مسلمانوں میں گالی گلوچ کا بڑھتا ماحول
عشاء کی اذان ہو چکی تھی، جماعت میں ابھی تقریباً 9 منٹ باقی تھے۔ میں گھر سے نکل کر مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ گلی سے نکل کر جب روڈ پر پہنچا تو سامنے سے گزرتے ہوئے اچانک کانوں میں گالی گلوچ کی آوازیں آنے لگیں۔ سائیڈ پر دیکھا تو چند نوجوان موجود تھے، جو آپس میں نہایت سخت اور نازیبا الفاظ میں ایک دوسرے کو ماں بہن کی گالیاں دے رہے تھے۔
منظر دیکھ کر دل انتہائی رنجیدہ ہو گیا اور افسوس ہوا کہ ہمارا معاشرہ کس قدر اخلاقی پستی کی طرف جا رہا ہے۔ یہ کیفیت دیکھ کر یہ احساس اور بھی گہرا ہو گیا کہ ہمیں اپنی زبانوں کی حفاظت اور اخلاق کی اصلاح کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔
محترم قارئین! دینِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اچھی بات کہنے اور بری باتوں سے بچنے کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے۔ مسلمان کی زبان جب حرکت کرے تو اس سے اچھے اور پاکیزہ جملے ہی ادا ہوں؛ کبھی ذکرِ الٰہی ہو، کبھی ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، کبھی نیکی کی دعوت ہو اور کبھی دل جوئی اور خیر خواہی کے کلمات۔ فضول، بے فائدہ اور غلط باتوں سے بچنا ہی ایک بہترین مسلمان کی علامت ہے۔
اسی طرح اسلام نے شرم و حیا کی بھی نہایت اعلیٰ تعلیم دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس قدر حیا اور پاکیزگی کی تعلیم دینِ اسلام نے دی ہے، اس کی مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی۔ اسلام ہر انسان کو باحیا اور باوقار دیکھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا جب کوئی شخص زبان سے بات کرے تو اس کے الفاظ میں بھی حیا، شائستگی اور پاکیزگی نظر آنی چاہیے۔ بے حیائی، گندی اور ناشائستہ باتوں سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے، کیوں کہ ایسی باتیں سخت معیوب اور گناہ کا سبب ہیں۔
حدیثِ مبارکہ میں بھی اس بات کی طرف واضح رہنمائی ملتی ہے کہ انسان اپنی زبان پر کبھی بے حیائی کی باتیں نہ لائے، چنانچہ حُضُور تاجدارِ مدینہ ﷺ کا فرمانِ باقرینہ ہے:
"اُس شخص پر جنَّت حرام ہے جو فُحش گوئی (یعنی بے حيائی کی بات) سے کام ليتا ہے۔"
(اَ لْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّ، ص 221، حديث: 3648)
منظر دیکھ کر دل انتہائی رنجیدہ ہو گیا اور افسوس ہوا کہ ہمارا معاشرہ کس قدر اخلاقی پستی کی طرف جا رہا ہے۔ یہ کیفیت دیکھ کر یہ احساس اور بھی گہرا ہو گیا کہ ہمیں اپنی زبانوں کی حفاظت اور اخلاق کی اصلاح کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔
محترم قارئین! دینِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ اچھی بات کہنے اور بری باتوں سے بچنے کی تعلیم و تلقین فرمائی ہے۔ مسلمان کی زبان جب حرکت کرے تو اس سے اچھے اور پاکیزہ جملے ہی ادا ہوں؛ کبھی ذکرِ الٰہی ہو، کبھی ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، کبھی نیکی کی دعوت ہو اور کبھی دل جوئی اور خیر خواہی کے کلمات۔ فضول، بے فائدہ اور غلط باتوں سے بچنا ہی ایک بہترین مسلمان کی علامت ہے۔
اسی طرح اسلام نے شرم و حیا کی بھی نہایت اعلیٰ تعلیم دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس قدر حیا اور پاکیزگی کی تعلیم دینِ اسلام نے دی ہے، اس کی مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی۔ اسلام ہر انسان کو باحیا اور باوقار دیکھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا جب کوئی شخص زبان سے بات کرے تو اس کے الفاظ میں بھی حیا، شائستگی اور پاکیزگی نظر آنی چاہیے۔ بے حیائی، گندی اور ناشائستہ باتوں سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے، کیوں کہ ایسی باتیں سخت معیوب اور گناہ کا سبب ہیں۔
