نجم اور ناؤ: صحابہ و اہل بیت کا مقام | احادیث کی روشنی میں۔

جانیے صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ۔ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں نجم اور ناؤ کی خوبصورت مثال اور اع
نجم اور ناؤ: صحابہ و اہل بیت کا مقام | احادیث کی روشنی میں۔ جانیے صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا عقیدہ۔ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں نجم اور ناؤ کی خوبصورت مثال اور اعلیٰ حضرت کا کلام پڑھیے۔
✍️ قلمکار
مولانا عمران رضا عطاری مدنی بنارسی
📝 موضوع
نجم اور ناؤ: صحابہ و اہل بیت
🏢 ادارہ
المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی انڈیا

نجم اور ناؤ؛ صحابہ و اہل بیت

بعض شرپسند عناصر امتِ مسلمہ میں اختلاف پیدا کرنے کے لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کو الگ الگ گروہوں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ہی اسلام کے وہ مقدس ستون ہیں جنہیں بارگاہِ نبوی ﷺ سے عزت، شرف اور عظمت عطا ہوئی۔

صحابۂ کرام ہوں یا اہلِ بیتِ اطہار، سب کی بنیاد اور پہچان نسبتِ رسول ﷺ ہے۔ اگر یہ نسبت ہٹا دی جائے تو نہ کوئی صحابی اپنی صحابیت کے مقام پر باقی رہتا ہے اور نہ اہلِ بیت اپنی فضیلت کے اس مقام پر جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔

اسلامی عقیدہ یہی ہے کہ دونوں عظیم طبقے قابلِ احترام، واجبُ التعظیم اور اہلِ محبت ہیں۔ خود نبیِ کریم ﷺ نے دونوں کی محبت، ادب اور اتباع کی تعلیم دی ہے اور اسی کو نجات و فلاح کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

لہٰذا اہلِ سنت والجماعت کا متوازن اور درست عقیدہ یہی ہے کہ ہم صحابۂ کرام سے بھی محبت رکھتے ہیں اور اہلِ بیتِ اطہار سے بھی عقیدت رکھتے ہیں۔ یہ دونوں محبتیں ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایمان کی تکمیل کا حصہ ہیں۔

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃُ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:
اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

معنیٰ و مفہوم

ہم اہلِ سنت و جماعت جو صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار دونوں کو ماننے والے، ان کا احترام کرنے والے، ان کی محبت کو اپنے ایمان کی جان سمجھنے والے ہیں، ہماری نجاتِ اُخروی اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ دنیا کے بھنور سے کنارے پر لگا لو، کیوں کہ حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا: "میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، جس کی پیروی کرو گے، ہدایت (و جنت) پا جاؤ گے"۔ اور اہل بیت کے بارے فرمایا: "میرے اہل بیت کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے، جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں بیٹھ گیا، طوفان سے نجات پا گیا، اسی طرح جس نے اہل بیت کا دامن پکڑ لیا، نجات پا گیا"۔

کشتی کو ستاروں کی مدد سے اس دور میں چلایا جاتا تھا، اس لیے آپ نے یہ مثال ارشاد فرمائی، تا کہ ہر بندہ سمجھ جائے۔ الحمد للہ! کشتی بھی ہمارے پاس اور ستارے بھی ہمارے پاس، تو نجات پکی ہونے میں کیا کسر باقی رہ گئی۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں

امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری رحمۃُ اللہ علیہ نے صحابہ و اہل بیت کے متعلق احادیث کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے، اب ذرا تفصیل کے ساتھ احادیث ملاحظہ فرمائیں!

❶ پہلی حدیث: شاہِ خیر الانام صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:

سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اخْتِلَافِ أَصْحَابِي مِنْ بَعْدِي فَأَوْحَى إِلَيَّ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ أَصْحَابَكَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ بَعْضُهَا أَقْوَى مِنْ بَعْضٍ، وَلِكُلٍّ نُورٌ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِمَّا هُمْ عَلَيْهِ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ فَهُوَ عِنْدِي عَلَى هُدًى
ترجمہ: میں نے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق سوال کیا، اللہ پاک نے میری طرف وحی فرمائی: اے محمد! آپ کے صحابہ میرے نزدیک اسی طرح ہیں، جیسے کہ آسمان میں ستارے، کہ بعض بعض سے (روشنی دینے میں) قوی تر ہیں، ہر صحابی کا ایک نور ہے، جو کسی کو بھی لے گا، وہ جس بھی اختلاف کی حالت میں ہوں، وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہی ہوگا۔
[جامع الأصول، 8/556، حديث: 6369]

❷ دوسری حدیث: خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، شاہِ خیر الانام صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:

أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ
ترجمہ: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، جس کی پیروی کرو گے، ہدایت پا جاؤ گے۔
[جامع بيان العلم، 2/898، حديث: 1684]

عاشقِ صحابہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
سبحان الله! کیسی نفیس تشبیہ ہے، حضور صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے اپنے صحابہ کو ہدایت کے تارے فرمایا اور دوسری حدیث میں اپنے اہلِ بیت کو کشتیِ نوح فرمایا۔ سمندر کا مسافر کشتی کا بھی حاجت مند ہوتا ہے اور تاروں کی رہبری کا بھی، کہ جہاز ستاروں کی رہنمائی پر ہی سمندر میں چلتے ہیں، اسی طرح امتِ مسلمہ اپنی ایمانی زندگی میں اہلِ بیت اطہار کے بھی محتاج ہیں، اور صحابۂ کبار کی بھی حاجت مند۔ امت کے لیے صحابہ کی اقتداء میں ہی اہتداء یعنی ہدایت ہے۔
[مرآۃ المناجیح، 8/262]

❸ تیسری حدیث: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، شہنشاہِ خیر الانام صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:

مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ
ترجمہ: میرے اہل بیت کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے، جو اس کشتی میں بیٹھ گیا وہ نجات پا گیا، اور جو پیچھے رہا وہ ڈوب گیا۔
[مسند البزار، 11/329، حديث: 5142]

محبِّ اہل بیت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
یعنی جیسے طوفانِ نوح کے وقت ذریعۂ نجات صرف کشتیِ نوح علیہ السلام تھی، ایسے ہی تاقیامت ذریعۂ نجات صرف محبتِ اہل بیت اور ان کی اطاعت و اتباع ہے، بغیر اطاعت و اتباع دعویٰ محبت بے کار ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ میرے صحابہ تارے ہیں تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے، گویا دنیا سمندر ہے اس سفر میں جہاز کی سواری اور تاروں کی رہبری دونوں کی ضرورت ہے۔ الحمد ﷲ! اہلِ سنت کا بیڑا پار ہے کہ یہ اہلِ بیت اور صحابہ دونوں کے قدم سے وابستہ ہیں۔ خوارج کے پاس کشتی نہیں، روافض کی نظر ان تاروں پر نہیں، یہ دونوں اس سمندر سے پار نہیں لگ سکتے۔
[مرآۃ المناجیح، 8/424]

خلاصۂ کلام

قارئینِ محترم! اب ذہن میں اس بات کو بٹھا لیں کہ ہمیں صحابہ و اہل بیت ان دونوں سے محبت بھی رکھنی ہے اور ان کی اتباع بھی کرنی ہے اور جو بد بخت ان دونوں کو جدا بتائے خود کو اس سے دور اور جدا رکھنا ہے۔
کیوں نہ ہو رُتبہ بڑا اصحاب و اہل بیت کا
ہے خدائے مصطفی، اصحاب و اہل بیت کا

ایک تبصرہ شائع کریں