رقم طراز:
محمد بلال قادری (متعلم: جامعۃ المدینہ فیضان عطار ناگ پور)
مسئلۂ باغ فدک اور مذہب اہل سنت
معزز قارئین! پیارے آقا ﷺ کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان بڑی عظیم و برتر ہے صحابیِ رسول ہونا ایک بڑے ہی اعزاز کی بات ہے کوئی ولی کتنی ہی نیکیاں کیوں نہ کر لے، کسی صحابی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا ، صحابہ میں ایک ذات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بھی ہے، جو کہ تمام انبیاء کے بعد افضل البشر ہیں ،جن کی شان میں قرآن کریم میں کئی آیات موجود ہیں، مگر کچھ بدنامِ زمانہ روافض، آپ کی شان کو مطعون کرتے اور آپ کی عظمت کو گھٹانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑتے ،لہذا آپ کی ذات کو مطعون کرنے کے لیے ایک مسئلہ "باغ فدک" لاتے ہیں،اور دعوی کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ظلم و ستم کیا اور آپ کا حق دبایا ، آئیے! ہم باغ فدک کے بارے میں جانتے ہیں کہ ان کی اس بات کی اصل اور حقیقت کیا ہے ؟
باغ فدک کیا ہے اور کہاں ہے-؟
فَدَک(دال اور فاء کے فتح کے ساتھ) خیبر سے آگے تقریباً ٣٠ میل دور واقع ہے، یہ ایک ایسی زمین تھی جس میں کثیر باغات تھے، جو کفار نے مغلوب ہو کر بغیر لڑائی کے مسلمانوں کے حوالے کر دیا تھا ۔
(حضورﷺ کی ملکیت میں کب آیا) بنونضیر کے کچھ یہودی اہل خیبر کے پاس چلے گئے،وہاں جا کر، انہیں بھی مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جس کے نتیجے میں سن سات ٧ ہجری میں ان کی مسلمانوں سے جنگ ہوئی،تین دن کے محاصرے اور لڑائی کے بعد قلعۂ خیبر کے یہودیوں کو عبرت ناک شکست ہوئی،جس سے مال غنیمت میں کچھ زمینیں اور باغات ہاتھ آئے، اور قریبی قبائل والوں نے بھی شکست کے خوف سے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے ،فدک کے یہودیوں نے بھی جنگ خیبر میں یہودیوں کی عبرت ناک شکست سن کر لڑائی سے بچتے ہوئے حضور ﷺکی بارگاہ میں صلح کا پیغام بھیج دیا،جس کے بعد کچھ باغات اور زمین مسلمانوں کی قبضے میں آئیں ۔ (تحفہ حیدریہ ،ج١،ص٢٩٣)
مال فیء کیا ہے ؟
پیارے قارئین! ہم نے پڑھا کہ باغ فدک حضورﷺ کی ملکیت میں بغیر لڑے بغیر جنگ و جدال کے حاصل ہوا تھا،یاد رکھیے! ہر وہ مال جو بغیر جنگ و قتال کے حاصل ہو مال فیء کہلاتا ہے چناں چہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقات المفاتح شرح مشکاۃ المصابیح میں فرماتے ہیں :
وفي المفاتيح، الفىء المال الذي يؤخذ من الكفار بلا قتالٍ .
ترجمہ -: مفاتیح میں ہے:فیء وہ مال جو کفار سے بغیر قتال کے حاصل ہو ۔
(مرقات المفاتح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الاماروالقضا ،ج٦،ص٢٦٣٣ دارل الفکر بیروت)
یہ بات ذہن نشین رکھیے ! کہ باغ فدک بغیر جنگ و قتال کے حاصل ہوا تھا اور ہر وہ مال جو بغیر لڑے حاصل ہو مال فیء کہلاتا ہے ، معلوم ہوا کہ باغ فدک مال فیء ہے ، اللہ پاک قرآن مجید میں مال فیء کا حکم (مصارف) بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ- كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْؕ-وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۚ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (7)
جو غنیمت دلائی اللہ نے اپنے رسول کو شہر والوں سے وہ اللہ اور رسول کی ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے کہ تمہارے اغنیا کا مال نہ ہوجائے اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے
۔ (سورہ حشر آیت 7)
نیز اصول وراثت میں ہے: جو مال کفار سے بغیر جنگ و جدال کے حاصل کیا جاتا ہے جزیہ اور ذمی کے مال کی طرح،اس کا کوئی وارث نہیں ہوتا ،بلکہ یہ مال مسلمانوں کے نفع اور عمومی مصارف کے لیے بیت المال میں رکھا جاتا ہے
{اصول وراثت ص٣٠}
