مولانا مبارک حسین مصباحی رحمۃ اللہ علیہ: ایک مختصر تعارف
دنیا میں بے شمار لوگ آتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے پیچھے یادوں، خدمات اور کارناموں کا ایک روشن باب چھوڑ جاتی ہیں۔ ان کے وصال کے بعد ہزاروں دل غمگین اور بے قرار ہو جاتے ہیں، لیکن ان کی علمی، دینی اور قلمی خدمات انہیں لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں۔
ایسے ہی نادرِ روزگار افراد میں ایک نمایاں نام ماہرِ قلم، فخرِ صحافت حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کا ہے۔ آپ نے اپنی تحریروں، علمی خدمات اور صحافتی کاوشوں کے ذریعے ایک پورے عہد کو متاثر کیا۔ آپ کا قلم علم و فکر کا ایسا چراغ تھا جس کی روشنی سے اہلِ علم و دانش آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ ایسی شخصیات زمانے سے رخصت تو ہو جاتی ہیں، مگر ان کے نقوش دلوں اور تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
آئیے حضرت کا مختصر تعارف جانتے ہیں:
ایسے ہی نادرِ روزگار افراد میں ایک نمایاں نام ماہرِ قلم، فخرِ صحافت حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کا ہے۔ آپ نے اپنی تحریروں، علمی خدمات اور صحافتی کاوشوں کے ذریعے ایک پورے عہد کو متاثر کیا۔ آپ کا قلم علم و فکر کا ایسا چراغ تھا جس کی روشنی سے اہلِ علم و دانش آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ ایسی شخصیات زمانے سے رخصت تو ہو جاتی ہیں، مگر ان کے نقوش دلوں اور تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
آئیے حضرت کا مختصر تعارف جانتے ہیں:
نام، تاریخِ ولادت اور تعلیم و تربیت
نام اور ولادت: آپ کا نام مبارک حسین ہے۔ آپ کی ولادت 7 رجب المرجب 1387ھ بمطابق 10 اکتوبر 1967ء کو ضلع رام پور میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت: مولانا مبارک حسین مصباحی نے تعلیم کا سلسلہ اپنی والدہ ماجدہ سے شروع کیا۔ کچھ دنیوی کلاسز پڑھنے کے بعد مدرسہ اسلامیہ راجہ کاسہنسپور بلاوی میں حفظِ قرآن کا آغاز کیا۔ 1398ھ میں مدرسہ اہلِ سنت اجمل العلوم سنبھل میں حفظ مکمل کیا۔ پھر مزید دینی تعلیم کے لیے جامعہ فاروقیہ عزیز العلوم بھوج پور، مراد آباد کا رُخ کیا اور یہاں درسِ نظامی کی ابتدا کی۔
اس کے بعد چند سال مدرسہ حامدیہ اشرفیہ میں تعلیم حاصل کی، اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور (اعظم گڑھ) میں درجہ رابعہ میں داخلہ لیا اور بڑے شوق و ذوق کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہے۔ 1989ء میں سندِ فراغت اور دستارِ بندی سے نوازے گئے۔ بعدہٗ آپ نے جامعہ ہٰذا میں عربی ادب میں تخصص کیا۔
تعلیم و تربیت: مولانا مبارک حسین مصباحی نے تعلیم کا سلسلہ اپنی والدہ ماجدہ سے شروع کیا۔ کچھ دنیوی کلاسز پڑھنے کے بعد مدرسہ اسلامیہ راجہ کاسہنسپور بلاوی میں حفظِ قرآن کا آغاز کیا۔ 1398ھ میں مدرسہ اہلِ سنت اجمل العلوم سنبھل میں حفظ مکمل کیا۔ پھر مزید دینی تعلیم کے لیے جامعہ فاروقیہ عزیز العلوم بھوج پور، مراد آباد کا رُخ کیا اور یہاں درسِ نظامی کی ابتدا کی۔
اس کے بعد چند سال مدرسہ حامدیہ اشرفیہ میں تعلیم حاصل کی، اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور (اعظم گڑھ) میں درجہ رابعہ میں داخلہ لیا اور بڑے شوق و ذوق کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہے۔ 1989ء میں سندِ فراغت اور دستارِ بندی سے نوازے گئے۔ بعدہٗ آپ نے جامعہ ہٰذا میں عربی ادب میں تخصص کیا۔
اساتذۂ کرام
آپ کے مایہ ناز اساتذہ میں درج ذیل جلیل القدر ہستیاں شامل ہیں:
- محدثِ کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری
- محدثِ جلیل علامہ عبد الشکور عزیزی مصباحی
