مزید اپڈیٹس کا کام جاری ہے! اپنے مشورے دیجیے ہم سے رابطہ کریں!

طلبہ چھٹیاں کیسے گزاریں؟ — دینی، علمی اور عملی مکمل رہنمائی

طلبہ اپنی چھٹیوں کو ضائع نہ کریں بلکہ مطالعہ، تحریر، دینی کام، تقریر اور علمی ترقی کے ذریعے قیمتی بنائیں۔ طلبہ کے لیے مکمل اسلامی رہنمائی۔
طلبہ اپنی چھٹیوں کو ضائع نہ کریں بلکہ مطالعہ، تحریر، دینی کام، تقریر اور علمی ترقی کے ذریعے قیمتی بنائیں۔ طلبہ کے لیے مکمل اسلامی رہنمائی۔
✍️ قلمکار
مولانا عمران رضا عطاری مدنی بنارسی
📝 موضوع
طلباء چھٹیاں کیسے گزاریں؟؟؟
🏢 ادارہ
المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی انڈیا

طلبہ چھٹیاں کیسے گزاریں؟

دینی مدارس اور جامعات میں عموماً 14 شعبان المعظم سے سالانہ تعطیلات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد عید الفطر تک تقریباً پونے دو ماہ کا عرصہ طلبۂ کرام کے لیے ایک نہایت قیمتی اور سنہرہ موقع ہوتا ہے۔ اگر اس مدت میں وہ ارادہ، شعور اور منصوبہ بندی کے ساتھ وقت کو بروئے کار لائیں تو علمی، دینی اور اخلاقی اعتبار سے بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، اگر غفلت اور بے توجہی سے کام لیا گیا تو یہ قیمتی لمحات بھی گردشِ ایام کی طرح خاموشی سے گزر جائیں گے اور ہاتھ میں سوائے حسرت و ندامت کے کچھ نہ آئے گا۔
لہذا طالبانِ علوم نبویہ کی بارگاہ میں گزارش ہے کہ ان چھٹیوں کے ایام کو علم و عمل اورشعور و آگاہی میں اضافے کا سبب بنائیں ، ذیل میں چند چیزیں مذکور ہیں، جن پر عمل کرکے آپ اپنی تعطیلات کا بہترین استعمال کرسکتے ہیں۔ ویسے بھی ہمیں حکم فرمایا گیا ہے: فراغت کو مصروفیت سے پہلےغنیمت جانو۔
(تاريخ داريا، ص:٩٧)

❶ مطالعہ

بہت ساری کتب ایسی ہیں کہ طلبہ ایامِ درس میں ان کا مطالعہ نہیں کرپاتے، ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ چھٹیاں بہترین وقت ہیں ۔ اسی طرح اپنی علمی صلاحیت و قابلیت میں اضافے کے لیے ہر فن کی متعلقہ کتب کو پڑھ لیں ، جیسے علمِ نحو و صرف، بلاغت و منطق، تفسیر و حدیث ، فقہ و فتاویٰ وغیرہ ۔ تاکہ آپ کی بنیاد مضبوط سے مضبوط ہو ۔ خاص طور پر وہ مسائل اچھی طرح پڑھیں اور سمجھیں جو لوگوں سے زیادہ تعلق رکھتے اور زیادہ پوچھے جاتے ہیں۔

مشورۃ ً چند کتب کے نام:
تفسیر نور العرفان ،تفسیر تعلیم القرآن ،فتاویٰ رضویہ ،فتاویٰ فیض الرسول ،فتاویٰ بحر العلوم ،جاء الحق ،اسلام اور عصر حاضر کے مذاہب کا تقابلی جائزہ ،اسلام زندہ باد ،مکاشفۃ القلوب ،منہاج العابدین ،غنیۃ الطالبین ،افضل کون ،احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف وغیرہ ذٰلک۔

❷ تحریری کام

ایامِ تعطیل میں طلبہ کچھ نہ کچھ تحریری مشق کرتے رہیں ، اپنے خیالات وافکار کو سپردِ قرطاس کریں ، اپنے شہر، محلہ، گاؤں کے حالات پر مختصر مضامین تحریر کریں ، ابتدائی طلبہ بزرگوں کی کتب سے مختصر مختصر پیراگراف اٹھاکر اختصاراً لکھیں، اسلاف کی کتب سے تسہیلاً مختصر مضمون تیار کریں ، کسی خاص موضوع پر چند نکات جمع کرکے بھی لکھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ بڑے درجے کے طلبہ تحقیقی مضامین لکھنے کی کوشش کریں۔ لکھنے کی ہزاروں جہتیں ہیں جتنا غور کریں گے، اتنی زیادہ جہتیں واضح ہوتی جائیں گی۔ بس یہ ٹھان لیں کہ مجھے تعطیل کے ایام میں روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور لکھنا ہے۔

