اس مضمون میں محمد سلیم رضا مدنی نے شیخ ناصر الدین البانی کی حدیث پر حکم لگانے میں تضاد بیانی کی ایک مثال پیش کی ہے اور محدثین کے اقوال کے ساتھ اس کی و
حدیث پر حکم لگانے میں شیخ البانی کی تضاد بیانی
✍️ قلمکار مولانا سلیم رضا مدنی 📝 موضوع حدیث پر حکم لگانے میں شیخ البانی کی تضاد بیانی 🏢 ادارہ دعوتِ اسلامی ہند
حدیث پر حکم لگانے میں شیخ البانی کی تضاد بیانی
شیخ البانی فرقۂ وہابیہ کے نزدیک ایک مستند محدث مانے جاتے ہیں، اور ان پر آنکھ بند کر کے ایسا اعتماد کرتے ہیں، گویا کہ وہ کوئی متقدم محدث گزرے ہوں ،جب کہ سچ یہ ہے کہ محدث کے شرائط پر وہ کھرے نہیں اترتے ، جس کی سب سے بڑی وجہ ان کی نسیان، اور عدم یاد داشت ہے۔ متعدد کتابوں کو سامنے رکھ کر جمع مواد تو کرلیتے ہیں، مگر ان کو کیسے برتنا ہے ، اور تحکیمِ حدیث کی نازکیوں کو کیسے سلیقے سے دیکھتے ہوئے، کسی نتیجے تک پہنچنا ہے، اس میں وہ فیل نظر آتے ہیں۔
ایک دو نہیں، بلکہ کثیر احادیث ہیں، کہ کسی کتاب میں ان کی تحکیم پر ضعیف یا موضوع ہونے کا قول کیا، جب کہ دوسری جگہ خود ہی اپنا لکھا ہوا بھول گئے، اور اسی کی تحکیم میں کسی دوسری کتاب میں صحیح ہونا درج کردیا، یوں جگہ جگہ خود ہی اپنی تضاد بیانی کے جال میں وہ پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں، ساتھ ہی ان کے ذہن وفکر پر ”ہمچوں من دیگرے نیست“ کا خمار چڑھا ہوا نظر آتا ہے، کسی جگہ اپنی تحقیق کے برخلاف کوئی ب…