- صدر العلماء، خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی اعظمی
- نصیرِ ملت علامہ محمد نصیر الدین عزیزی
- سراج الفقہاء علامہ مفتی نظام الدین رضوی برکاتی
- حضرت مولانا مفتی عبد الحق رضوی مصباحی وغیرہ
درس و تدریس
مولانا مبارک حسین مصباحی نے فراغتِ علمی کے بعد علمِ دین کی نشر و اشاعت کے لیے درس و تدریس کا میدان اختیار فرمایا اور اس کے لیے بڑے پیمانے پر خدمت آپ کے مقدر میں تھی۔ آپ کو الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں تدریس کا موقع ملا اور تقریباً 30 سال تک وہاں طالبانِ علومِ نبویہ کو علمی فیضان سے سیراب کرتے رہے۔ آج ملک و بیرونِ ملک میں ہزاروں ہزار آپ کے تلامذہ امت کو علمی و روحانی فیوض و کمالات سے فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
تصنیفی خدمات
ربِ کریم نے مولانا مبارک حسین مصباحی کو قلم کی جولانی اور تحریری مہارت سے خوب نوازا تھا، یہی وجہ ہے علماء آپ کو فخرِ صحافت، ماہرِ قلم اور آبروئے قلم وغیرہ کے القاب سے یاد کرتے ہیں۔ آپ کی تحریر شائستہ، مرتب، خوبصورت اور علمی نکات پر مشتمل ہوتی ہے۔ الفاظ کا جامہ، تعبیرات کا حسن اور جملوں میں وہ بہترین ربط ہوتا ہے کہ قاری پڑھ کر داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ آپ کے مضامین کی چاروں طرف دھوم دھام ہے۔ جب بھی آپ کا نام لبوں پر آتا ہے تو ذہن میں قلم، مضمون، تحریر، کتب و رسائل کا تصور آجاتا ہے۔
چند مشہور کتب و رسائل:
چند مشہور کتب و رسائل:
- خلیج کا بحران
- عشقِ رضا کی سرفرازیاں
- پیامِ سیرت
- اسلام اور ہندوستانی مذاہب کا تصورِ روحانیت
- بر صغیر میں افتراق بین المسلمین کے اسباب
- جہانِ رئیس القلم
- مدارسِ اسلامیہ تاریخ و حقائق کے اجالے میں
- الجامعۃ الاشرفیہ: ایک مختصر تعارف
- امام احمد رضا اور مسلکِ جمہور
- کیا خدا جھوٹ بول سکتا ہے...؟
- دو عظیم شخصیتیں
- آفتابِ قدس نکلا نور برساتا ہوا
- حافظِ ملت اور جمشید پور
- شہرِ خموشاں کے چراغ وغیرہ
ماہنامہ اشرفیہ کی ادارت
مولانا مبارک حسین مصباحی کی زندگی کے اس پہلو کا ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ 1990ء میں آپ کا جامعہ اشرفیہ میں تقرر ہوا۔ اور اسی ذی الحجہ کے مہینے میں آپ کو جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے دینی اور علمی ترجمان 'ماہنامہ اشرفیہ' کی ادارت کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس ذمہ داری کے ملنے کے بعد آپ نے بڑی محنت، فکری بلندی اور عہد شناسی کا ثبوت فراہم کیا اور بڑے عمدہ انداز میں اپنا کام کرتے رہے۔
آپ کے دورِ ادارت میں شائع ہونے والے چند خاص نمبرات:
آپ کے دورِ ادارت میں شائع ہونے والے چند خاص نمبرات:
- پیغمبرِ اعظم نمبر
- انوارِ حافظِ ملت نمبر
- صدر الشریعہ نمبر
- سلطان الہند خواجہ غریب نواز نمبر
- جشنِ شارحِ بخاری نمبر
- فقیہ اعظم ہند نمبر
- سیدین نمبر وغیرہ
وصالِ پُر ملال
تحریر و قلم کا یہ عظیم منارہ بروز جمعرات، 17 ذی الحجۃ الحرام 1447ھ بمطابق 4 جون 2026ء کی رات تقریباً 11 بجے زمین بوس ہو گیا۔ نمازِ جنازہ 18 ذی الحجہ، یومِ شہادتِ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے موقع پر بروز جمعہ بعد نمازِ جمعہ اشرفیہ گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ سربراہِ اعلیٰ علامہ عبد الحفیظ عزیزی صاحب نے پڑھائی اور آپ کو اشرفیہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
(ماخذ: فروغِ رضویات میں فرزندانِ اشرفیہ کی خدمات، ص: 405)
(ماخذ: فروغِ رضویات میں فرزندانِ اشرفیہ کی خدمات، ص: 405)
اللہ تعالیٰ حضرت کی بال بال مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