❸ دینی کام

یاد رکھیے کہ علمِ دین سیکھنے کا جہاں یہ مقصد ہوتا ہے کہ مجھے اپنی اصلاح کا سامان کرنا ہے، وہیں یہ بھی مقصد ہے کہ مجھے اپنے علم کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کرنا ہے، جہالت کی تاریکی دور کرنا ہے، اپنے معاشرے کو بہترین بنانا ہے، جرائم و خرافات ، لڑائی جھگڑے ختم کرکے لوگوں کو دینِ مصطفیٰ کا پابند بنانا ہے، اس کے لیے بہترین وقت ہے کہ آپ شعبان اور رمضان میں اپنے علاقوں اور محلوں میں دینی کام کریں ، نیکی کی دعوت عام کریں ، برائی سے منع کریں ، جہاں جائیں خود بھی شریعت کے پابند رہیں اور دوسروں کو بھی پابند بننے کا ذہن دیں ، بے نمازیوں کو نماز کی دعوت، بد اخلاقوں کو حسنِ اخلاق کی دعوت، نافرمانوں کو والدین کا فرماں بردار بننے کی دعوت، جاہلوں کو علم سیکھنے کی دعوت، روزہ نہ رکھنے والوں کو روزے کی پابندی کی دعوت دیں اور اللہ کا نام لے کر شروع کریں ، ان شاء اللہ الکریم رب تعالی خود آپ کا حامی و ناصر ہوگا، اسی کا ارشاد ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم دینِ خدا کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جمادے گا ۔
(پ26، سورہ محمد:7)

جب آپ اپنے علاقوں ، محلوں میں غور کریں تو کئی ایسے افراد ذہن میں آئیں گے جو گناہوں میں مبتلا ہیں، یہ ہدف بنالیں کہ ان سب کو برائی سے روکنا ہے۔ ان شاء اللہ

❹ تقریر و بیان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ.
نیکی کی طرف راہنمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی طرح ہے ۔ (مسند احمد : 22360)

اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا :
بَلِّغُوْاعَنِّیْ وَ لَوْ آیَۃ.
پہنچادو میری طرف سے اگر چِہ ایک ہی آیت ہو ‘‘۔ (مصنف عبد الرزاق:١٠١٥٧)

اشاعتِ علم، اصلاح ِ ناس، اور حصولِ ثواب کا ایک بہترین ذریعہ ہے کہ آپ تقریر (بیان) کریں ، جمعہ ، جلسہ، اجتماع میں، اور اس طرح کی دیگر محافل میں بیان کریں ، ابتداء میں شرم، جھجھک ہوگی، مگر اس کی وجہ سے پیچھے نہیں ہٹنا، ایک دن آپ اچھا بولنے والے بن کر سامنے آئیں گے۔ ایک بات یاد رکھیے کہ کوئی شخص مقرر و مبلغ بن کر دنیا میں نہیں آتا، بلکہ یہ سب کوششوں سے آتا ہے، بس کوشش کرتے جائیں ، کوشش ترقی کا زینہ ہے۔
اپنے علاقے کی مساجد میں ،عوامی بیٹھک اور اس طرح لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ خود کوشش کرکے پروگرام رکھوائیں اور بیان کریں، اس انتظار میں نہ رہیں کہ مجھے کوئی بلائے تو میں جاؤں اور بیان کروں، بلکہ از خود کوشش کریں !

❺ لوگوں سے روابط

مدارس و جامعات میں تعلیمی مصروفیات کے سبب طلبہ ان ایام میں زیادہ لوگوں سے گھل مل نہیں پاتے، اس لیے چھٹی کے ایام میں لوگوں میں گھل مِل کر وقت گزاریں ، ان کے عرف و عادات کو نوٹ کریں ، اور اس کو محسوس کریں کہ فی زمانہ لوگوں کو کس چیز کی ضرورت ہے، کس انداز میں لوگوں میں دینی کام کیا جاسکتا ہے، کب کیا اور کیسے بات کرتے ہیں، کس طرح کے افراد سے رابطہ رکھنا ہوتا ہے وغیرہ سیکھئے، تاکہ جب آپ علم سیکھ کر میدان میں آئیں تو سوجھ بوجھ ہو اور اچھے انداز میں اسلام کی خدمات انجام دے سکیں، ایسا نہ ہو کہ لوگوں کی عادت و اطوار سے انجان ہوں، اور بجائے فوائد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔

اللہ پاک عمل کی توفیق بخشے ، آمین
Cookie Consent
We serve cookies on this site to analyze traffic, remember your preferences, and optimize your experience.
NextGen Digital واٹس ایپ چیٹ پر آپ کو خوش آمدید
السلام علیکم ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہئں؟?
Type here...