رسولِ اللہ ﷺ نے اردو زبان دارالعلوم دیوبند سے سیکھی؟
استغفرُ اللہ العظیم!
دیوبندیوں کی بدنامِ زمانہ کتاب "براہینِ قاطعہ" میں لکھا ہے کہ ایک صالح شخص نے خواب میں دیکھا کہ حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اردو میں گفتگو فرما رہے ہیں۔ اس نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کو اردو زبان کہاں سے آگئی؟ آپ تو عربی ہیں!"
تو جواب میں فرمایا:
"جب سے علمائے دیوبند سے ہمارا معاملہ ہوا ہے، ہمیں یہ زبان آگئی ہے۔"
(حوالہ: براہینِ قاطعہ، ص 63، مطبوعہ دارالکتاب دیوبند)
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کو اردو زبان کہاں سے آگئی؟ آپ تو عربی ہیں!"
تو جواب میں فرمایا:
"جب سے علمائے دیوبند سے ہمارا معاملہ ہوا ہے، ہمیں یہ زبان آگئی ہے۔"
(حوالہ: براہینِ قاطعہ، ص 63، مطبوعہ دارالکتاب دیوبند)
استغفرُ اللہ العظیم!
قارئینِ کرام! ذرا اس عبارت پر غور فرمائیں۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تمام انبیاء کے سردار اور سلطان ہیں، مگر اس عبارت سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ گویا علمائے دیوبند نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اردو زبان سکھائی۔
حالاں کہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ ہستی ہیں جن کو سب کو کچھ اللہ رب العزت نے سکھایا۔ اللہ تعالیٰ سورۂ رحمٰن میں ارشاد فرماتا ہے:
اَلرَّحْمٰنُ ۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ؕ(۲)
ترجمہ: رحمٰن نے (اپنے محبوب کو) قرآن سکھایا۔
(سورۂ رحمٰن، آیات: 1-2)
(سورۂ رحمٰن، آیات: 1-2)
خلاصۂ کلام
قرآنِ کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معلم اور استاذ خود پروردگارِ عالم ہے، جب کہ مذکورہ عبارت سے یہ ثابت کیا گیا کہ اردو کے استاد علمائے دیوبند ہیں۔ معاذ اللہ رب العالمین!
اللہ پاک ایسے بدمذہبوں سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہماری نسلوں کو مسلکِ اعلیٰ حضرت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