معزز قارئین ! ہم نے پڑھا کہ مال فیء مسلمانوں کے منافع میں خرچ ہوگا ،اور قرآن پاک میں اس کے مصارف بھی بیان ہوئے ،حضورﷺ حکم خداوندی کے مطابق اس کی آمدنی اپنے اہل و عیال، ازواجِ مطہرات وغیرہ پر صرف فرمایا کرتے تھے اور تمام بنی ہاشم کو بھی اسی آمدنی سے کچھ مرحمت فرماتے،جہاد کے لیے اونٹ، تلوار وغیرہ بھی اسی مال سے خریدا کرتے، جب حضور ﷺ کا وصال ظاہری ہو گیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، تو آپ بھی ان اموال کی آمدنی کو انہی مصارف میں خرچ فرماتے، جس میں حضورﷺ صرف فرمایا کرتے تھے ۔ خلفاء ِاربعہ کے زمانے تک یوں ہی چلتا رہا ۔ باغ فدک کی اس تاریخ سے معلوم چلتا ہے کہ مسئلہ کچھ بھی نہ تھا ، مگر روافض نے بلاوجہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو الزام لگا کر مطعون کیا ۔ (محرم الحرام اور عقائد و نظریات ،ص٧٢،٧٣)
روافض صحابۂ کرام کی شان میں گستاخی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور بالخصوص باغ فدک کو لے کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور آپ کی ذاتِ بابرکات کو عوام کے سامنے ظالم و غاصب بنا کر پیش کرتے ہیں، ان کے باغ فدک کو لے کر دو دعوے ہیں اور دونوں ہی متضاد اور فساد پر مبنی ہے۔
آئیے ! اب ہم ان کے دعوے کوذکر کر کے دلائل کی روشنی میں باطل کرتے ہیں:
(1) پہلا دعوی : حضور ﷺ نے باغ فدک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو ہبہ کر دیا تھا ۔
جواب: یہ دعوی بے ثبوت ہی نہیں، بلکہ کئی وجوہ سے باطل بھی ہے ! مخالفین آج تک وقت ہبہ کا صحیح تعین ہی نہیں کر سکے، کہ آیا ہبہ مکی زندگی میں ہوا ،یا مدنی زندگی میں ؟ فدک کی فتح کے فوراً بعد ہوا یا وقتِ وصالِ نبویﷺ؟ اگر یہ کہیں کہ"مکی یا ابتدائی مدنی زندگی میں ہوا تھا"تو یہ دعوی ہی باطل ہے،بھلا فتح فدک اور اس کے قبضہ سے پہلے ہبہ کیسا؟ اور اگر کہیں کہ" فدک کی فتح کے فوراً بعد ہوا"تو کتاب و سنت میں اس کے دوسرے مصارف میں استعمال کرنے کا ثابت ہونے کی وجہ سے یہ بھی باطل،اور اگر یہ کہاں جائے کہ"وقتِ وصال ہبہ ہوا تھا" تو غیر ثابت و غیر مشہود ہونے کی وجہ سے یہ بھی منقوض۔ (تحفہ حیدری ،ج١،ص٣٠٦)
حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کا زمانہ جب آیا تو انھوں نے بنی مروان کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ فدک رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، جس کی آمدنی وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ فرماتے اور بنو ہاشم کو پہنچاتے تھے اور اس سے مجرد مرد و عورت کا نکاح بھی کرتے تھے، ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ فدک انہیں کے لیے مقرر کر دیں تو حضور ﷺ نے انکار فرما دیا ، لہذا اسی طرح آپ کی زندگی بھر رہا، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی ،پھر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، تو انھوں نے فدک میں ویسا ہی کیا جیسا کہ حضورﷺ نے کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی رحلت فرما گئے، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انھوں نے ویسا ہی کیا ،جیسا کہ حضورﷺ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا ، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے ( اپنے دور میں) فدک کو اپنی جاگیر میں لے لیا ، یہاں تک کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کی جاگیر بنا۔ پس میں نے دیکھا کہ جس چیز کو حضور ﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہ کو نہیں دیا ،اس پر میرا حق کیسے ہو سکتا ہے لہذا میں آپ لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے فدک کو اسی دستور پر واپس کر دیا ،جس دستور پر کہ وہ پہلے تھا یعنی حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر وحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے زمانہ مبارکہ میں ۔ (سنن أبي داود،باب في صفايا رسول الله ﷺ من الأموال،ح2972،ج3 ،ص104 )
