مسلمانوں میں گالی گلوچ کا بڑھتا ماحول | اسلام میں گالی دینے کی مذمت | قرآن و حدیث کی روشنی میں
مسلمانوں میں گالی گلوچ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر مشتمل ایک اصلاحی مضمون۔ از قلم: عمران رضا عطاری مدنی (المدینۃ العلمیہ، دعوتِ اسلامی، ہند)۔ اس مضمون میں
مسلمانوں میں گالی گلوچ کا بڑھتا ماحول | اسلام میں گالی دینے کی مذمت | قرآن و حدیث کی روشنی میں
✍️ قلمکار مولانا عمران رضا عطاری مدنی بنارسی 📝 موضوع مسلمانوں میں گالی گلوچ کا بڑھتا ماحول 🏢 ادارہ مجمع التصانیف
مسلمانوں میں گالی گلوچ کا بڑھتا ماحول
عشاء کی اذان ہو چکی تھی، جماعت میں ابھی تقریباً 9 منٹ باقی تھے۔ میں گھر سے نکل کر مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ گلی سے نکل کر جب روڈ پر پہنچا تو سامنے سے گزرتے ہوئے اچانک کانوں میں گالی گلوچ کی آوازیں آنے لگیں۔ سائیڈ پر دیکھا تو چند نوجوان موجود تھے، جو آپس میں نہایت سخت اور نازیبا الفاظ میں ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دے رہے تھے۔
منظر دیکھ کر دل انتہائی رنجیدہ ہو گیا اور افسوس ہوا کہ ہمارا معاشرہ کس قدر اخلاقی پستی کی طرف جا رہا ہے۔ یہ کیفیت دیکھ کر یہ احساس اور بھی گہرا ہو گیا کہ ہمیں اپنی زبانوں کی حفاظت اور اخلاق کی اصلاح کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔
محترم قارئین! دینِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اچھی بات کہنے اور بری باتوں سے بچنے کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے۔ مسلمان کی زبان جب حرکت کرے تو اس سے اچھے اور پاکیزہ جملے ہی ادا ہوں؛ کبھی ذکرِ الٰہی ہو، کبھی ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، کبھی نیکی کی دعوت ہو اور کبھی دل جوئی اور خیر خواہی کے ک…