اہلِ بیت کی فضیلت: قرآن، حدیث اور علمائے کرام کی روشنی میں

جانیے اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی فضیلت، قرآنی آیات، احادیثِ نبوی اور بزرگانِ دین کے اقوال کی روشنی میں۔ صحابہ اور اہلِ بیت کی محبت پر مبنی تفصیل
اہلِ بیت کی فضیلت: قرآن، حدیث اور علمائے کرام کی روشنی میں۔ جانیے اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی فضیلت، قرآنی آیات، احادیثِ نبوی اور بزرگانِ دین کے اقوال کی روشنی میں۔ صحابہ اور اہلِ بیت کی محبت پر مبنی تفصیلی مضمون پڑھیے۔
✍️ قلمکار
ساجد عطاری مدنی
📝 موضوع
اہلِ بیت کی فضیلت
🏢 ادارہ
جامعۃ المدینۃ انڈیا

اہلِ بیت کی فضیلت

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں بعض ہستیوں کو ایسی عظمت، رفعت اور شرف عطا فرمایا ہے کہ ان کا ذکر ایمان و محبت کو تازہ کر دیتا ہے۔ انہی مقدس اور برگزیدہ ہستیوں میں اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کا مقام نہایت بلند و بالا ہے، جن کی روشنی صدیوں سے قلوبِ مؤمنین کو منور کرتی چلی آ رہی ہے۔

اہلِ بیت وہ پاکیزہ نفوس ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی، حضرت محمد ﷺ، کے ساتھ خصوصی نسبت عطا فرمائی، اور جن کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان کے ادب و احترام کو دینی ذمہ داری قرار دیا۔ اہلِ بیتِ اطہار کی محبت محض ایک جذباتی وابستگی کا نام نہیں، جس طرح فرقۂ تفضیلی ڈھونگ مچاتے ہیں، بلکہ اہلِ بیتِ اطہار کی محبت ایمان کی خوشبو، وفاداریِ رسول ﷺ کا تقاضا، اور قربِ الٰہی کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔

قرآنِ مجید نے ان کی پاکیزگی، عظمت اور فضیلت کی طرف اشارہ فرمایا ہے، جبکہ رسولِ اکرم ﷺ نے متعدد مواقع پر امت کو ان کے ادب، احترام اور محبت کی تلقین فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اہلِ بیت کا تذکرہ عقیدت و محبت کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے، اور ان کی سیرت و کردار سے رہنمائی حاصل کی جاتی رہی ہے۔

اہلِ بیتِ اطہار نے نہ صرف دینِ اسلام کی حفاظت اور اشاعت میں گراں قدر خدمات انجام دیں، بلکہ اپنے کردار اور عمل سے حق، صداقت، عدل اور استقامت کا ایسا عملی نمونہ پیش کیا جس کی مثال تاریخِ عالم میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کی حیاتِ مبارکہ کا ہر گوشہ علم و عرفان کا خزینہ، اور اخلاق و کردار کا روشن مینار ہے۔

زیرِ نظر مضمون میں سب سے پہلے "اہلِ بیت" کے مفہوم اور اِن مبارک ہستیوں کے تعارف پر گفتگو کی جائے گی، نیز یہ واضح کیا جائے گا کہ اہلِ بیتِ اطہار میں کن نفوسِ قدسیہ کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے بعد قرآنِ مجید کی آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں اہلِ بیتِ اطہار کی عظمت و فضیلت، اِن کے بلند مقام و مرتبہ اور اُمتِ مسلمہ میں اِن کی اہمیت کو بیان کیا جائے گا۔ مزید برآں، صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اقوال و ارشادات کی روشنی میں اہلِ بیتِ اطہار سے اِن کی محبت، عقیدت اور احترام کا تذکرہ بھی پیش کیا جائے گا، تاکہ اِن مقدس ہستیوں کے مقام و منزلت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور اِن کی پاکیزہ سیرت و کردار سے اپنی عملی زندگی کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

اب آئیے ہم سب سے پہلے اہلِ بیت کا معنی سمجھتے ہیں۔

اہلِ بیت کون ہیں؟

بیت عربی زبان میں گھر کو کہتے ہیں۔ گھر تین قسم کا ہوتا ہے:
(1) بیتِ نسب
(2) بیتِ مسکن یا بیتِ سکنٰی
(3) بیتِ ولادت