(2) دوسرا دعوی : مخالفین کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس اور ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ جب یہ آیت (وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ )ترجمہ (رشتہ داروں کو ان کا حق دے)(سورہ بنی اسرائیل آیت ٢٦) نازل ہوئی تو حضور ﷺنے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بلا کر"باغ فدک" انہیں سونپ دیا۔
جواب: یہ روایت سند اور متن دونوں لحاظ سے باطل اور من گھڑت ہے
{١} یہ آیت(وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ) مکی ہے، جو قبل از ہجرت نازل ہوئی،جب کہ فدک تو خیبر کے بعد ہجرت کے ساتویں سال فتح ہوا،چناں چہ فدک کا ہبہ ناممکن ہے،حالاں کہ اس آیت کا دوبارہ مدینہ میں نازل ہونا بھی ہرگز ثابت نہیں ،لہذا ہبہ والی بات تو محض رافضی گھرت ہے ۔(تفسیر ابن کثیر، سورہ اسراء ٢٦،ج٥،ص٦٧،٦٨)
{٢} اعتبار سند: روایت ابن عباس"اس روایت کو محمد بن سائب کلبی نے ابو صالح سے اور اس نے جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا"،چناں چہ یہ سند سخت مجروح ہے۔ کیوں کہ اس کا مرکزی راوی"محمد بن سائب کلبی" ہے جس کے متعلق علماء رجال کی چند مرکزی آراء درج ذیل ہیں:
• لیس بن ابی سلیم کہتے ہیں کہ"کوفہ میں دو کذاب تھے ایک کلبی اور دوسرا سدی ۔
• امام عقیلی کہتے ہیں کہ کلبی عبداللہ بن سائب رافضی کے گروہ میں سے تھا ۔
• امام دار قطنی نے کہا: کلبی متروک ہے ۔
• امام ساجی نے کہا:کلبی غالی شیعہ،ضعیف اور متروک ہے ۔(تحفہ حیدریہ،ج١،ص٣١٤)
بالفرض اگر ہبہ والی بات مان بھی لی جائے تو فریقین کے نزدیک مسلم شدہ ہے کہ ، جب تک موہوبہ شے پر موہوب لہ کا قبضۂ تصرف نہ ہو جائے وہ چیز موہوب له کی ملک نہیں ہو سکتی اور قبضہ سے پہلے ہبہ کرنے والا انتقال کر جائے تو ہبہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور فدک بالاتفاق حضورﷺ کی حیات ظاہری میں کبھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے قبضے میں نہیں آیا حضورﷺ ہی کی ملکیت میں رہا اور آپ ہی اس میں مالکانہ تصرف فرماتے رہے۔جب قبضے کے بغیر ہبہ مکمل نہیں ہوتا اور موہوب له کی ملکیت میں نہیں جاتا تو بالفرض باطل اگر ہبہ کرنا ثابت بھی ہو جائے تب بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی کہ بالاتفاق قبضہ نہیں ہوا ۔
(محرم الحرام اور عقائد و نظریات،ص ٧٧)
(3) دوسرا دعوی : باغ فدک حضور ﷺ کی ملکیت تھا،بعد وصال حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو بطور میراث ملنا چاہیے تھا ۔
جواب: شيخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :فیء کا حکم یہ ہے کہ وہ عام مسلمانوں کے لیے ہے،اور اس کی تولیت حضورﷺ کے لیے ہے۔ (اشعۃ اللمعات،کتاب الجہاد،باب الفیءج٣،ص٤٤٦)
فدک مال فیء تھا اور مال فیء وقف ہوتا ہے، کسی کی ملکیت نہیں ہوتا ، اس لیے حضورﷺ اس کی آمدنی قرآن کی تصریح کے مطابق خرچ فرماتے تھے، اور مال وقف میں میراث جاری ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔(محرم الحرام اور عقائد و نظریات ص ٨٠)
انبیاء کرام کسی کو مال کا وارث نہیں بناتے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضورﷺ کے وصال فرمانے کے بعد ازواج مطہرات نے چاہا کے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ذریعے حضور ﷺکے مال سے اپنا حصہ تقسیم کروائیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ. ترجمہ : کیا حضورﷺ نے یہ نہیں فرمایا : ہم کسی کو اپنے مال کا وارث نہیں بناتے، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے ۔
(البداية والنهاية،باب بيان أنهﷺقال لا نورث،ج٨،ص١٨٥)
بخاری و مسلم میں حضرت مالک بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ مجمع صحابہ جن میں حضرت عباس ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ، حضرت زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں! جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے، ہم جو چھوڑیں وہ صدقہ ہے، تو ان لوگوں نے کہا کہ بے شک رسول کریم ﷺ نے ایسا فرمایا ہے پھر وہ ،حضرت علی و ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کہ میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایسا فرمایا ہے، انہوں نے کہا کہ ہاں حضورﷺ نے ایسا فرمایا ہے۔(معرفة السنن والآثار،باب قسم الفيء والغنيمةح١٢٩١٠،ج٩،ص٢١٤)