حدیثِ مبارکہ میں بھی اس بات کی طرف واضح رہنمائی ملتی ہے کہ انسان اپنی زبان پر کبھی بے حیائی کی باتیں نہ لائے، چنانچہ حُضُور تاجدارِ مدینہ ﷺ کا فرمانِ باقرینہ ہے:
"اُس شخص پر جنَّت حرام ہے جو فُحش گوئی (یعنی بے حيائی کی بات) سے کام ليتا ہے۔"
(اَ لْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّ، ص 221، حديث: 3648)
گالی: خرابیوں کا مجموعہ
گالی دراصل کئی خرابیوں کا مجموعہ ہے، اس لیے اسلام میں اسے سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ گالی صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ان برائیوں کا مجموعہ ہے:
گالی گناہ، ظلم، بے حیائی، جھگڑا اور بد اخلاقی کا مرکب ہے۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور ہمیشہ اچھے الفاظ ہی استعمال کرے۔
افسوس کی بات ہے کہ آج ہمارے مسلم معاشرے میں گالی گلوچ کا رجحان بہت زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔ معمولی باتوں پر بھی لوگ برداشت اور تحمل چھوڑ کر زبان کو بے قابو کر لیتے ہیں۔ کبھی کسی چھوٹی سی غلطی یا لاپرواہی پر فوراً گالی دینا شروع کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کوئی سیٹھ ملازم پر سختی کا شکار ہوتا ہے، کبھی دکاندار اپنے ساتھ کام کرنے والوں پر سخت اور نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے، اور کبھی راستے میں ایک گاڑی والا دوسرے گاڑی والے کو بلا وجہ گالیاں دے دیتا ہے۔ یوں ہر طرف بدزبانی اور بداخلاقی کا ماحول بنتا جا رہا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف اخلاقی زوال کی علامت ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی سراسر خلاف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زبانوں کی حفاظت کریں، غصے پر قابو پانا سیکھیں اور ہر حال میں نرم گفتاری اور حسنِ اخلاق کو اپنائیں۔
- گناہ اور نافرمانی
- اخلاقی پستی
- دل آزاری اور ظلم
- جھگڑے اور فساد کا سبب
- جھوٹ اور بے حیائی کا پہلو
- ایمان کی کمزوری کی علامت
گالی گناہ، ظلم، بے حیائی، جھگڑا اور بد اخلاقی کا مرکب ہے۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور ہمیشہ اچھے الفاظ ہی استعمال کرے۔
افسوس کی بات ہے کہ آج ہمارے مسلم معاشرے میں گالی گلوچ کا رجحان بہت زیادہ بڑھتا جا رہا ہے۔ معمولی باتوں پر بھی لوگ برداشت اور تحمل چھوڑ کر زبان کو بے قابو کر لیتے ہیں۔ کبھی کسی چھوٹی سی غلطی یا لاپرواہی پر فوراً گالی دینا شروع کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کوئی سیٹھ ملازم پر سختی کا شکار ہوتا ہے، کبھی دکاندار اپنے ساتھ کام کرنے والوں پر سخت اور نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے، اور کبھی راستے میں ایک گاڑی والا دوسرے گاڑی والے کو بلا وجہ گالیاں دے دیتا ہے۔ یوں ہر طرف بدزبانی اور بداخلاقی کا ماحول بنتا جا رہا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف اخلاقی زوال کی علامت ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی سراسر خلاف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زبانوں کی حفاظت کریں، غصے پر قابو پانا سیکھیں اور ہر حال میں نرم گفتاری اور حسنِ اخلاق کو اپنائیں۔
گالی دینا حرام و ناجائز ہے
مسلمان کو گالی دینا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حدیث سنیں!
الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
ترجمہ: گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں اس کا وبال ابتداء کرنے والے پر ہے جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔
(صحیح مسلم، 8/20، حدیث: 2587)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی دونوں کی برائیوں کا وبال ابتداء کرنے والے پر ہوگا جب کہ دوسرا زیادتی نہ کرجاوے صرف اگلے کو جواب دے۔ خیال رہے کہ گالی کے بدلے میں گالی نہ دینا چاہیے کہ گالی فحش ہے جس سے زبان اپنی ہی خراب ہوتی ہے۔
(مرآۃ المناجیح، 6/653)
(صحیح مسلم، 8/20، حدیث: 2587)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی دونوں کی برائیوں کا وبال ابتداء کرنے والے پر ہوگا جب کہ دوسرا زیادتی نہ کرجاوے صرف اگلے کو جواب دے۔ خیال رہے کہ گالی کے بدلے میں گالی نہ دینا چاہیے کہ گالی فحش ہے جس سے زبان اپنی ہی خراب ہوتی ہے۔
(مرآۃ المناجیح، 6/653)
سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ
ترجمہ: مسلمان کو گالی دینا فسق (گناہ) ہے۔
(صحيح بخارى، 1/27، حديث: 48)
علامہ عبد الرؤف مناوی شافعی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: اس عبارت کا آسان اور عمدہ ترجمہ یہ ہے: کسی شخص کو برا بھلا کہنا اور اس کی عزت و آبرو کے بارے میں ایسی باتیں کرنا جو اسے عیب دار بنائیں، یہ گناہ (فسق) ہے، کیوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے خلاف ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی مسلمان کو گالی دینا حرام ہے۔ اور عام طور پر جو ناپسندیدہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے جھگڑے کے وقت کسی کو "اے گدھے!" یا "اے کتے!" کہنا، یہ سب غلط اور قبیح ہیں، کیونکہ یہ جھوٹ اور تکلیف دینے کا سبب ہیں۔
(فیض القدیر، 4/84)
(صحيح بخارى، 1/27، حديث: 48)
علامہ عبد الرؤف مناوی شافعی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: اس عبارت کا آسان اور عمدہ ترجمہ یہ ہے: کسی شخص کو برا بھلا کہنا اور اس کی عزت و آبرو کے بارے میں ایسی باتیں کرنا جو اسے عیب دار بنائیں، یہ گناہ (فسق) ہے، کیوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے خلاف ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی مسلمان کو گالی دینا حرام ہے۔ اور عام طور پر جو ناپسندیدہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے جھگڑے کے وقت کسی کو "اے گدھے!" یا "اے کتے!" کہنا، یہ سب غلط اور قبیح ہیں، کیونکہ یہ جھوٹ اور تکلیف دینے کا سبب ہیں۔
(فیض القدیر، 4/84)
خارش کا عذاب
امام محمد بن محمد غزالی شافعی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں: حضرت سیِّدُنا مجاہد علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں: جہنمیوں پر ایک قسم کی خارش مُسَلَّط کر دی جائے گی، جس کی وجہ سے وہ اپنے بدنوں کو کُھجائیں گے یہاں تک کہ ان میں سے کسی کی ہڈی ظاہر ہو جائے گی تو ندا کی جائے گی: اے فلاں! کیا تجھے اس کی وجہ سے تکلیف ہو رہی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں! تو ندا دینے والا کہے گا: یہ اس کا بدلہ ہے جو تم مسلمانوں کو تکلیف دیتے تھے۔
(احیاء العلوم، 2/706)
معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بعض لوگوں کا انداز اس قدر بگڑ چکا ہوتا ہے کہ گفتگو کی ابتدا ہی گالی سے کرتے ہیں۔ کسی سے حال احوال پوچھنا ہو تو بھی آغاز سخت اور نازیبا الفاظ سے ہوتا ہے، اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو کسی کو بلانے کے لیے بھی گالی کو ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
قارئینِ کرام! یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ مشاہدہ اور سنی ہوئی باتیں ہیں۔ ایک مرتبہ میں ایک راستے سے گزر رہا تھا کہ ایک شخص کو دیکھا جو اپنے دوست کو عام انداز میں پکار رہا تھا۔ وہ نہ غصے میں تھا اور نہ ہی کسی جھگڑے کی کیفیت تھی، مگر اس کا انداز انتہائی افسوسناک تھا۔ اس نے بلند آواز سے پہلے ایک نازیبا گالی دی، پھر اس کے بعد اس کا نام لے کر اسے بلایا۔ یہ منظر دیکھ کر دل بہت رنجیدہ ہوا اور بے اختیار "الامان والحفیظ" زبان پر آ گیا۔
(احیاء العلوم، 2/706)
معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ بعض لوگوں کا انداز اس قدر بگڑ چکا ہوتا ہے کہ گفتگو کی ابتدا ہی گالی سے کرتے ہیں۔ کسی سے حال احوال پوچھنا ہو تو بھی آغاز سخت اور نازیبا الفاظ سے ہوتا ہے، اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو کسی کو بلانے کے لیے بھی گالی کو ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
قارئینِ کرام! یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ مشاہدہ اور سنی ہوئی باتیں ہیں۔ ایک مرتبہ میں ایک راستے سے گزر رہا تھا کہ ایک شخص کو دیکھا جو اپنے دوست کو عام انداز میں پکار رہا تھا۔ وہ نہ غصے میں تھا اور نہ ہی کسی جھگڑے کی کیفیت تھی، مگر اس کا انداز انتہائی افسوسناک تھا۔ اس نے بلند آواز سے پہلے ایک نازیبا گالی دی، پھر اس کے بعد اس کا نام لے کر اسے بلایا۔ یہ منظر دیکھ کر دل بہت رنجیدہ ہوا اور بے اختیار "الامان والحفیظ" زبان پر آ گیا۔
مومن کیسا نہیں ہوتا؟
ہم سب کا دعویٰ ہے کہ ہم سب مومن ہیں۔ مومن کی حرکات و سکنات کیسی ہوتی ہیں اور کون سے کام ہیں جو ایک مومن نہیں کرتا، مصطفیٰ کریم ﷺ کی زبانی ملاحظہ فرمائیں! حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور نبی اکرم، نُوْرِ مُجَسَّم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَابِاللَّعَّانِ وَلَابِالْفَاحِشِ الْبَذِیْءِ
ترجمہ: مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، اور بے حیائی کی باتیں کرنے والا بدکلام نہیں ہوتا۔
(سنن ترمذى، 3/520، حديث: 1977)
اس حديث كی شرح پر اپنی بات مکمل کرتا ہوں۔ "مرآۃ المناجیح" میں ہے:
"یعنی یہ عیوب سچے مسلمان میں نہیں ہوتے۔ اپنے عیب نہ دیکھنا دوسرے مسلمانوں کے عیب ڈھونڈنا، ہر ایک کو لعن طعن کرنا اسلامی شان کے خلاف ہے، یہ حدیث بہت جامع ہے۔ بعض لوگ جانوروں کو، ہوا کو گالیاں دیتے ہیں، بعض کے ہاں حضرات صحابہ کو گالیاں دینا عبادت ہے (نعوذ باللہ)، بعض لوگ گالی پہلے دیتے ہیں بات پیچھے کرتے ہیں، سب لوگ اس سے عبرت پکڑیں۔"
(مرآۃ المناجیح، 6/680)
(سنن ترمذى، 3/520، حديث: 1977)
اس حديث كی شرح پر اپنی بات مکمل کرتا ہوں۔ "مرآۃ المناجیح" میں ہے:
"یعنی یہ عیوب سچے مسلمان میں نہیں ہوتے۔ اپنے عیب نہ دیکھنا دوسرے مسلمانوں کے عیب ڈھونڈنا، ہر ایک کو لعن طعن کرنا اسلامی شان کے خلاف ہے، یہ حدیث بہت جامع ہے۔ بعض لوگ جانوروں کو، ہوا کو گالیاں دیتے ہیں، بعض کے ہاں حضرات صحابہ کو گالیاں دینا عبادت ہے (نعوذ باللہ)، بعض لوگ گالی پہلے دیتے ہیں بات پیچھے کرتے ہیں، سب لوگ اس سے عبرت پکڑیں۔"
(مرآۃ المناجیح، 6/680)