اسی اعتبار سے گھر والوں کے بھی تین طبقے ہیں:
(1) اہلِ بیتِ نسب: اس سے مراد انسان کے وہ رشتہ دار ہیں جو نسب میں آتے ہیں یعنی وہ رشتہ دار جو باپ اور دادا کی وجہ سے ہوتے ہیں مثلاً چچا، تایا، پھوپھی وغیرہ نسب کے رشتے ہیں۔
(2) اہلِ بیتِ سکنٰی: اس سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جو گھر کے اندر آباد ہوتے ہیں یعنی شوہر کی بیوی۔
(3) اہلِ بیتِ ولادت: اس سے مراد وہ نسل ہے جو گھر میں پیدا ہوئی ہے۔ اس میں بیٹے، بیٹیاں اور آگے اِن کی اولاد شامل ہے۔

جب مطلق اہلِ بیت کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد مذکورہ تینوں طبقات ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ اہلِ ایمان ہوں۔ اِن میں سے کسی ایک طبقے کو خارج کر دینے سے اہلِ بیت کا مفہوم پورا نہیں ہوتا۔

اہلِ بیت کی شان بزبانِ قرآن

اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا
ترجمہ: اللہ تو یہی چاہتا ہے، اے نبی کے گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے۔
(سورۃ الاحزاب: 33)

یعنی اے میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے گھر والو! اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ گناہوں کی نجاست سے تم آلودہ نہ ہو۔ (مدارک التنزیل، سورۃ الاحزاب، تحت الآیۃ: 33)

اس آیتِ کریمہ میں ’’اہلِ بیت‘‘ سے سب سے پہلے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ازواجِ مطہرات مراد ہیں، کیونکہ آگے پیچھے سارا کلام ہی انہی کے متعلق ہورہا ہے۔ بقیہ نفوسِ قدسیہ یعنی خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا، حضرت علی المرتضیٰ اور حسنین کریمین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا اہلِ بیت میں شامل ہونا بھی دلائل سے ثابت ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ
ترجمہ: تم فرماؤ: میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا مگر قرابت کی محبت۔ اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھادیں گے، بیشک اللہ بخشنے والا، قدر فرمانے والا ہے۔
(سورۃ الشورٰی: 23)

سعید بن جُبَیْر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کیا:
﴿يَا رَسُولَ اللّٰهِ، مَنْ قُرْبَاكَ هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ وَجَبَتْ مَوَدَّتُهُمْ؟﴾
یعنی: "یا رسول اللہ ﷺ! آپ کے قرابت والے وہ کون ہیں جن کی محبت واجب ہے؟"
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
[عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَوُلْدَاهَا]
یعنی: "علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے۔"
(تفسیر در منثور، صفحہ 348، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

اہلِ بیت کے فضائل بزبانِ مصطفیٰ ﷺ

احادیثِ مطہرہ میں حضور اکرم ﷺ نے اہلِ بیتِ کرام کے فضائل و مقامات خوب بیان فرمائے اور ان کی محبت و مودت کا حکم دیا۔ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے بھی ان کی شان میں پاکیزہ کلمات ارشاد فرمائے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام و اکرام کا برتاؤ کیا، جو ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس سلسلے میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ کریں تاکہ قلوب میں محبتِ اہلِ بیت کی شمع روشن ہو اور دشمنانِ اہلِ بیت کے مکر و کید سے حفاظت ہو:

١) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: «أَحِبُّوا اللّٰهَ لِمَا يَغْذُوْكُمْ بِهٖ مِنْ نِعْمَةٍ، وَأَحِبُّونِيْ لِحُبِّ اللّٰهِ، وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِيْ لِحُبِّيْ»
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ سے محبت کرو کہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے، اور مجھ سے اللہ کی محبت کے سبب محبت کرو، اور میرے اہلِ بیت سے میری محبت کے لیے محبت کرو۔"
(سنن ترمذی، ابواب المناقب، حدیث نمبر: 3796)