پیارے قارئين !ان تمام شواہد سے خوب واضح ہو گیا کہ انبیائے کرام کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی اسی لئے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سیدہ کو باغ فدک نہیں دیا نہ کہ بغض و عداوت کے سبب جیسا کہ رافضیوں کا الزام ہے۔(محرم الحرام اور عقائد و نظریات، ص٨٤)
معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وراثت کے طور پر کچھ دینے سے منع کیا ،لیکن سہم ذوی القربہ کے متعلق یوں وعدہ کیا کہ: اللہ کی قسم! صدقاتِ نبوی کی تقسیم کا جو طریقۂ کار عہدِ نبویﷺ میں تھا،میں اسے ہرگز نہیں بدلوں گا،بلکہ میں بھی اسی طرح عمل کروں گا ،جس طرح جناب رسول ﷺ کیا کرتے تھے۔ (تحفہ حیدریہ ،ج١،ص٣٣٩)
نیز جناب صدیق اکبر نے جناب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو اپنے تمام مال کی پیش کش کر دی، جس کا ثبوت خود شیعہ کی بیشتر کتب میں یوں ہے کہ : ابوبکر نے سیدہ سے کہا: میری تمام جائیداد میں آپ کو اختیار ہے جو چاہیں بلا روک ٹوک لے سکتی ہیں ، آپ حضور کی امت کی سردار ہو،آپ کی فضیلت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا،آپ کا حکم میری ساری جائیداد پر نافذ ہے،لیکن مسلمانوں کے مال میں حکم ِرسول کی نافرمانی ہرگز نہیں کر سکتا۔ (تحفہ حیدریہ،ج١،ص٣٣٩،حق الیقین ص٣٢٧)
مزید یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذات کریمہ سے اس بات کا تصور بھی کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ کہ آپ حضور ﷺ کی دختر عرض مند حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ستائیں ،ان کا حق دبائیں اور ان پر ظلم و زیادتی کریں، جب کہ آپ جلیل القدر صحابی رسول ﷺ ہیں ،اور یہ بات یاد رکھیے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی صداقت و عدالت پر کئی احادیث مبارکہ اپنے جلوے لٹا رہی ہیں:
یہ بھی ذہن نشین رکھیے کہ آپ انبیاء کرام علیہم الرضوان کے بعد تمام لوگوں میں سب سے افضل بشر ہیں ۔ حضور ﷺ اور آپ کی آل سے بے پناہ محبت کرنے والے ہیں، آپ کے فضائل پر بے شمار احادیث مبارکہ موجود ہیں، آئیے! ان میں سے چند پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(1) جسے جہنم سے آزاد شخص کو دیکھنا ہو وہ "ابوبکر" کو دیکھ لے۔(الإصابة في تمييز الصحابة،ابن حجر عسقلانی ،ج٤،ص١٤٦،۔ جامع الأحاديث الجلال الدین السيوطي،مسند عائشة،ح٤٣١٠١،ج٤٠،ص٤٤)
(2) ابوبکر کی محبت اور ان کا شکر میری تمام امت پر واجب ہے۔(جمع الجوامع المعروف بـ الجامع الكبير،ج٤،ص٥٨٢)
(3) ابوبکر میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے شخص تم ہی ہو گے۔(شرح سنن أبي داود ،ج١٥،ص٥٢٠)
(4) (اے ابو بكر) تم آگ سے اللہ پاک کے ازاد کیے ہوئے ہو۔(سنن الترمذي،ح٣٦٧٨،ج٥،ص٦١٦)
(5) ابوبکر کو کسی پر فضیلت نہ دو کہ وہ دنیا اور آخرت میں تم سب سے افضل ہیں۔( حلية الأولياء وطبقات الأصفياء،ج٧،ص٢٦٤)
اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انبیاےکرام کے بعد تمام انسانوں،جنوں اور فرشتوں کے بعد آپ سب سے افضل ہیں۔(بہار شریعت ج١،ص٢٤١) اب ذرا آپ غور کریں !کیا جس کی یہ شان ہو وہ بھلا کسی پر ظلم و زیادتی کر سکتا ہے؟ کیا کسی کا حق دبا سکتا ہے ؟نہیں میرے پیارے ! آپ بھی یہی جواب دیں گے کہ ایسا شخص ہرگز ! ہرگز کسی کا حق نہیں دبا سکتا، ان دلائل سے ثابت ہوا کہ آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ پر کوئی ظلم و ستم نہیں کیا۔
اہل سنت کا نظریہ بھی یہی ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں کی، بلکہ آپ نے قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے "باغ فدک" حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو نہ دیا اور اللہ اور رسول کا فرمان سنایا جس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی راضی ہو گئیں۔