خوشخبری! مدنی دنیا کی شاندار ایپ لانچ ہو چکی ہے۔ ابھی ڈاؤنلوڈ کریں!

بیٹیوں کی پرورش: جنت کا انعام | اسلام میں بیٹیوں کی فضیلت اور حقوق

اسلام نے بیٹیوں کو رحمت قرار دیا ہے۔ جانیں بیٹیوں کی پرورش، تربیت، کفالت اور حسنِ سلوک پر جنت کی بشارتیں، احادیثِ مبارکہ اور والدین کی اہم ذمہ داریاں۔
بیٹیوں کی پرورش: جنت کا انعام | اسلام میں بیٹیوں کی فضیلت اور حقوق۔ اسلام نے بیٹیوں کو رحمت قرار دیا ہے۔ جانیں بیٹیوں کی پرورش، تربیت، کفالت اور حسنِ سلوک پر جنت کی بشارتیں، احادیثِ مبارکہ اور والدین کی اہم ذمہ داریاں۔
✍️ قلمکار
مولانا عمران رضا عطاری مدنی بنارسی
📝 موضوع
بیٹیوں کی پرورش: جنت کا انعام
🏢 ادارہ
المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی انڈیا

بیٹیوں کی پرورش: جنت کا انعام

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ بیٹیوں اور بہنوں کو بوجھ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ تصور سراسر جہالت اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ کتنے ہی افراد ایسے ہیں جو بیٹیوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے، انہیں طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے اور مختلف طریقوں سے ان کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ بعض لوگ بیٹی کی پیدائش پر خوش ہونے کے بجائے غم اور مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔

حالانکہ دینِ اسلام نے بیٹیوں کی پرورش، تربیت اور حسنِ سلوک پر عظیم بشارتیں دی ہیں اور ان کی کفالت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس زمانۂ جاہلیت میں لوگ بیٹیوں کی پیدائش پر سخت غصہ کرتے، یہاں تک کہ بعض درندہ صفت لوگ انہیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔ مگر اسلام نے آ کر اس ظالمانہ اور وحشیانہ رسم کا مکمل خاتمہ کر دیا اور عورت و بیٹی کو عزت، مقام اور تحفظ عطا فرمایا۔

کتنا پیارا ہے ہمارا دینِ اسلام اور اس کی عظیم و حسین تعلیمات! اس دین نے عورتوں کو وہ مقام اور حقوق عطا کیے جن سے وہ زمانۂ جہالت میں محروم تھیں۔ اسلام نے نہ صرف عورت کو عزت و وقار بخشا بلکہ اسے زندہ درگور ہونے جیسی ظالمانہ رسم و رواج سے بھی نجات دلائی۔ مزید یہ کہ اسلام نے بیٹیوں کی پرورش، ان کی بہترین تربیت اور ان کے ساتھ محبت و شفقت پر عظیم بشارتیں عطا فرمائیں، یہاں تک کہ ان کی صحیح دیکھ بھال کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے ماں، بہن اور بیٹی کو عزت، تحفظ اور رحمت کا عملی پیغام دیا۔

احادیثِ مبارکہ اور عظیم بشارتیں

آئیے چند احادیث نظر افروز فرمائیں!

مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ، وَأَطْعَمَهُنَّ، وَسَقَاهُنَّ، وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَتِهِ كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے، انہیں کھلائے، پلائے اور اپنی حیثیت کے مطابق ان کے لباس کا انتظام کرے تو وہ بیٹیاں اس کے لیے قیامت کے دن جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔
(سنن ابن ماجہ، 2/1210، حدیث: 3669)

مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ، اتَّقَى اللَّهَ وَأَقَامَ عَلَيْهِنَّ، كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا، وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْأَرْبَع.
ترجمہ: جس کے تین بیٹیاں ہوں یا تین بہنیں ہوں اور وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہوگا، اور آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے قربت کی طرف اشارہ فرمایا۔
(مسند احمد، 20/48، حدیث: 12593)

مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ يُؤْوِيهِنَّ، وَيَرْحَمُهُنَّ، وَيَكْفُلُهُنَّ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ.
ترجمہ: نبیِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے تین بیٹیاں ہوں جن کی وہ کفالت کرے، ان پر رحم کرے اور ان کی ضروریات پوری کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! اگر دو بیٹیاں ہوں؟ فرمایا: دو ہوں تب بھی یہی فضیلت ہے۔
راوی کہتے ہیں: بعض لوگوں نے سوچا کہ اگر وہ ایک کے بارے میں پوچھتے تو شاید آپ ﷺ ایک کے بارے میں بھی یہی فضیلت بیان فرماتے۔
(مسند احمد، 22/150، حدیث: 14247)

مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ، فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ.
ترجمہ: جس شخص کو بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا جائے اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جاتی ہیں۔
(صحیح ابن حبان، 1/443، حدیث: 614)

قارئینِ کرام! اس موضوع پر کتبِ احادیث میں بکثرت احادیث مروی ہیں، ہم نے بس چار احادیث ذکر کی ہیں، تفصیل کے لیے کتبِ حدیث کی طرف مراجعت کریں!

والدین پر بیٹیوں کے حقوق

امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ نے بچیوں کے حقوق جو والدین پر لازم ہیں، ان کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے:

۱۔ اس کے پیدا ہونے پر ناخوشی نہ کرے بلکہ نعمتِ الٰہیہ جانے۔
۲۔ بیٹیوں سے زیادہ دلجوئی و خاطر داری رکھے کہ ان کا دل بہت چھوٹا ہوتا ہے۔
۳۔ جو چیز دے، پہلے انہیں دے کر (پھر) بیٹوں کو دے۔
(اولاد کے حقوق، ص: 27)

خلاصۂ کلام اور نیت

آئیے! نیت اور پکا عزم کرتے ہیں کہ اپنی بہنوں اور بچیوں کے ساتھ پیار و محبت والا سلوک کریں گے، اور ان شاء اللہ الکریم جنت کے مستحق بنیں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

Cookie Consent
We serve cookies on this site to analyze traffic, remember your preferences, and optimize your experience.
NextGen Digital واٹس ایپ چیٹ پر آپ کو خوش آمدید
السلام علیکم ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہئں؟?
Type here...