواریخِ حبیب الٰہ“ اور مشہور عربی کتاب ”تقویم البلدان“ کا ترجمہ جیسے علمی کام انجام دیے۔ قید کی سختیوں کے باوجود آپ نے اپنے وقت کو علم و قلم کی خدمت کے لیے استعمال فرمایا۔ -
4۔ علامہ فضل حق خیرآبادی رحمۃ اللہ علیہ:
جزیرۂ انڈمان کی قید میں بھی آپ نے قلمی خدمات (Literary Services) کا سلسلہ جاری رکھا اور ”الثورة الهندية“ اور ”قصائد فتنة الهند“ جیسی تصانیف یادگار چھوڑیں۔ یہ آپ کے علم، حوصلے (Courage) اور استقامت (Perseverance) کی عظیم مثال ہے۔ -
5۔ حضرت احمد بن علی بن بہاء اللہ المعروف ابن مامون رحمۃ اللہ علیہ:
دورانِ قید آپ نے ”شرح أخلاق النفیس“ اور ”أسرار الحروف“ جیسی علمی کتابیں تصنیف فرمائیں۔ قید خانہ آپ کے لیے بھی علم و قلم کی خدمت گاہ بن گیا۔
پیغام اور دعوتِ عمل
پیارے اسلامی بھائیو! ان بزرگوں کی زندگیاں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ لکھنے کے لیے حالات کا سازگار (Favorable) ہونا ضروری نہیں، بلکہ جذبہ، محنت اور مقصد ضروری ہے۔ آج ہمارے پاس کتابیں، کتب خانے، کمپیوٹر، موبائل اور تحقیق کے بے شمار ذرائع موجود ہیں؛ پھر بھی اگر ہم لکھنے کی طرف نہیں آتے تو ہمیں اپنے اکابر کی قربانیوں سے سبق لینا چاہیے۔
طالبِ علم جو کچھ پڑھتا ہے اسے نوٹ کرے، جو سمجھتا ہے اسے تحریر کرے اور جس مسئلے پر تحقیق کرتا ہے اسے محفوظ کرے۔ یہی مختصر نوٹس (Notes) آگے چل کر مضمون، رسالہ اور کتاب بن سکتے ہیں۔
طالبِ علم جو کچھ پڑھتا ہے اسے نوٹ کرے، جو سمجھتا ہے اسے تحریر کرے اور جس مسئلے پر تحقیق کرتا ہے اسے محفوظ کرے۔ یہی مختصر نوٹس (Notes) آگے چل کر مضمون، رسالہ اور کتاب بن سکتے ہیں۔
یاد رکھیے! علم سینے میں محفوظ رہے تو ایک فرد کا سرمایہ ہے، اور قلم کے ذریعے کتاب بن جائے تو پوری امت کا سرمایہ بن جاتا ہے۔
لہٰذا آج ہی قلم اٹھائیے، اپنے مطالعے کو تحریر سے جوڑیے اور اپنے علم کو آنے والی نسلوں کے لیے ایسا علمی ورثہ (Scholarly Heritage) بنائیے جس سے آپ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں۔ آپ کی تحریر آپ کے لیے صدقۂ جاریہ (Continuous Charity) ہوگی۔