اکابر علما کا بازاری کھانوں سے پرہیز،
اکابر علما کا بازاری کھانوں سے پرہیز ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ علامہ برہان الدین زَرْنوجی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ طالبان علوم نبویہ کو پرہیزگاری کے حوالے سے نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک طالب علم کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو بازاری کھانے سے پرہیز کرے؛ کیونکہ بازاری کھانا انسان کو خباثت و گندگی کے قریب، اللہ عزوجل کے ذکر سے دور اور غفلت کا شکار کر بنادیتا ہے۔ اس لیے کہ بازار کے کھانوں پر غربا اور فقرا کی نظر یں پڑرہی ہوتی ہیں اور وہ اپنی غربت کی وجہ سے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو وہ آزرْدہ خاطِر ہوتے ہیں اور یوں اس سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ منقول ہے کہ شیخ امام جلیل، سید نا محمد بن فضل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ دوران تعلیم کبھی بھی بازار کا کھا نانہیں کھاتے تھے ، ان کے والد محترم گاؤں میں رہا کرتے تھے اور وہ ہر جمعہ کوان کے لیے کھانا تیار کر کے لے آتے تھے۔ایک مرتبہ جب وہ تشریف لائے تو اپنے صاحبزادے کے کمرے میں بازار کی روٹی دیکھی تو ناراض ہوگئے اور ان سے بات کرنا گوارا نہ کیا ۔ صاحبزادے نے معذرت کرتے ہوئے عرض کی کہ بازار سے میں نہیں لایا ہوں اور نہ میں اس …