٢) عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «كُنَّا نَلْقَى النَّفَرَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُوْنَ فَيَقْطَعُوْنَ حَدِيْثَهُمْ... وَاللّٰهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيْمَانُ حَتّٰى يُحِبَّهُمْ لِلّٰهِ وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّيْ»
ترجمہ: حضرت عباس بن عبد المطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "ہم لوگ قریش کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرتے، وہ بات کرتے کرتے رک جاتے۔ تو اس کا ذکر ہم نے حضور اقدس ﷺ سے کر دیا۔ سرکار ﷺ نے فرمایا: 'ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ بات کرتے کرتے رک جاتے ہیں؟ پھر جب میرے اہلِ بیت سے کوئی ان کے پاس سے گزرتا ہے تو اپنی بات بند کر دیتے ہیں۔ خدا کی قسم! کسی آدمی کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ میرے اہلِ بیت سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کے سبب محبت نہ کرے۔'"
(جمع الجوامع، لجلال الدین السیوطی، صفحہ: 528)

٣) عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺ قَالَ: «الْزَمُوْا مَوَدَّتَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَإِنَّهُ مَنْ لَقِيَ اللّٰهَ وَهُوَ يُوَدُّنَا دَخَلَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِنَا، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ، لَا يَنْفَعُ عَبْدًا عَمَلُهٗ إِلَّا بِمَعْرِفَةِ حَقِّنَا»
ترجمہ: حضرت امام حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے لوگو! ہم اہلِ بیت کی محبت کو لازم کر لو، کیونکہ جو اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ وہ ہم اہلِ بیت سے محبت کرتا ہے، تو وہ ہماری شفاعت کے صدقے جنت میں جائے گا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، کسی شخص کو اس کا عمل اسی وقت فائدہ دے گا جب کہ وہ ہمارا حق پہچانے۔"
(المعجم الأوسط، للطبرانی، حدیث نمبر: 2230، صفحہ: 360)

٤) وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِيْ مَثَلُ سَفِينَةِ نُوْحٍ ۚ مَنْ رَكِبَهَا سَلِمَ، وَمَنْ تَرَكَهَا غَرِقَ»
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میرے اہلِ بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی سی ہے، جو اس میں سوار ہوا وہ نجات پا گیا، اور جو اس سے پیچھے رہا وہ غرق ہو گیا۔"
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، جلد: 9، صفحہ: 168، حدیث: 14985)

ان احادیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اہلِ بیت کی محبت جنت تک لے جائے گی اور رب تعالیٰ سے شفاعت و بخشش بھی دلائے گی۔

اقوالِ بزرگانِ دین اہلِ بیت کے متعلق

اس حصے میں ہم برصغیر پاک و ہند کے اکابر علماء اور بزرگانِ دین کے اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے بارے میں ارشادات نقل کریں گے:

1) حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت وہ حضرات ہیں جن کی طہارت ازل سے مخصوص ہے۔ ان میں ہر فرد طریقت میں جامع و کامل تھا۔ مشائخِ طریقت اور صوفیہ کے ہر عام و خاص فرد کے یہ امام رہے ہیں۔"
(کشف المحجوب، اردو، صفحہ: 115)

2) امام ربانی مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ہم کہتے ہیں کہ یہ گمان کیسے کیا جا سکتا ہے کہ اہلِ سنت کو اہلِ بیت سے محبت نہیں، جب کہ یہ محبت ان بزرگوں کے نزدیک جزوِ ایمان ہے، اور خاتمہ کی سلامتی اس محبت کے راسخ ہونے پر موقوف ہے۔ اہلِ بیت کی محبت تو اہلِ سنت کا سرمایہ ہے، مگر مخالفین اس حقیقت سے غافل اور اہلِ بیت کی محبت سے جاہل ہیں۔ انہوں نے جانبِ افراط کو اختیار کیا اور افراط کے علاوہ کو تفریط خیال کرکے خروج کا حکم لگا دیا، اور سب کو خارجی سمجھ لیا۔ یہ نہیں جانتے کہ افراط و تفریط کے درمیان ایک حدِ وسط ہے، جو مرکزِ حق اور موطنِ صدق ہے، اور جو اہلِ سنت کو نصیب ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔"
(مکتوباتِ امام ربانی، جلد: 4، صفحہ: 79، مکتوب: 36)

3) شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"میں نے ارواحِ اہلِ بیتِ نبوت کو خطیرۃ القدس میں نہایت کامل اور حسین صورت میں مشاہدہ کیا ہے، اور یہ سمجھا ہے کہ جو شخص انہیں برا جانے، وہ بڑے خطرے میں ہے۔"
(سفینۂ نوح، صفحہ: 33)

4) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"صوفیۂ اہلِ سنت کے تمام سلاسلِ طریقت ائمۂ اہلِ بیت پر منتہی ہوتے ہیں، لہٰذا یہ حضراتِ اہلِ بیت جمیع فرقِ اہلِ سنت کے پیر و مرشد ہیں۔ اور جاننا چاہیے کہ اہلِ سنت کے نزدیک پیر و مرشد کی عظمت و وقعت کس مرتبے پر ہے، اور وہ اپنے پیروں سے کس قدر عقیدت و محبت رکھتے ہیں کہ ان کے بغض و اہانت کو ارتدادِ طریقت جانتے ہیں۔ پس انصاف سے غور کرنا چاہیے کہ اس تعلق کی بنا پر اہلِ سنت کو اہلِ بیتِ نبوت سے کس قدر عقیدت و محبت ہوگی۔ لہٰذا بغضِ اہلِ بیت کی نسبت اہلِ سنت کی طرف کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی نور کو ظلمت اور آفتاب کو تاریک کہے۔"
(سفینۂ نوح، صفحہ: 33)

5) محبوبِ یزدانی، حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ اہلِ سنت والجماعت دس امور کے معتقد ہیں: اول، دونوں پیروں؛ یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما کی افضیلت کے قائل ہیں۔ دوم، دونوں دامادوں؛ یعنی حضرت عثمانِ غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کی بزرگی کو تسلیم کرتے ہیں۔"
(لطائفِ اشرفی، لطیفہ: 33، صفحہ: 220)

6) امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"یہ فقیرِ ذلیل، بحمدہ تعالیٰ، حضراتِ ساداتِ کرام کا ادنیٰ غلام اور خاکِ پا ہے، اور ان کی محبت و عظمت کو ذریعۂ نجات و شفاعت جانتا ہے۔"
(فتاویٰ رضویہ، جلد: 14، صفحہ: 408)

خلاصۂ کلام

اب اگر روئے زمین پر کوئی ایسا شخص ہو جو اہلِ بیت کی محبت کا دم بھرتا ہو، مگر اہلِ بیت سے محبت کرنے والے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو گالیاں دیتا ہو، یا کسی صحابیِ رسول کے تعلق سے خوش اعتقاد ہو، مگر اہلِ بیتِ اطہار کے تعلق سے دل میں کوئی کجی رکھتا ہو، تو ایسا شخص اسلام کی صحیح تعلیمات سے دور اور بارگاہِ رسالت میں مجرم ہے۔

ہم اہلِ سنت، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عقیدت و محبت کے جس طرح دم بھرتے ہیں، اسی طرح اپنے دلوں میں اہلِ بیتِ نبوت کی محبت و مودّت کا چراغ بھی روشن رکھتے ہیں۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترتِ رسول اللہ کی
اس شعر میں امام احمد رضا خان قدس سرہٗ نے حدیثِ «أصحابي كالنجوم» اور حدیثِ «مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ»، دونوں کی طرف لطیف اشارہ فرمایا ہے۔

اے عزیز دوستو! ہمیں چاہیے کہ ہم اصحابِ رسول ﷺ اور عترتِ رسول ﷺ، دونوں سے محبت کریں، اور کسی کی شان میں ادنیٰ سی بھی گستاخی نہ کریں؛ نہ اہلِ بیت کی آڑ میں کسی صحابی کی گستاخی کریں، اور نہ کسی صحابی کی محبت کے نام پر اہلِ بیتِ اطہار کی بے ادبی کریں۔ اسی اعتدال اور محبت میں ہمارے لیے راہِ نجات ہے۔

اللہ کریم ہمیں اصحابِ حضور ﷺ اور عترتِ رسول ﷺ کی سچی، پکی اور دائمی محبت عطا فرمائے، اور ان کے صدقے ہماری دنیا و آخرت سنوار دے، نیز بروزِ قیامت ہمیں ان کے غلاموں میں اٹھائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْأَمِیْن ﷺ

ایک تبصرہ شائع کریں